سول ملٹری تعلقات‘ پاک امریکا تعلقات

302

پاکستان میں بعض اصطلاحات بہت گمراہ کن ہوتی ہیں جن کی وجہ سے انہیں بار بار سننے والے ان ہی کو حقیقت سمجھنے لگتے ہیں۔ ٹی وی پر ایک جملے کی تکرار ہوتی ہے۔ سول و فوجی قیادت‘ سول ملٹری تعلقات‘ فوج حکومت کی پشت پر ہے۔ فوج سے کوئی اختلاف نہیں‘ سیکورٹی معاملات پر سول و فوجی قیادت ایک پیج پر ہیں وغیرہ وغیرہ۔ پاکستان میں سول و فوجی قیادت کے تعلقات کی اصطلاح تو پرانی ہے لیکن یہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں زیادہ زیر بحث آئی ہے شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ان تعلقات میں کچھ تنائو پیدا ہو گیا ہو۔ ہماری نظر میں یہ مسئلہ دو اور دو چار کی طرح آسان ہے لیکن کوئی اس کا اعتراف نہیں کرتا۔ یعنی پاکستان میں سول ملٹری تعلقات پاک امریکا تعلقات کی طرح ہیں۔ پاکستان میں سول پاکستان ہے اور ملٹری امریکا۔ اب آپ اندازہ لگا لیں کہ یہ تعلقات کیسے ہوں گے۔ ان تعلقات کو امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کے تناظر میں سمجھنا آسان ہے۔ پاک امریکا تعلقات میں یہ طے شدہ ہے کہ امریکا جو کہے گا پاکستان وہ کرے گا۔ پاکستان امریکا کے احکامات اور اشاروں کو سمجھ کر ان کے مطابق عمل کرے گا۔ پاکستان امریکا سے اچھے تعلقات کے لیے اس کے احکامات سے اختلاف یا ان کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ اگر ایسا کیا تو کچھ دنوں بعد پاک امریکا تعلقات بحال رکھنے کی خاطر تمام احکامات تسلیم کرے گا۔ جب سے پاکستان امریکا کے تعلقات قائم ہوئے ہیں انہی خطوط پر قائم ہیں اور بہت اچھے تعلقات ہیں۔ تو پاکستان میں بھی سول ملٹری تعلقات بہت اچھے اور پُرسکون ہیں۔ کسی کو شک ہو تو وزیر داخلہ شیخ رشید کی گفتگو سن لے یا پڑھ لے۔ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ٹھیک ہیں لیکن ان تعلقات کی نزاکت اور بیان میں کسی غلطی کے احتمال کے سبب انہوں نے کہا کہ اس بارے میں سرکاری بیان حکومتی ترجمان یا وزیر دفاع دے سکتے ہیں۔ سول ملٹری تعلقات اچھے رکھنے کے لیے شیخ صاحب کی احتیاط اچھی تھی لیکن اگلے ہی روز ایک نیا ہنگامہ کھڑا کردیا گیا۔ جب سے آئی ایس آئی چیف کی تبدیلی کی خبر سامنے آئی ہے یہ خبر بھی چلنے لگی کہ وزیر اعظم نے اس کی منظوری نہیں دی۔ اور یوں سول ملٹری تعلقات میں دراڑ کی تصدیق ہوگئی۔ ایک پیج کے ایک حاشیے میں سول اور دوسرے حاشیے میں ملٹری نظر آئی۔ لیکن کسی جانب سے تعلقات خراب ہونے کا دعویٰ نہیں کیا گیا بلکہ یہ ذمے داری بھی سول حکومت کی ٹھیری کہ وہی وضاحت کرے چنانچہ وزیراعظم نے خود وضاحت کردی کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تعیناتی پر کوئی اختلاف نہیں‘ نوٹیفکیشن کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل کر لیں گے‘ غلط رنگ دینے کی کوشش نہ کی جائے۔ حکومتی ترجمان وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے توقع ظاہر کی کہ فوجی قیادت ایسا کوئی قدم نہیں اٹھائے گی جس سے جمہوری نظام کو نقصان پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ سول سیٹ اَپ اور فوج ایسا نہیں کریں گے جس سے وزیراعظم یا سپہ سالار کا وقار کم ہو۔ لیکن ایسا ہی کیا جا رہا ہے۔
اب کوئی سول ملٹری تعلقات کی تفصیل میں جانا چاہتا ہے تو قیاس آرائیوں پر توجہ دے ورنہ وزیر اطلاعات نے تو کہا ہے کہ تعلقات آئیڈیل ہیں‘ قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دی جائے۔ تمام تر آئیڈیل تعلقات کے باوجود دکہا جا رہا ہے کہ تقرر کا قانونی طریقہ اختیار کریں گے۔ تو کیا کوئی غیر قانونی طریقہ اختیار کیا جا رہا تھا؟ یہ کیسا ایک پیچ ہے جس میں دو فریق الگ الگ حاشیوں میں نظر آرہے ہیں۔ اس کا اصل سبب یہ ہے کہ برسوں سے ملک میں سول کے ساتھ ملٹری قیادت کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے اسی وجہ سے ذہن میں بات بیٹھ جاتی ہے کہ یہ دو قیادتیںہیں ہر دو قیادتوں یا اداروں کا احترام اپنی جگہ لیکن اگر دستورِ پاکستان کو دیکھا جائے یا جمہوری اصول کو تو عدلیہ‘ انتظامیہ‘ مقننہ کو ریاست کا ستون کہتے ہیں اور صحافت کو چوتھا ستون۔ ماضی میں کسی وجہ سے پانچواں ستون بہت مضبوط ہوا اور وہ قد میں بھی ذرا بلند تھا جس کی وجہ سے ساا نظام ڈولتا رہتا ہے۔ اب اگر اداروں کی بنیاد پر قیادت کا اضافہ کریں تو کیا کبھی سول‘ عدالتی قیادت کی ترکیب استعمال ہوتی دیکھی یا سنی گئی۔ ایسا تو کبھی نہیں ہوا۔ ملک کا اہم ادارہ عدلیہ ہے لیکن اسے قیادت کے مقام پر فائز نہیں کیا گیا۔ سول مقننہ قیادت کے طور پر اسپیکر قومی اسمبلی اور وزیراعظم کو ہم پلہ قرار نہیں دیا گیا۔ صبح شام سول ملٹری قیادت کی تکرار کے نتیجے میں سب کے ذہن نے یہ تسلیم کر لیا کہ یہ دونوں قیادتیں ہیں۔ اب ذرا حقائق کو دیکھیں
سول ملٹری تعلقات کو پاک امریکا تعلقات کے تناظر میں دیکھیں تو بات سمجھ میں آجائے گی۔ کسی جھگڑے کی ضرورت نہیں۔
وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ آئی ایس آئی چیف کا تقرر وزیراعظم کا اختیار ہے۔ دیکھنا یہی ہے کہ وزیراعظم اپنا اختیار استعمال کرتے ہیں یا پاک امریکا تعلقات کی طرح ’’ہم خود ہی یہ کام کر رہے ہیں‘ ہمیں کسی نے کہا نہیں ہے‘‘۔ والا معاملہ ہو جائے گا۔ یہ سب کچھ شاید اس لیے منظر عام پر آیا یا لایا گیا ہے کہ ایک مرتبہ پھر آرمی چیف کی مدت میں توسیع کا معاملہ سامنے آنے والا ہے۔ حکومت کو یہ مرحلہ بھی سہولت سے گزارنا ہے‘ لیکن وہی غلطی پھر دہرائی گئی ہے کہ معاملے کو الجھا کر آرمی چیف‘ فوج ڈی جی آئی ایس آئی کے معاملے کو میڈیا اور سوشل میڈیا کا موضوع بنا دیا گیا ہے۔
آئی ایس آئی کی جو دھاک افغانستان‘ امریکا‘ بھارت اور اسرائیل پر ہے‘ اس کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ فوج کو متنازع بنانے کا کام ایک بار پھر پی ٹی آئی حکومت ہی نے کیا ہے۔ اب کئی روز سے فوج آئی ایس آئی اور آرمی چیف موضوع بحث بنے ہوئے ہیں اس معاملے کو تو حل ہو ہی جانا ہے لیکن یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ تمام اداروں کو اپنا کردار آئین کے مطابق ادا کرنے کی عادت ڈالنی ہوگی ورنہ کبھی نہ کبھی حالات خراب ہوں گے۔ بدھ کی رات یہ خبر جاری کی گئی کہ آئی ایس آئی چیف کے تقرر کے معاملے پر اتفاق ہو گیا‘ سمری وزیراعظم ہائوس بھیج دی گئی‘ ایک دو روز میں فیصلہ ہوگا۔ لیکن رات 12 بجے ’’اعلیٰ سرکاری ذرائع‘‘ کے حوالے سے خبر دی گئی کہ کوئی سمری جاری ہوئی نہ وزیراعظم ہائوس پہنچی ہے۔ لیجیے سول ملٹری تعلقات اچھے اور سب ایک پیج پر ہیں۔ ناطقہ سر بہ گریباںہے اسے کیا کہیے۔