!کیا پاکستان میں اسلام قبول کرنا جرم ہے

968

حصہ اول
سندھ اسمبلی نے 16فروری 2021ء کو ایک بِل پاس کیا تھا، اس کا عنوان تھا: ’’جبری تبدیلی ِ مذہب‘‘۔ اس کے بعد ہم نے علماء کے ایک وفد کے ہمراہ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ملاقات کی تو انہوں نے اسے روک دیا اور گورنر کے دستخط سے ایکٹ نہیں بنا، پھر اسے اچانک سینیٹ میں پیش کردیا گیا، اس پر غور کرنے کے لیے ایک پارلیمانی کمیٹی قائم کی گئی، اب اس پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ بھی منظرِ عام پر آگئی ہے، انسانی حقوق کی وزیر محترمہ شیریں مزاری اس کی پرجوش حامی ہیں۔ اس مجوّزہ مسوّدۂ قانون (Bill) کا عنوان ’’امتناعِ جبری تبدیلیِ مذہب‘‘ رکھا گیا ہے، لیکن اپنے وسیع تر مفہوم اور نتائج کے اعتبار سے اسے درحقیقت ’’امتناعِ قبولِ اسلام‘‘ کابل کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ قبولِ اسلام اور اس کی ترغیب کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ایک مجرمانہ جسارت قرار دے دیا گیا ہے۔ ہم اس قانون کی تطبیق (Application)، نتائج اور مابعد اثرات (Subsequences) پر گفتگو کرنے سے پہلے اس قانون کی اہم دفعات کا مفہومی ترجمہ پیش کر رہے ہیں:
سیکشن ۲، ذیلی شق سی، ای: ’’بچے کا معنی ہے: کوئی بھی فرد جو اٹھارہ سال سے کم عمر کا ہے‘‘، سیکشن ۲ای: ’’بالغ کا معنی ہے: کوئی بھی فرد جس کی عمر اٹھارہ سال سے زائد ہو‘‘، ’’جبر کا مطلب ہے: طاقت کا استعمال، جسمانی تشدد یا کسی پر جذباتی یا نفسیاتی طور پردبائو ڈالنا‘‘۔
سیکشن ۳، ذیلی شقیں: ۴،۵،۶: ’’کوئی بھی غیر مسلم جو بچہ نہیں ہے، یعنی جس کی عمر اٹھارہ سال سے زیادہ ہے، عاقل اور بالغ ہے اور وہ مذہب تبدیل کرنے کے قابل اور اس پر آمادہ ہے، وہ اپنے قریبی ایڈیشنل سیشن جج کو مذہب کی تبدیلی کے سرٹیفکیٹ کے لیے درخواست دے گا۔ ایڈیشنل سیشن جج مذہب کی تبدیلی کی درخواست وصول ہونے کے سات دن کے اندر انٹرویو کی تاریخ مقرر کرے گا۔ مقررہ تاریخ پر متعلقہ شخص ایڈیشنل سیشن جج کے سامنے پیش ہوگا، ایڈیشنل سیشن جج اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مذہب کی تبدیلی کسی دبائو کے تحت نہیں ہے اور نہ کسی دھوکا دہی یا غلط بیانی کی وجہ سے ہے۔ کوئی غیر مسلم جو مذہب اپنانا چاہتا ہے، ایڈیشنل سیشن جج اس کے مذہبی اسکالر سے اس غیر مسلم کی ملاقات کا انتظام کرے گا، یعنی اگر کوئی ہندو مسلمان ہونا چاہتا ہے تو اس کی کسی اسلامی اسکالر سے ملاقات کا انتظام کرے گا، ایڈیشنل سیشن جج مذاہب کا تقابلی مطالعہ کرنے اور دوبارہ دفتر واپس آنے کے لیے غیر مسلم شخص کو نوے دن کا وقت دے گا، اگر وہ نوے روز کے بعد بھی اپنا مذہب تبدیل کرنے کے فیصلے پر قائم رہتا ہے تو اسے مذہب کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ جاری کردیا جائے گا۔ اگر سیشن جج مطمئن ہوتا ہے کہ اس نے تقابلِ ادیان کا مطالعہ کرلیا ہے اور اس پر کسی طرح کا جبر نہیں ہے اور وہ اپنی مرضی سے اسلام قبول کر رہا ہے، تو وہ تبدیلی مذہب کا سرٹیفکیٹ جاری کرے گا‘‘۔
نوٹ: اس میں اہم بات یہ ہے کہ نوے دن گزرنے کے بعد بھی ایڈیشنل سیشن جج کا مطمئن ہونا ضروری ہے، پس اگر وہ کسی وجہ سے مطمئن نہیں ہوتا تو پھر وہ اسلام قبول نہیں کرسکتا یا اس کو اسلام قبول کرنے کا سرٹیفکیٹ جاری نہیں کیا جائے گا۔ ایک شخص اسلام قبول کرنے کے لیے آمادہ ہے اور اُسے نوے دن کا وقت دیا جارہا ہے، کون جانتا ہے کہ اس کی زندگی کتنی ہے، اگر اس دوران وہ فوت ہوجاتا ہے توکفر پر اس کی موت کا ذمے دار کون ہوگا، اس کے معنی یہ ہوں گے کہ وہ اُس کے کفر پر راضی ہے، علامہ نظام الدین لکھتے ہیں: ’’اگرکوئی دوسرے کے کفر پر راضی رہا تاکہ وہ اللہ کی شان میں نازیبا باتیں کہے، تو وہ خود بھی کافر ہوجائے گا اور اسی پر فتویٰ ہے، ’’فتاویٰ تتارخانیہ‘‘ میں اسی طرح ہے، (فتاویٰ عالمگیری)‘‘۔
سیکشن (۴): مذہب کی جبری تبدیلی کی ممانعت:
شق (۱): ’’اگر کوئی شخص کسی کو دوسرے مذہب میں تبدیل کرنے کا ذمے دار ہے اور سیشن جج کی نظر میں وہ جبری تبدیلی ہے، تو اس شخص پر مذہب جبری تبدیل کرانے کا جرم عائد ہوگا اور اس کو کم سے کم پانچ سال اور زیادہ سے زیادہ دس سال قید کی سزا دی جاسکتی ہے اور کم از کم ایک لاکھ روپے اور زیادہ سے زیادہ دو لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا جاسکتا ہے‘‘، نوٹ: قانون میں اس امر کی نہ کوئی وضاحت ہے اور نہ کوئی معیار کہ جس کی بنیاد پر یہ طے کیا جاسکے کہ جبر ہوا ہے یا نہیں، بس اسے ایڈیشنل سیشن جج کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
شق (۲): ’’اگر کوئی شخص ایسے شخص کا نکاح پڑھائے جس کا جبر کے ذریعے مذہب تبدیل کرایا گیا ہو، چاہے وہ اس کا نکاح پڑھانے والا یا نکاح کا سہولت کار ہوتو اس کی سزا بھی کم سے کم تین سال ہوگی‘‘۔ اس شق کے مطابق وہ شخص بھی اسی جرم کا مرتکب ہوگا جس نے اس نکاح کے لیے کسی قسم کی اعانت کی ہے، مثلاً: جہیز کا انتظام کیا یا شادی ہال کا انتظام کیا یا کسی بھی طرح کی سہولت کاری کی تو وہ اس جرم میں برابر شریک ہوگا۔ وضاحت: نکاح پڑھانا ایک دینی کام ہے، اس کے لیے دولہا اور دلہن کی رضامندی، مہر کا تعیّن اور گواہان کی موجودگی ضروری ہے، نکاح خواں کے پاس نہ تو قاضی اور عدالت کے اختیارات ہوتے ہیں اور نہ تحقیق وتفتیش کے لیے کوئی عملہ ہوتا ہے، لیکن ہر موقع پر اُسے سب سے کمزور فرد سمجھ کر دھر لیا جاتا ہے، یہ بھی درست نہیں ہے۔
شق (۳): ’’اگر کوئی شخص کسی ایسے شخص کی حوصلہ افزائی کرے جو اپنا مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے کسی بھی طرح کی معاونت فراہم کرے تو وہ بھی مجرم تصور کیا جائے گا اور اسے بھی کم از کم تین سال اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال کی سزا دی جاسکتی ہے اور اس پر ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا بھی ہوگی‘‘۔ نوٹ: قرآنِ کریم کی رُو سے دعوتِ دین مسلمان کا فریضہ ہے، قبولِ اسلام کی ترغیب دینا ایک قابلِ تحسین امر ہے، لیکن ہمارے ہاں اسے بھی قانونی جرم قرار دیا جارہا ہے، جبکہ قرآنِ کریم میں صدقات کا ایک مصرف ان لوگوں کو قرار دیا گیا ہے، جنہیں اسلام کی طرف راغب کرنا مقصود ہو۔
سیکشن ۵، شق (۲): ’’اگر کوئی بچہ جس کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اور وہ اپنے مذہب کو تبدیل کرنے کا اعلان کرتا ہے تو اس کے ایسے اعلان کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی اور یہ تصور کیا جائے گا کہ اس نے مذہب تبدیل نہیں کیا اور اس کو مذہب کی تبدیلی کا سرٹیفکیٹ بھی جاری نہیں کیا جائے گا‘‘۔ نوٹ: اسلام کی رُو سے توحید ورسالت کی گواہی دینے، اپنے سابقہ عقائد سے توبہ کرنے اور کلمۂ اسلام پڑھنے سے ایک شخص مسلمان ہوجاتا ہے، لیکن ہماری ریاست اُسے تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
سیکشن ۷ کی شق۵: ’’اگر جبری تبدیلیِ مذہب کا کوئی کیس سیشن کورٹ میں جاتا ہے تو کورٹ اس بات کی پابند ہوگی کہ وہ نوے دن کے اندر اس کیس کا فیصلہ صادر کردے اور اس کیس کا دومرتبہ سے زائد کا التواء نہیں ہوسکتا‘‘۔ نوٹ: واضح رہے کہ ہمارے ہاں انتہائی سنگین جرائم حتیٰ کہ دہشت گردی کے مقدمات بھی برسوں چلتے رہتے ہیں، لیکن مذہب کی تبدیلی کے قانون کے لیے نوے دن کا ٹائم بار دیا جارہا ہے، پس مجوّزہ بل کی رو سے پاکستان میں یہ سب سے سنگین جرم ہے۔
سیکشن نمبر ۷، شق۹: ’’جبری تبدیلیِ مذہب کے کیس کی تفتیش کم از کم ایس پی لیول کا آفیسر انجام دے گا‘‘۔
نوٹ: توہین رسالت کی ایف آئی آر درج کرنے کی بابت یہ قرار دیا گیا ہے کہ کم از کم ایس پی لیول کا افسر مطمئن ہوگا تو اس کی ایف آئی آر درج ہوسکے گی، یہ شرط اس لیے عائد کی گئی ہے تاکہ توہین رسالت کی ایف آئی درج کرنے کی نوبت ہی نہ آئے، کیونکہ ایک عام آدمی کی رسائی ایس ایچ او تک آسان نہیں ہے، چہ جائیکہ ایس ایس پی تک رسائی کو لازم قرار دیا جائے۔
سیکشن ۱۷: ’’وہ بچے جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے یا ایسے بالغ اشخاص جو ذہنی معذور ہیں، اگر وہ تبدیلی مذہب کے مرتکب ہوتے ہیں یا ان کا کیس سیشن کورٹ میں چل رہا ہے، تو ان کے نام اور پتے کسی بھی اخبار، الیکٹرونک وپرنٹ میڈیا پر شائع نہیں کیے جاسکیں گے اور اگر کوئی ایسا کرے گا تو وہ مجرم تصور کیا جائے گا‘‘، حالانکہ لوگ فخر کے ساتھ اپنے مسلمان ہونے کا اعلان کرتے ہیں، لیکن مجوّزہ بل کی رو سے یہ جرم ہے۔
سیکشن ۱۸: ’’اگر کوئی ایسے جرم کا ارتکاب کرتا ہے تو یہ جرم ناقابلِ ضمانت، ناقابلِ راضی نامہ اور قابلِ دست اندازیِ پولیس ہوگا اور قانون کے مطابق سزا کا مستوجب ہوگا‘‘۔
یہ روئے زمین کا شاید پہلا قانون ہے کہ جس میں اٹھارہ سال عمر والے کو بچہ (Child) قرار دیا گیا ہے، شرعاً تو وہ بالغ ہے، کیونکہ فقہی اعتبار سے ’’لڑکے کی بلوغت کی علامت احتلام ہونا، حاملہ کردینا اور انزال ہونا اور لڑکی کی بلوغت کی علامت احتلام، حیض اور حاملہ ہونا ہے اور لڑکے کے لیے کم از کم ممکنہ عمرِ بلوغ بارہ سال اور لڑکی کے لیے نو سال ہے، یہی قولِ مختار ہے، (ردّالمحتار)‘‘۔ خلاصہ یہ کہ لڑکے یا لڑکی کو شرعاً اُسی وقت بالغ تسلیم کیا جائے گا جب بلوغ کی علامتیں ظاہر ہوجائیں، ورنہ لڑکے اور لڑکی دونوں کو پندرہ سال مکمل ہونے پر بالغ تصور کیا جائے گا، تنویر الابصار مع الدّرّالمختار میں ہے: ’’پس اگر لڑکے اور لڑکی دونوں میں بلوغت کی علامات میں سے کوئی علامت نہ پائی جائے تو دونوں کو پندرہ سال کی عمر مکمل ہونے پر بالغ مانا جائے گا، فتویٰ اسی پر ہے، (رَدُّالْمُحْتَارِعَلَی الدُّرِّالْمُخْتَار، خلاصہ)‘‘، علامہ امجد علی اعظمی لکھتے ہیں: ’’لڑکے اور لڑکی میں علامت ِ بلوغت پائی جائیں تو انہیں بالغ سمجھا جائے گا اور اگر علامات نہ پائی جائیں تو پندرہ سال کی عمر پوری ہونے پر انہیں بالغ تصور کیا جائے گا، ویسے علامات ظاہر ہونے پر لڑکی کی کم از کم ممکنہ عمر بلوغ نو سال اور لڑکے کی بارہ سال ہے، (بہارِ شریعت)‘‘ یورپ وامریکا میں بھی اس کے شواہد سامنے آتے رہتے ہیں۔
(جاری ہے)