عظیم اسلامی مفکر مولانامودودی ؒکا 42 واں یوم وفات

235

لاہور(نمائندہ جسارت)عالم اسلام کے عظیم مفکر ، داعی اور جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کا آج بدھ کو 42واں یوم وفات ہے۔ سید مودودیؒ کا شمار 21ویں صدی کی عظیم شخصیات میں ہوتا ہے۔سید مودودیؒ 25 ستمبر 1903 ء کو حیدر آباد دکن کے شہر اورنگ آباد میں پیدا ہوئے اور1906ء تا 1913ء ابتدائی تعلیم کے مراحل سے گزرے۔ 1918 ء میں صرف 15 سال کی عمر میں انہوں نے صحافت کا آغاز ’’اخبار مدینہ ‘‘ سے کیا۔ 1920 ء میں مولانا مودودیؒ کے سر سے والد کا سایہ اٹھ گیا۔ 1925 ء میں ’’ الجمعیۃ ‘‘ دہلی کی ادارت سنبھال لی جو 4سال تک جاری رہی اور 1932 ء میں انہوں نے حیدر آباد دکن سے ماہنامہ ’’ ترجمان القرآن ‘‘ کا اجرا کیا۔ مولانا مودودی ؒ نے26 اگست 1941 ء کو لاہور میں جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی۔11 مئی 1953 ء کو فوجی عدالت نے مولانا مودودیؒ کو سزائے موت سنا دی۔ 1963 ء میں لاہور میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا۔1967 ء میں بحالی جمہوریت کے لیے دوسری جماعتوں سے مل کر تحریک جمہوریت پاکستان ( پی ڈی ایم) کی تشکیل کی۔1970 ء میں مولانا مودودیؒ کے اعلان پر بے مثال یوم شوکت اسلام منایا گیا۔1973 ء میں 31 سال تک تحریک کی رہنمائی کرنے کے بعد مسلسل علالت کی وجہ سے جماعت اسلامی کی امارت سے معذرت کر لی۔ 1979 ء میں علاج کی غرض سے امریکا گئے اور 22 ستمبر 1979 ء کو بفیلو اسپتال امریکا میں انتقال فرما گئے۔ان کی تدفین ان کی رہائش گاہ5اے ذیلدار پارک اچھرہ لاہور میں ہوئی۔جماعت اسلامی کے ترجمان قیصر شریف نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مولانا مودودیؒ وہ نابغہ روزگار شخصیت تھے جنہوں نے زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی سربلندی ، امت کے اتحاد اور پاکستان کو قرآن وسنت کا گہوارہ بنانے میں صرف کیا۔ انہوں نے اسلامیان پاکستان سمیت امت کی رہنمائی کے لیے تحریری اورتقریری شکل میں عظیم ورثہ چھوڑا۔ جماعت اسلامی کاقیام ان کا لازوال کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی مولانا مودودیؒ کی فکر کے مطابق پاکستان کو اسلامی فلاحی مملکت بنانے کی بھرپور جدوجہد کررہی ہے۔