حساب کتاب پوچھ گچھ، کچھ نہیں

316

شاعر نے کہا تھا:
یہ جو ننگ تھے، یہ جو نام تھے، مجھے کھا گئے
یہ خیال پختہ، جو خام تھے، مجھے کھا گئے
وزیراعظم عمران خان کے باب میں ایسا ہی ہورہا ہے۔ ان کے ماضی کے وہ خیال جو پختہ سمجھے جاتے تھے، ان کی تقاریر کو وزن دیتے تھے، سابقہ حکومتوں کے ننگ کا اظہار تھے، آج خود عمران خان کو کھائے جارہے ہیں۔ ان کے ننگ کا استعارہ بن گئے ہیں۔ ان کی سابقہ اور موجودہ تقاریر سنیں تو ایسا لگتا ہے جیسے دائیں بازو کے نظریات کا حامل کوئی شخص بائیں بازوکے زیراثر چلا گیا ہو۔ انہیں دیکھیں تو پاکستانی عوام کے گناہ گار ہونے پر یقین آنے لگتا ہے۔ نجانے کون سا گناہ سرزد ہوا ہے جس کی سزا میں یہ تضاد کا پیکر مسلط کردیا گیا ہے۔ گھسے پٹے جملے، کرپشن کا رونا، این آراو نہیں دونگا، غیر معقول لب ولہجہ، ان کے عمل کے تمام دھارے انہیں لانے والوں کے میڈیکل چیک اپ کی اشد ضرورت کا اظہار کرتے ہیں۔ جس طرح یہ بات آج تک ابہام کے پردوں میں ہے کہ کس دفاعی اور عسکری ضرورت کے تحت جنرل مشرف نے کارگل پر چڑھائی کی تھی اس سے کہیں زیادہ یہ بات پوشیدگی میں لپٹی نظر آتی ہے کہ، یہ بھوت کس کا انتخاب تھا، اس سیاسی لاڈلے کے لیے دعا کو ہاتھ اٹھانے کے لیے کس کی ہتھیلی میں خارش ہوئی تھی جو ہروقت کھیلن کو چاند مانگتا رہتا ہے جس کی توجہ صرف نیب کے چیئرمین اور الیکٹرونک ووٹنگ مشین پر ہے۔
انتخابی جلسوں اور دھرنے میں جتنی ہمدردی خان صاحب کو پاکستان کے عوام سے تھی اس کا شمار کرنا ایسا ہی ناممکن ہے جیسے صحارا کی ریت کے ذروں کا۔ وہ گھٹیا دنیاوی فائدوں سے اسی طرح دور نظر آتے تھے جس طرح ایک طوائف پارسائی سے۔ ان کے عزائم بہت واضح نظر آتے تھے جب وہ سیدنا عمرؓ کے کرتے کی مثال دیا کرتے تھے ’’وہ اپنے آپ کو احتساب کے لیے پیش کرتے تھے۔ سیدنا عمرؓ مسجد میں کھڑے تھے۔ عام آدمی نے پوچھا اے عمر ؓ یہ کدھر سے کپڑے لیے۔ جواب دیا کہ ہاں جی یہ میں نے میرے بیٹے سے لیا۔ یعنی حکمران قانون سے اوپر نہیں اور وہ جوابدہ بھی ہے۔ آج مغرب میں ان کے سارے ڈیمو کریسز کے اندر لیڈر جوابدہ ہیں۔ عوام کو جواب دہ ہیں کہ وہ بتائیں پیسہ کہاں سے آیا ہے‘‘ آج جب عمران خان کی ماضی کی یہ باتیں سنیں اور موجودہ کرتوت دیکھیں تو دل چاہتا ہے انسان سر پیٹ لے یا دیوانہ وار قہقہہ لگائے۔ آج وہ بیرون ملک سے ملنے والے 170تحائف کی نیلامی کی تفصیلات دینے سے انکار کررہے ہیں۔ غالب پر یقین آنے لگتا ہے ’’کاغذی ہے پیرین ہر پیکر تصویر کا‘‘۔ ان 170تحائف کی نیلامی کا معاملہ ذرا تفصیل سے سمجھ لیجیے:
صدر مملکت، وزیراعظم اور دیگر وزراء جب بیرون ملک دورے کرتے ہیں تو انہیں وہاں قیمتی تحائف سے نوازا جاتا ہے۔ وزارت خارجہ کے اہلکار ان تحائف کا اندراج کرتے ہیں۔ یہ تحائف چونکہ ملک وقوم کی نمائندگی کی بنا پر دیے جاتے ہیں لہٰذا قانون یہ ہے کہ انہیں قومی خزانے یعنی ’’توشہ خانے‘‘ میں جمع کرادیا جائے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے اس کے بعد ’’جمہوریت کی بالادستی‘‘ کا سفر شروع ہوتا ہے۔ اگر ان تحائف کی قیمت تیس ہزار سے کم ہو تو وزیراعظم، صدر یا متعلقہ وزیر بغیر کسی ادائیگی کے مفت رکھ سکتا ہے۔ اگر قیمت زائد ہو فرض کریں پچاس ہزار تو تیس ہزار کاٹ کر بقیہ بیس ہزار کا دس فی صد یعنی صرف دو ہزار دے کر وہ یہ تحفہ رکھ سکتا ہے۔ (پندرہ بیس فی صد سے بڑھتی ہوئی یہ رقم سنا ہے آج کل پچاس فی صد ہے۔ واللہ اعلم) اگر اس بندر بانٹ کے باوجود سربراہان مملکت یا وزرا یہ تحائف نہیں رکھتے تو پھران تحائف کی فہرستیں تیار کی جاتی ہیں۔ ان کی قیمت کا تعین دوبارہ ایف بی آر اور اسٹیٹ بینک سے کروایا جاتا ہے۔ قیمتوں کے تعین میں بھی الحمدللہ ثابت کیا جاتا ہے کہ بددیانتی میںہم کسی سے کم نہیں۔ اس کے بعد ان اشیا کو نیلامی کے لیے پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں ایک بار پھر جمہوریت کو سرخرو ہونے کا موقع دیا جاتا ہے اور صرف فوج کے افسران اور سرکاری ملازمین اس نیلامی میں حصہ لے سکتے ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری ہونے والے ایک مراسلے کے مطابق سربراہان مملکت اور دیگر وزرا کو ملنے والے 170 سے زائد تحائف کوکچھ عرصہ پہلے بولی کے تحت نیلام کیا گیا تھا۔ ان تحائف میں رولیکس گھڑیاں، سونے کے زیورات، مختلف ڈیکوریشن پیسز، سوینیرز، ہیرے جڑے قلم، کراکری اور قالین وغیرہ شامل ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کو سعودی عرب کے ولی عہد کی جانب سے ملنے والی سونے کی کلاشنکوف بندوق اور چند بیش قیمت رولیکس گھڑیاں بھی نیلامی میں شامل ہیں۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو بھی 2018-19 کے دورہ سعودی عرب کے دوران ملنے والے بیش قیمت تحائف رولیکس گھڑی، سونے کے موتی جڑے قلم، کف لنکس، تسبیح اور سونے کی انگوٹھی جن کی مالیت چھ ملین سے زیادہ ہے وہ بھی نیلامی میں شامل ہیں۔
کون سی چیز کتنی مالیت کی تھی اور نیلامی میں کتنی رقم ادا کرکے خریدی گئی اور کس نے خریدی؟ جب ایک عام شہری نے کچھ عرصہ قبل پاکستان انفارمیشن کمیشن (پی آئی سی) کو تحریک انصاف کی حکومت میں ملنے والے تحائف کی تفصیلات عام کرنے سے متعلق درخواست کی تو کمیشن نے یہ درخواست منظور کر لی۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے وزیر اعظم پاکستان اور صدر مملکت سمیت وفاقی وزیروں کو دوست ممالک کی جانب سے ملنے والے تحائف کی نیلامی کی تفصیلات کو ’قومی مفاد‘ سے متعلق حساس معلومات قرار دے کر کے یہ معلومات جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ تحائف سربراہان ممالک کو ’’ذاتی حیثیت‘‘ میں دیے گئے اور میڈیا غیر ضروری طور پر اس بات کا بتنگڑ بنا سکتا ہے جس سے پاکستان کے دوست ممالک سے تعلقات پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
’’یہ تحائف سربراہان ممالک کو ’’ذاتی حیثیت‘‘ میں دیے گئے‘‘ اس زندہ وجاوید جملے میں وزیراعظم عمران خان کو ہمارے محترم جج صاحبان کی جانب سے عطا کردہ صداقت اور امانت کی سند کی ساری بے رحمی پوشیدہ ہے۔ تین مرتبہ کے سابق وزیراعظم نوازشریف آج کل ذاتی حیثیت سے برطانیہ میں قیام پزیر ہیں۔ تحائف تو چھوڑیے وہاں ان کی ذاتی توقیر کا کیا عالم ہے۔ اشرف غنی افغانستان سے فرار ہوکر ذاتی حیثیت سے ازبکستان پہنچے، طیارہ اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی۔ شہنشاہ رضا شاہ پہلوی ایران سے رخصت ہونے کے بعد ذاتی حیثیت سے ملکوں ملکوں پھرے کسی نے ویزہ دینا گوارا نہیں کیا سوائے مصر کے صدر انور سادات کے۔ کل کو عمران خان ایوان اقتدار سے رخصت ہوں گے، ذاتی حیثیت سے کسی ملک میں جائیں گے تو کیا انہیں سرکاری پروٹو کول اور قیمتی تحائف سے نوازا جائے گا؟؟ سابق وزیراعظم نواز شریف نے بھی اس بیلن میں ہاتھ دیتے ہوئے اپنے دور میں تفصیلات دینے سے انکار کیا تھا لیکن بعد میں انہوں نے تمام تفصیلات پی آئی سی میں جمع کرادی تھی۔ وزیراعظم عمران خان کو بھی تفصیلات جاری کرنا پڑیں گی ورنہ ان کے خلاف کیس بن سکتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ قانون کی حکمرانی کی سب سے زیادہ بات کرنے والے وزیراعظم عمران خان کو قانون کے دائرے میں کون لائے گا؟ اس سے کہیں زیادہ خطرناک نوعیت کے مقدمات ان پر پہلے سے دائر ہیں کون ہے جو انہیں عدالتوں میں پیش ہونے پر مجبور کرسکے؟ جب تک ملک میں ’’نامہ بری‘‘ کا نظام موجود ہے کس عدالت میں اتنادم کہ سزا دینا تو درکنار لاڈلے کو عدالت میں طلب بھی کرسکے۔ تین برس میں اس حکومت کے کتنے ہی دھماکا خیز کرپشن میں ڈوبے اسکینڈل سامنے آچکے لیکن ہر معاملے میں انصاف تھکاوٹ کا یوں شکار نظر آتا ہے کہ معاملہ لاڈلے کا ہوتو حساب کتاب پوچھ گچھ۔۔ کچھ نہیں۔