دھوپ بھی نکلی ہوئی ہے بارشوں کے ساتھ ساتھ

272

بچپن کے دن یاد آرہے ہیں، جب بارش کے ساتھ ساتھ دھوپ بھی نکلی ہوتی تھی تو اس وقت بزرگ کچھ کہا کرتے تھے، یہ محض کہاوت تھی یا اصل بات، بہر حال اس بات کو یہیں چھوڑ دیتے ہیں اور آج کل کا جو سیاسی موسم ہے یہ بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہا ہے کہ بارش بھی ہے اور دھوپ بھی، اب اس کا مطلب لیا جائے؟ مطلب جو بھی اور کسی بھی زبان میں اس کا مطلب تلاش کیا جائے ہو سکتا ہے کہ ہمیں کوئی جواب مل جائے، یہ منظر کب تک رہے گا اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، یہ خیر بعد کی بات ہے ابھی تو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اونٹ بیٹھنا بھی چاہتا ہے یا نہیں، کسی نے کیا خوب کیا کہ اونٹ رہے اونٹ تیرے کون سی کل سیدھی، کس میں کیا جرأت کہ اونٹ کی کل سیدھی کرسکے، یہ نہیں ہوسکتی، اگر یہی حقیقت ہے تو پھر یہ سمجھ لیا جائے کہ طاقت ور اور کمزور ایک نیام میں نہیں رہ سکتے۔
وزیر اعظم مسلسل کہہ رہے ہیں کہ ہر طاقت ور این آر او مانگتا ہے، غریب جو مانگتا ہے اسے ملتا ہی نہیں، وزیر اعظم عمران خان، جب سے مسند وزارت عظمیٰ سنبھالے ہوئے ہیں ایک ہی بات اور تکرار کر رہے ہیں کہ این آر او نہیں دوں گا، یہ جو مریضوں کے لیے بیرون ملک سفر کی اجازت دی جاتی ہے، اور کابینہ میں کہانی جب سنائی جاتی ہے تو کئی وزراء کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں اور پھر بیرون ملک جانے کی اجازت مل جاتی ہے، جب مریض بیرون ملک چلے جاتے ہیں تو منہ پر ہاتھ پھیر کر وزیر اعظم کہتے ہیں کہ اب واپس آئو تو تجھے دیکھ لوں گا، یہ سب کچھ کیا ہے؟ پہلے ہاں اور پھر جب رد عمل آتا ہے تو ناں کرتے ہیں، وزارت عظمیٰ اس طرح چلتی ہے اور نہ کوئی حکومت۔ عمران خان جب وزیر اعظم بنے تو انہیں بہت طویل بریفنگ دی گئی تھی، جیسا کہ ہر وزیر اعظم کو دی جاتی ہے، اب وزیر اعظم پر منحصر ہے کہ وہ اس کا کتنا اثر لیتے ہیں اور اسے اپنے دماغ اور دل میں کس طرح بٹھائے رکھتے ہیں۔
عمران خان کی حکومت تین سال مکمل کرچکی ہے اور چوتھا سال شروع ہے، اور چوتھے سال کی پہلی سہہ ماہی بھی ڈھل رہی ہے اور دوسری سہہ ماہی شروع ہوا چاہتی ہے، جب چاند پہلی رات کو ہو تو اسے ہلال کہتے ہیں، پورا گول ہوجائے تو اسے بدر کرتے ہیں، اس کے بعد چاند آہستہ آہستہ ڈھلنا شروع ہوجاتا ہے اور پندرہ روز کے بعد نیا چاند طلوع ہوتا ہے، گویا ڈوبتے ڈوبتے بھی پندرہ روز لے ہی جاتا ہے، اس کا مطلب ہوا کہ جو لوگ یہ سمجھ رہے ہیں کہ ایک ہی واقعے کے نتیجہ میں حکومت ڈوب جائے گی نہیں ایسا نہیں ہوتا، چاند کی طرح یہ بھی ڈوبتے ڈوبتے کچھ وقت لے گی، ہاں مگر وقت حکومت کے ہاتھ سے ریت کی طرح نکل رہا ہے، تاریخ کی گواہی ہے کہ جب فرعون کے دربار میں ڈنڈے (عصا) کا مقابلہ جادو سے ہوا تو جیت ڈنڈے کی ہوئی تھی، اب بھی جادو کے سامنے ڈنڈا ہے، اور ہاں اس پر بھی کچھ بات ہوجائے کہ ملک میں چند ایک واقعات ایسے ہیں جو پہلی بار ہوئے، اس لیے کچھ عجیب منظر لگ رہا ہے۔ آئین کہتا ہے کہ پارلیمنٹ اپنی مدت مکمل کرے اور اس کے بعد انتخابات ہوں تو اس کے لیے تین ماہ کی مدت ہے اور اگر وزیر اعظم خود اسمبلیاں توڑ دیں تو یہ مدت کم ہوجاتی ہے، کچھ باتیں ذہن میں رہنی چاہییں کہ ہوسکتا ہے کہ عوام کو دوسرے آپشن کی وجہ سے انتخابی عمل میں جانا پڑ جائے۔
ایک لطیفہ سن لیں، ایک خاتون نے اپنے شوہر سے کہا کہ اگر وہ مر گئی تو کیا تم دوسری شادی کرو گے؟ خاوند نے جواب دیا کہ ایسی بات نہ کرو تم مرگئی تو میں پاگل ہوجائوں گا، خاتون نے پھر سوال دہرایا اور شوہر نے وہی جواب دیا، خاتون نے غصے میں کہا کہ سچ بتائو دوسری شادی کروں گے تو شوہر نے جواب دیا کہ میں نے کہا نہ کہ پاگل ہوجائوں گا اور پاگل آدمی کچھ بھی کر سکتا ہے، خاتون شوہر کا جواب سن کر سکتے میں آگئی۔ آج کل سیاست میں جو کچھ ہورہا ہے، ہمیں تو معلوم نہیں اگر ہمارے کسی قاری کو معلوم ہوتو ہمیں بھی بتا دے کہ کیا ہورہا ہے؟ اور یہ بھی جب دھوپ بھی ہو بارش بھی ہو رہی تو اسے کیا کہتے ہیں۔
دشمنوں سے بھی تعلق دوستوں کے ساتھ ساتھ
دھوپ نکلی ہوئی ہے بارشوں کے ساتھ ساتھ
کون ناپے گا سمندر کی طلسمی وسعتیں
کشتیاں تو چل رہی ہیں ساحل کے ساتھ ساتھ