عام شہری اور مہنگائی کا طوفان

169

اس وقت حکومت کو جو سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے، وہ مہنگائی اور گرانی کا کوہِ گراں ہے جو بارہا کوششوں کے باوجود نہ صرف یہ کہ اپنی جگہ پرقائم ہے بلکہ اس میں روز بروز اضافہ مشاہدے میں آرہا ہے۔ اشیائے خور ونوش جیسے گندم، آٹا، گھی، چینی کی قیمتوں کو تو جیسے پَر لگے ہوئے ہیں، ان میں اضافہ روز کا معمول بن چکا ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب کسی نہ کسی چیز کی قیمت میں اضافے کی خبریں سامنے نہ آئیں۔ مہنگائی کس تیزی سے بڑھ رہی ہے، اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ یوٹیلٹی اسٹورز پر بھی چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کی خبریں مسلسل سامنے آرہی ہیں۔ حکومت اگر اپنی نگرانی میں چلنے والے اسٹورز پر مہنگائی کو نہیں روک پارہی تو کھلی مارکیٹ میں حالات کیا ہوں گے، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ پہلے کبھی کبھار حکومتی ایوانوں سے ذخیرہ اندوز مافیا کو لگام دینے کی باتیں سننے میں آجاتی تھیں، اب وہاں بھی خاموشی چھا چکی ہے۔ لگتا ہے عوام کو طلب اور رسد کے بجائے مارکیٹ کو کنٹرول کرنے والی دوسری قوتوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایسے میں وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کا یہ اعلان کہ ملک میں مہنگائی حکومتی پالیسیوں کے سبب نہیں بلکہ عالمی سطح پر ہونے والی مہنگائی کے باعث ہوئی ہے، عوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ یہی نہیں گزشتہ دو ماہ میں آٹے کے نرخ متعدد بار بڑھنے اور ریکارڈ سطح پر پہنچنے کے باوجود وزیر خزانہ نے ملوں کے لیے گندم کی ریلیز پرائس 1475 روپے سے بڑھا کر 1950 روپے مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں غیرمعمولی کمی ہوجائے گی۔ عوامی حلقے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ریلیز پرائس کو 1475 سے بڑھا کر ساڑے انیس سو روپے کرنے سے عوام کے لیے آٹے کی قیمت کم کیسے ہوجائے گی؟ اس سے تو مہنگائی کا ایک اور سیلِ رواں جاری ہوجائے گا جو متوسط اور نچلے طبقات کی مشکلات میں اضافے کا سبب بنے گا۔ خیال کیا جارہا تھا کہ حکومت اس پر سبسڈی فراہم کرے گی تاکہ قیمتوں کو ایک حد پہ برقرار رکھا جاسکے۔ مگر سبسڈی کے حوالے سے وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ احساس پروگرام کے ڈیٹا کو پیش نظر رکھتے ہوئے رواں ماہ سے ٹارگٹڈ سبسڈی دیں گے۔ ان کے مطابق اب آٹا، گھی، چینی اور دالوں پر کیش سبسڈی دی جائے گی جس سے آئندہ چند دنوں میں آٹے کی قیمت میں کمی ہوگی۔
اگر حکومت کا یہی پلان ہے تو نچلا طبقہ ممکن ہے کسی طور مہنگائی کے وار سے بچ جائے مگر گرانی کی چکی کے دونوں پاٹوں میں متوسط طبقہ ہی پسے گا، جن کی نہ قوتِ خرید میں اضافہ ہوا ہے اور نہ ہی اس کی آمدن کے ذرائع ہی کشادہ ہوئے ہیں بلکہ مہنگائی بڑھنے سے ان میں کمی آئی ہے اور دوسری جانب، آٹے میں نمک کے برابر جو سبسڈی میسر تھی، اس کا بھی خاتمہ ہوجائے گا۔ پٹرول، بجلی، گیس اور دوسرے یوٹیلٹی بلوں پر حکومت سبسڈی کو پہلے ہی نچلی ترین سطح پر لاچکی ہے اور اشیائے صرف کی سرکاری نرخوں پر آسان رسائی بھی اب تک ممکن نہیں بنائی جاسکی جس کے سبب عوام کا کثیر طبقہ براہِ راست مہنگائی سے متاثر ہورہا ہے۔ گندم کی ریلیز پرائس میں اضافے اور سبسڈی کے خاتمے سے کتنے فی صد آبادی کے لیے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا دشوار ہوجائے گا، یہ حقائق چونکہ حکومتی اعداد و شمار کا حصہ نہیں اس لیے ان پر غور کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی۔ حکومت بین الاقوامی مارکیٹ کے اتار چڑھائو، خام تیل کی قیمت میں اضافے،کورونا کی عالمی وبا اور اس کے سبب سپلائی چین متاثر ہونے جیسے عوامل اور ان کے منفی اثرات کو مہنگائی کا سبب قرار دیتی ہے مگر دوسری جانب اس کا دعویٰ ہے کہ ملکی معیشت بہتر ہورہی ہے۔ حالانکہ ڈائریکٹ فارن انویسٹ منٹ اس وقت نچلی ترین جبکہ ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے، جس کا خمیازہ درآمدات کے مہنگا ہوجانے کے باعث آئندہ چند ہفتوں، مہینوں میں مزید مہنگائی کی صورت میں بھگتنا پڑے گا۔
معاشی ماہرین کے مطابق سمندر پار مقیم پاکستانیوں کی جانب سے ترسیلات زر کی آمد کا حجم 10 سال کی بلند سطح پر پہنچنے کے باوجود روپیہ مسلسل عدم استحکام کا شکار ہے۔ اس کی کوئی تو وجہ ہوگی؟ بیرونی ادائیگیوں، بڑھتی درآمدات نے روپے کو کمزور کیا جبکہ معاشی مستقبل کے بارے میں غیریقینی صورت حال سے بھی ڈالر کی طلب میں اضافہ ہورہا ہے۔ ریکارڈ درآمدات اور تاریخ ساز کرنٹ اکائونٹ خسارہ بھی روپے کی قدر پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ ایسے میں وزیر خزانہ کا یہ بیان تعجب خیز ہے کہ آئی ایم ایف میں جانے سے روپے کی قدر میں کمی ہوئی۔ حالانکہ 2018ء میں حکومت سنبھالنے کے بعد جب روپے کی قدر میں یکایک کمی ہوئی اور اب آئی ایم ایف کے پاس جانے کو ڈالر کی قیمت بڑھنے کا سبب بتایا جارہا ہے۔ ان تمام حقائق کو مدنظر رکھ کر دیکھا جائے تو یہی محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ پالیسی پر گامزن ہے جبکہ ملک و قوم کو دیرپا ٹھوس اقدامات اور زور اثر معاشی پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ مہنگائی اور بیروزگاری سے ستائے عوام کو سکھ کا کوئی جھونکا ہی میسر ہوسکے۔ نجانے ان معاملات پر کب توجہ دی جائے گی؟