عقیدۂ ختم ِ نبوت کے تحفظ کی حکمتِ عملی

215

 

۔7ستمبر 1974ء کو پاکستان کی پارلیمنٹ نے دوسری آئینی ترمیم کی منظوری دی، اس کی رو سے پوری لفظی ومعنوی جامعیت کے ساتھ عقیدۂ ختمِ نبوت کو دستورِ پاکستان میں تحفظ دیا گیا اور منکرینِ ختمِ نبوت کو مرتد اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیدیا گیا، نیز دستور کے ضمیمے میںجہاں مختلف ریاستی مناصب کے لیے حلف نامے کی عبارات درج کی گئی ہیں، وہیں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کے حلف نامے میں ’’عقیدۂ ختمِ نبوت‘‘ کے صریح اقرار کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
1953ء کی ختمِ نبوت کی تحریک کے دوران اُس وقت کے چیف جسٹس محمد منیر نے مختلف مذہبی رہنمائوں سے الگ الگ بلاکر مسلمان کی تعریف پوچھی، سب نے اپنی اپنی فہم کے مطابق مسلمان کی تعریف بتائی اور ظاہر ہے کہ سب کا مفہوم ملتا جلتا تھا، لیکن یہ قرآن کی کوئی آیت تو نہیں تھی کہ سب کی زبان سے لفظ بہ لفظ اور مِن وعَن ایک ہی جیسے کلمات ادا ہوتے۔ یہ ایک دیدہ ودانستہ فریب تھا اور گریز کا راستہ تلاش کرنا تھا، چنانچہ جسٹس محمد منیر نے قرار دیا: ’’جب سب کا مسلمان کی تعریف پر اتفاق نہیں ہے، تو کسی کو غیر مسلم کیسے قرار دیا جاسکتا ہے‘‘۔ اسی پسِ منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے مولانا کوثر نیازی نے 1973ء کی اسمبلی میں علماء کو چیلنج کیا کہ وہ مسلمان کی ایک متفقہ تعریف پیش کردیں، اُسے دستور میں شامل کردیا جائے گا۔ علماء نے اس چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اگلے دن مسلمان کی متفقہ تعریف مرتب کرکے اسمبلی میں پیش کردی اور حکومت کے پاس گریز کا کوئی راستہ نہ رہا، سو اس تعریف کو دستورِ پاکستان میں شامل کردیا گیا، اس میں بھی عقیدۂ ختمِ نبوت کا تحفظ شامل تھا۔
1974ء میں جو تحریکِ ختمِ نبوت چلی، اس کا سبب قادیانی خود تھے، ربوٰہ کے اسٹیشن پر طلبہ کہیں جارہے تھے، انہوں نے ختمِ نبوت کے حق میں نعرے لگائے اور قادیانیوں نے انہیں زدوکوب کیا، اس کے نتیجے میں پورے پاکستان میں تحریکِ ختمِ نبوت برپا ہوئی اور تمام مکاتبِ فکر پر مشتمل ایک متحدہ مجلسِ ختمِ نبوت کی تشکیل ہوئی۔
پھر علامہ شاہ احمد نورانی صدیقیؐ نے ’’ارتدادِ قادیانیت‘‘ کی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی، اس پر اسمبلی میں موجود جید علمائے کرام سمیت متعددارکانِ اسمبلی کے تائیدی دستخط تھے، چنانچہ پوری قومی اسمبلی کو ایک کمیٹی کی شکل دی گئی اور اس کی بابت قومی اسمبلی کی کارروائی طویل عرصے تک پسِ پردہ جاری رہی۔ مرزا قادیانی کے تیسرے خلیفہ مرزا ناصر نے خود درخواست کی کہ انہیں قومی اسمبلی میں اپنا کیس پیش کرنے کی اجازت دی جائے، اسی طرح لاہوری قادیانی جماعت کے امیر نے بھی اپنا موقف پیش کرنے کی درخواست کی۔ قومی اسمبلی نے علماء کی تائید کے ساتھ دونوں کی درخواست قبول کرلی، لیکن یہ شرط لگائی کہ اُن پر جرح بھی کی جائے گی۔
یہ اللہ تعالیٰ کی غیبی تائید ونصرت اور قومی اسمبلی میں موجود علماء کی بہترین دانش اور حکمتِ عملی تھی۔ قادیانی رہنمائوں کی اپنا موقف پیش کرنے کی خواہش عربی کی اس کہاوت کا مظہر بن گئی: ’’ایک بَدُّو اپنے مویشیوں کو لیے صحرا میں جارہا تھا، اسے بھوک محسوس ہوئی۔ اس نے بکری کو ذبح کرنے کا ارادہ کیا، لیکن اس کی چھری گم ہوگئی، اس نے چھری تلاش کی، لیکن ناکام رہا۔اتفاقاً اُسی بکری نے اپنا کھر مارا اور وہ چھری ریت تلے دبی ہوئی نظر آگئی، بَدُّو نے چھری پکڑی اور تسمیہ پڑھ کر بکری کو ذبح کردیا‘‘۔ اسی طرح پارلیمنٹ کے سامنے قادیانیت کے اصل چہرے کو بے نقاب کرنے کا موقع انہوں نے خود فراہم کیا، غالب نے کہا ہے:
دیکھنا تقریر کی لذت، کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا، کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
مرزا ناصر اور اُن کے مشیروں کا خیال تھا کہ وہ تاریخی حوالہ جات پیش کر کے کہیں گے: ’’مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے ایک دوسرے کو کافر کہا ہے‘‘۔ سو اس طرح وہ پارلیمنٹیرین کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ یہ سلسلہ تو ماضی میں بھی چلتا رہا ہے، لہٰذا مرزا غلام احمد کو علماء نے کافر قرار دیدیا ہے، تو یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ لیکن علماء نے کہا: ’’ختمِ نبوت ایک ایسا بنیادی عقیدہ ہے کہ قرنِ اوّل سے لے کر آج تک پوری امت کے تمام مسلّمہ مکاتبِ فکر نے کُلّی اور قطعی اجماع کے ساتھ ہر منکرِ ختمِ نبوت اور ہر جھوٹے مدّعی نبوت کو کافر ومرتد قرار دیا ہے، اس میں عہدِ خلافتِ راشدہ سے لے کر آج تک کسی کا بھی اختلاف ثابت نہیں ہے، چنانچہ جب خلیفۂ اول سیدنا ابوبکر صدیقؐ نے جھوٹے مدعیانِ نبوت کے خلاف جہاد کا فیصلہ کیا تو امت کے سب سے بہترین نفوس صحابۂ کرام نے اس سے مکمل اتفاق کیا اور جھوٹے مدعیانِ نبوت کو کیفرِ کردار تک پہنچایا‘‘، پس مرزا ناصر کی خواہش خودکش حملہ ثابت ہوئی۔
نیز ان کا خیال یہ بھی تھا کہ ہم قومی اسمبلی میں دقیق اور عمیق علمی بحثیں چھیڑیں گے، جو ارکانِ اسمبلی کے سروں کے اوپر سے گزر جائیں گی، وہ ان خشک مناظرانہ بحثوں سے اکتا کر اس ساری مہم سے لا تعلق ہوجائیں گے اور ہمیں اپنے مقصد میں کامیابی حاصل ہوجائے گی، مثلاً: یہ کہ قرآنِ کریم کی آیۂ مبارکہ الاحزاب: 40میں لفظِ ’’خَاتم‘‘ تا کے زبر کے ساتھ ہے یا اُس کی زیر کے ساتھ اور یہ کہ ’’خَتم‘‘ کے معنی ومصداق کیا ہیں۔ رفعِ عیسیٰؑ کی بحث میں ’’رفع‘‘ سے کیا مراد ہے، عیسیٰؑ کے حوالے سے آل عمران: 55میں لفظِ ’’مُتَوَفِّیْکَ‘‘ اور المائدہ: 117 میں لفظِ ’’تَوَفَّیْتَنِیْ‘‘ میں ’’وفات‘‘ یا ’’تَوفّی‘‘ کے کیا معنی ہیں، اسی طرح النسآء: 156میں کلمات ’’وَلٰکِنْ شُبِّہَ لَھُمْ‘‘ میں تشبیہ سے مراد کیا ہے، وغیرہ۔ مگرصورتِ حال اُن کی توقعات کے برعکس رونما ہوئی اور جو خواب انہوں نے دیکھا تھا، اس کی تعبیر الٹ نکلی، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے کئی آیات میں فرمایا: ’’کیا (اللہ نے) اصحابِ فیل کی چال کو ناکام ونامراد نہ کردیا، (الفیل: 2)‘‘، ’’بے شک کافر اپنی سی چال چلتے ہیں اور میں اپنی خفیہ تدبیر فرماتا ہوں، (الطارق: 15-16)‘‘، ’’اور انہوں نے اپنی چال چلی اور اللہ نے اپنی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر خفیہ تدبیر فرمانے والا ہے، (آل عمران: 54)‘‘۔ ایسی ہی صورتِ حال کے بارے میں مرزا غالب نے کہا تھا:
مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی
ہیولیٰ برقِ خرمن کا ہے خونِ گرم دہقاں کا
الغرض مرزا ناصر نے جو چال چلی تھی اور جو تدبیر اُن کو سوجھی تھی، اللہ تعالیٰ نے اُسی میں اُن کی ناکامی مقدر فرمادی اور یہ اللہ تعالیٰ کی غیبی مدد تھی، اگر اُن کو اس انجام کا معمولی سا بھی شائبہ ہوتا تو وہ اپنی بربادی کا یہ اہتمام کبھی نہ کرتے۔ قومی اسمبلی میں موجود ہمارے جید اکابر علماء نے بروقت اس سازش کا ادراک کرلیا اور دامِ تزویر میں نہیں آئے، بلکہ اُن کی خود پیش ہونے کی پیشکش کو نعمت ِ غیرمترقّبہ (Unexpected Blessing) سمجھا اور اسے دین کے اعلیٰ مقصد کے لیے استعمال کیا، یہی سنتِ انبیاء ہے، چنانچہ قرآنِ کریم نے سیدنا ابراہیمؑ کے نمرود سے مناظرے کو اِن کلمات میں بیان فرمایا: ’’(اے رسولِ مکرّم!) کیا آپ نے اُس شخص کو نہیں دیکھا جس نے ابراہیمؑ سے اس بات پر جھگڑا کیا کہ اُسے سلطنت اللہ نے عطا کی ہے، جب ابراہیم نے کہا: میرا پروردگار وہ ہے جو زندگی عطا کرتا ہے اور موت دیتا ہے، اُس نے کہا: میں بھی زندہ کرتا ہوں اور مارتا ہوں، ابراہیمؑ نے کہا: پس بے شک اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے (اور اگر تجھے اپنی خدائی کا زُعم ہے تو) تُو اِسے مغرب سے نکال کر دکھا دے، پس وہ کافر لاجواب ہوگیا، (البقرہ: 258)‘‘۔ یہاں ابراہیمؑ نے اس پر بحث نہیں کی کہ اِحیاء کے معنی حیات عطا کرنے کے ہیں، کسی کی سزائے موت معاف کرنے کے نہیں ہیں اور اِمَاتَتْ کے معنی موت دینے کے ہیں، قتل کرنے کے نہیں ہیں، قتل سببِ موت ہے، لیکن حیات سلب کرنے والی ذات اللہ کی ہے، اگر سیدنا ابراہیمؑ اس بحث میں پڑ جاتے تو اس کی سطح عام لوگوں کے ذہنوں سے بلند ہوجاتی، مگر اُن کا مقصد محض مناظرہ جیتنا نہیں تھا، بلکہ نمرود اور اس کے ماننے والوں پر حق کو آشکار کرنا اور غالب کرنا تھا، اس لیے انہوں نے دلیل کا رخ فوراً اس طرف پھیرا جو عام آدمیوں کے ذہن کو اپیل کرنے والی تھی، چنانچہ اس سے نمرود کی خدائی کا باطل دعویٰ ان پر آشکار ہوا۔
مرزاقادیانی نے اپنی فردِ جرم یا چارج شیٹ خود مرتب کر رکھی تھی، اس کا تحریری ریکارڈ اُس کی مطبوعہ کتابوں میں موجود تھا، یہ کتابیں خود قادیانیوں کی اپنی طبع کردہ تھیں، کوئی یہ الزام بھی نہیں لگا سکتا تھا کہ مرزا کی کتاب میں تحریف کردی گئی ہے یا ردّوبدل کردیا گیا ہے، جب مرزا ناصر سے سوال کیا جاتا تو کتاب بھی اُس کے سامنے پیش کردی جاتی، پس اُسے انکار کی مجال نہیں تھی۔ کتابیں اردو میں تھیں اور پارلیمنٹ کے ارکان کے لیے انہیں سمجھنے میں کوئی دشواری بھی نہیں تھی۔
علماء براہِ راست مرزا ناصر سے سوال نہیں کرسکتے تھے، وہ سوال لکھ کر اُس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار کو دیتے اور وہ اُن میں سے انتخاب کر کے مرزا ناصر سے پوچھتے۔ مرزا ناصر پیچ وتاب کھاتے رہتے، گریز کے راستے تلاش کرتے، پتلی گلی سے نکلنے کی کوشش کرتے، لیکن اُن کی یہ ساری تدبیریں اور سب چالیں ناکام ونامراد ہوئیں، اس میں اٹارنی جنرل جنابِ یحییٰ بختیار کا کردار اور مہارت بڑی نمایاں تھی۔ مرزا ناصر کے گریز کی صورت میں بعض اوقات انہیں ایک سوال کئی انداز سے کرنا پڑتا، اس طرح تمام حقائق پارلیمنٹ کے ارکان پر روزِ روشن کی طرح واضح ہوگئے۔ مرزا غلام احمد نے اپنی کتابوں میں خود کو خاتم النبیین کہا ہے، سیدنا عیسیٰؑ اور اُن کی والدۂ ماجدہ سیدہ مریم، سیدنا امام حسین اوراُن کی والدۂ ماجدہ سیدۂ کائنات فاطمۃ الزہراؓ کی صریح توہین کی ہے، العیاذ باللہ! اپنے آپ کو خاتم النبیین سیدنا محمد رسول اللہؐ سے افضل قرار دیا ہے، خود کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر کہا ہے، کنجریوں کی اولاد کہا ہے، حرامی کہا ہے، وغیرہ۔ اب ارکانِ پارلیمنٹ کے سامنے دو ہی راستے تھے: یاتو معاذ اللہ اپنے اوپر لگائے گئے مرزا کے فتوے کو مانتے یا اُسے دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے اور ظاہر ہے کہ ان کے پاس فقط یہی آپشن تھا۔