پاکستان کے لیے چیلنج کیا ہیں

228

وزیر اطلاعات و نشریات چودھری فواد حسین نے ریکارڈ سے یہ بات ثابت کردی ہے کہ کرکٹ سیریز کی منسوخی ہائیرڈ وار کا حصہ ہے کہتے ہیں کہ جب ہم ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہیں گے تو اس کی قیمت تو ادا کرنا ہوگی، گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خاں کی زیر صدارت منعقدہ وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے اجلاس میں ہونے والے مختلف فیصلوں سے آگاہ کیا اور نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کرکٹ ٹیموں کے دورۂ پاکستان کی منسوخی سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جب آپ واضح انکاری پالیسی اپنائیں گے تو آپ کو اس کی قیمت چکانا پڑے گی۔ اس سلسلے میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے اس انٹرویو کا حوالہ دیا جس میں انہوں نے افغانستان میں کارروائی کے لیے امریکا کو اڈے دینے سے ’’ایبسلوٹلی ناٹ‘‘ کہہ کر انکار کیا تھا۔ دوسری جانب چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے حال ہی میں یونان کے سفیر آندر یاس پایا ستاورو سے ملاقات کی اور دوٹوک الفاظ میں باور کرایا کہ پاکستان سیاحت، کھیلوں اور تجارتی سرگرمیوں کے لیے مکمل محفوظ ملک ہے۔ پاکستان اپنے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ خطے میں امن اور افغان عوام کے مستحکم اور خوشحال مستقبل کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
یہ امر واقعہ ہے کہ پاکستان نے اس خطے اور اقوام عالم کو دہشت گردی کے ناسور سے خلاصی دلانے کے لیے امریکا اور اس کے ناٹو اتحادیوں سے بھی زیادہ جانی اور مالی قربانیاں دی ہیں۔ تلخ حقیقت یہی ہے کہ نائین الیون کے بعد امریکا کی جانب سے ناٹو ممالک کی افواج کو ساتھ ملا کر افغان دھرتی پر شروع کی گئی اپنے مفادات کی جنگ کے تناظر میں یہاں دہشت گردی کے دروازے کھلے تھے۔ امریکا نے اس جنگ میں افغان دھرتی کو اجاڑ کر اس کا تورا بورا بنایا اور انسانی خون سے رنگین کیا جبکہ اس نے اس جنگ میں ناٹو افواج کو لاجسٹک معاونت فراہم کرنے والے اپنے فرنٹ لائن اتحادی پاکستان کو بھی نہ بخشا اور اس سے ’’ڈومور‘‘ کے تقاضے کرتے ہوئے پاکستان کے اندر خود بھی ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا، جبکہ امریکا پاکستان کی سلامتی اور خودمختاری کو بھی اس کے دیرینہ دشمن بھارت کی سرپرستی کر کے دائو پر لگاتا رہا انتہا پسندوں کے بعض گروپوں کو باقاعدہ طور پر بھارت کی سرپرستی اور لاجسٹک معاونت حاصل تھی جو پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے سے متعلق اپنے دیرینہ خواب کی تکمیل کے لیے پہلے ہی موقع کی تاک میں تھا۔ دہشت گردی کی ان وارداتوں میں بطور خاص سیکورٹی فورسز اور حساس مقامات کو نشانہ بنایا جانے لگا جبکہ پاکستان کے کئی سیاسی قائدین کے علاوہ عوام الناس میں سے بھی 70 ہزار کے قریب بے گناہ شہریوں کی شہادتیں ہوئیں۔
ناٹو ممالک نے افغان دھرتی پر مسلسل 12 سال تک سر پھٹول اور بھاری نقصانات اٹھانے کے بعد بالآخر افغانستان سے واپسی کا فیصلہ کیا تاہم امریکا نے اپنی افواج کی ایک مخصوص تعداد افغانستان میں موجود رکھی جس کی یہاں موجودگی کے مقاصد درحقیقت پاکستان چین بے مثال دوستی میں نقب لگانے اور خطے میں چین کا اثر و رسوخ توڑنے کے لیے تھے۔ اس کے لیے امریکا نے پاکستان سے دوبارہ لاجسٹک معاونت طلب کی وزیر اعظم عمران خان نے دوٹوک الفاظ میں امریکا کو ائربیس فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔ اگر پاکستان امریکا کا یہ تقاضا پورا کر دیتا تو امریکی افواج آج بھی افغان دھرتی پر بمباری کر کے افغان جنگجوئوں اور عام شہریوں کا خونِ ناحق بہا رہی ہوتیں تاہم پاکستان کے انکار کے بعد امریکا خود افغانستان سے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو گیا اور اس نے امریکی فوجیوں کی واپسی کا حتمی شیڈول دے کر پاکستان سے افغان طالبان کے ذریعے اپنے فوجیوں کی محفوظ واپسی کا راستہ نکالنے کے لیے معاونت طلب کی اور پھر محفوظ راستہ ملتے ہی امریکا نے جھٹ پٹ افغانستان سے اپنا انخلا مکمل کر لیا۔ چنانچہ افغان جنگ میں پاکستان کے اس موثر کردار ہی نے امریکا کے افغانستان سے انخلا، افغان طالبان کی اقتدار میں واپسی اور افغانستان کے امن و استحکام کے ذریعے پورے خطے کے امن و استحکام کی راہ ہموار کی یہی وہ پس منظر ہے جس کی بنیاد پر پاکستان مخالف قوتوں بالخصوص بھارت نے دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان کے غیر محفوظ ملک ہونے کا تاثر قائم کرانے کے لیے پاکستان آئی ہوئی نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی اچانک واپسی ہوئی جبکہ سابق عالمی کرکٹرز اس وقت بھی پاکستان آ کر کھیلنے کا عندیہ دے رہے جس سے پاکستان کے غیر محفوظ ہونے کا باطل پراپیگنڈہ عملاً ٹائیں ٹائیں فش ہو گیا ہے۔