قوم کا محسن اُٹھ گیا

421

ہر ذی نفس کو موت آنی ہے۔ سو محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی اپنے رب کے حضور پیش ہوگئے۔ ایک انسان ہونے کے ناتے ڈاکٹر قدیر سے لغزشیں ہوئی ہوں گی ان کی مغفرت کے لیے جتنی دعائیں کی گئی ہیں اور کی جاتی رہیں گی وہ ان کے درجات کو مزید بلند کریں گی۔ جب بھی کوئی ایسی شخصیت ہم سے جدا ہوتی ہے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے مظالم اور حماقتیں قوم کو خون کے آنسو رُلاتی ہیں۔ ڈاکٹر قدیر خان نے ازخود پاکستانی حکومت سے رابطہ کرکے بھارت کے ایٹمی دھماکوں کا جواب دینے کا عزم ظاہر کیا۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈاکٹر قدیر کو ہالینڈ سے پاکستان بلوالیا۔ وہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام سے وابستہ ہوگئے اور 1984ء میں وہ ڈیوائس تیار کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ پروگرام پر جنرل ضیا کے دور میں بھی بھرپور عمل ہوا اور نواز شریف دور میں 1998ء میں ایٹمی دھماکے کیے گئے۔ ڈاکٹر قدیر نے جو کارنامہ کیا اس کو متنازع بنانے اور اس میں حصے بٹانے کی بھی کوشش کی گئی لیکن سب سے زیادہ افسوسناک کام ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف نے کیا۔ اس زمانے میں امریکی صدر بش نے جنرل پرویز مشرف پر دبائو ڈالا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کے بانی نے پاکستانی ایٹمی ہتھیار دوسرے ملکوں تک منتقل کیے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے الزام سے صرف ڈاکٹر قدیر تو مجرم ثابت نہیں ہوتے پوری پاکستانی اسٹیبلشمنٹ پھنس رہی تھی۔ ڈاکٹر قدیر اپنی جیب میں ہتھیار رکھ کر تو دوسرے ملکوں تک نہیں جاتے ہوں گے۔ دوسرے ملکوں سے تعلق پاکستانی حکمرانوں جنرل پرویز اور وزرا کا تھا۔ اہم فوجی افسران کا تھا۔ چناں چہ ڈاکٹر قدیر کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور ان کو پھنسا کر جبری اعترافی بیان دلوایا گیا۔ جس کا بعد میں ڈاکٹر قدیر نے انکشاف بھی کیا کہ مجھ پر دبائو ڈال کر اسٹیبلشمنٹ نے قربانی کا بکرا بنایا۔ مجھے تو چودھری شجاعت نے کہا کہ پاکستان پر دبائو ہے اس بیان سے کم ہوجائے گا لیکن جنرل پرویز نے الٹا مجھے ہی مجرم بنادیا۔ دنیا بھر میں ممالک اپنے قومی ہیرو کے ساتھ خصوصی برتائو کرتے ہیں۔ اس کے مجسمے بنا کر جگہ جگہ نصب کرتے ہیں۔ اس کے نام پر کالج، اسکول، وظیفے وغیرہ ہوتے ہیں لیکن جنرل پرویز نے سیاہ کارنامہ کرکے قومی ہیرو کو متنازع بنایا۔ ڈاکٹر قدیر نے بھارت جیسے دشمن کی زبان برسوں کے لیے گنگ کردی تھی اور اس کو ایسا جواب دیا تھا کہ بھارتی قیادت کی سٹی گم ہوگئی تھی۔ 1974ء کے پوکھران کے دھماکوں کے بعد سے پاکستان پر بھارت کا رعب تھا۔ لیکن 1998ء کے دھماکوں کے بعد پاکستان کو امت مسلمہ کی پہلی ایٹمی قوت ہونے کا شرف حاصل ہوا۔ ساری دنیا میں پاکستان کا وقار بلند ہوا اور دنیا بھی پاکستان سے ایٹمی قوت کے طور پر معاملات کرتی ہے۔ سویلین حکمران ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں شروع کیے گئے پروگرام کی تکمیل بھی سویلین حکمران نواز شریف کے دور میں ہوئی اور دھماکا بھی سویلین حکمران کے دور میں کیا گیا لیکن ایٹمی پروگرام کے خالق کے ساتھ ناروا سلوک جنرل پرویز کے حصے میں آیا۔ جب کہ پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کے بعد دنیا بھر میں پاکستانی سر اٹھا کر چلتے تھے۔ ڈاکٹر قدیر کو جانا تھا اپنے وقت پر رب کے حضور پیش ہوگئے۔ ان کو سرکار سے حکمرانوں سے بہت شکوے تھے لیکن ملک سے محبت کا عالم یہ تھا کہ سارے مظالم کے باوجود پاکستان کے بارے میں کوئی منفی بات نہیں کی۔ انہوں نے موجودہ وزیراعظم عمران خان کے بارے میں بھی شکوہ کیا تھا کہ وزیراعظم سمیت کسی حکمران کو میری یاد تک نہیں آئی اور ان کے انتقال پر ہم قومی شخصیات صدر، وزیراعظم، آرمی چیف کوئی بھی ان کے جنازے کے لیے وقت نہیں نکال سکا۔ ہوسکتا ہے اس کا کوئی مناسب سا سبب بتادیا جائے لیکن ڈاکٹر قدیر کی موت صرف پاکستان کے لیے نقصان نہیں ہے بلکہ یہ عالم اسلام، حریت و شجاعت اور آزادی پسند قوموں اور باوقار طریقے سے زندہ رہنے والوں کے لیے ایک عظیم صدمہ ہے۔ بات بار بار گھوم کر ڈاکٹر قدیر کے ساتھ سلوک کی جانب کی جاتی ہے۔ پاکستان کے دشمن بھارت نے اپنے ایٹمی سائنسدان اے پی جے عبدالکلام کو ملک کا صدر بنایا اور پاکستان کے حکمرانوں نے ان کی بے توقیری کی۔ ڈاکٹر قدیر کے احسان کا بدلہ اسی طرح چکایا جاسکتا ہے کہ پاکستانی قوم اپنے لیے جرأت مند حکمران منتخب کرے جو پاکستان کو عالم اسلام کا قائد بنادے۔ ڈاکٹر قدیر یہی چاہتے تھے کہ پاکستان ایٹمی اور ہر ٹیکنالوجی میں مسلم دنیا کی قیادت کرے۔ ڈاکٹر قدیر کی زندگی میں نوجوانوں کے لیے بھی بہت سے پیغامات ہیں کہ انہیں ملک کا دفاع مضبوط کرنے کے لیے اپنی صلاحیتوں کو بڑھانا ہوگا۔