جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ حل تک اپنی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے ، عمران خان

149

اسلام آباد: وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 2 سال ہو چکے ہیں اور جموں و کشمیر تنازع کے منصفانہ حل تک اپنی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے، بھارت کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا ہے۔

تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ آج بھارت کی جانب سے غیرقانونی زیر تسلط جموں و کشمیر میں5 اگست 2019 کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات کو 2 سال بیت چکے ہیں،  ان اقدامات کے بعد بھارت نے مقبوضہ علاقے میں اپنے غیرقانونی تسلط کو  برقرار رکھنے کیلئے غیرمعمولی فوجی محاصرے کے ساتھ ساتھ کشمیری عوام کے بنیادی حقوق اور آزادیوں پرپابندیاں عائد کردیں لیکن اس کے باوجود بھارت کشمیری عوام کے عزم صمیم کو متزلزل نہیں کرسکا۔

عمران خان نے کہا کہ کشمیریوں کومسلسل انسانی حقوق کی پامالیوں کا سامنا ہے،  بھارت کشمیریوں کو اپنی ہی سر زمین اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے،  بھارتی اقدامات اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیرکے عوام کو مسلسل ماورائے عدالت قتل، گرفتاریوں کے دوران تشدد و اموات، جبری حراست، اجتماعی سزا کی اذیت سے دو چار کرنے کیلئے گھروں کو جلانے اور لوٹ مار کے علاوہ انسانی حقوق کی دیگر بدترین پامالیوں کا سامنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کے غیرقانونی اور یکطرفہ اقدامات اور بعد ازاں بالخصوص ڈومیسائل قواعد اور اراضی ملکیت کے قوانین سے متعلق دیگر اقدامات کا مقصد غیرقانونی زیر تسلط جموں وکشمیرکے جغرافیائی ڈھانچے کو تبدیل کرنا اور کشمیریوں کو ان کی اپنی ہی سرزمین پر اقلیت میں بدلنا ہے یہ اقدامات اقوام متحدہ منشور، اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، پاکستان، کشمیری عوام اور بین الاقوامی برادری نے ان اقدامات کو بھرپور انداز میں یکسرمسترد کیا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر، یورپی پارلیمنٹ، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ سمیت متعدد بین الاقوامی اداروں اور مختلف انسانی حقوق کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے بھارت کے ان غیرقانونی اقدامات پر کڑی تنقید کی گئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان غیرقانونی زیرتسلط جموں وکشمیرکے عوام کی بے مثال جرأت، لازوال قربانیوں اور بھارتی جبرو استبداد کے سامنے ثابت قدمی اور استقلال کے مظاہرے کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اپنے جائز حق خودارادیت کے حصول کیلئے پرعزم جدوجہد کررہے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ غیرقانونی زیر تسلط جموں وکشمیرمیں روز اول سے بھارت کے تمام یکطرفہ اور غیرقانونی اقدامات، 5 اگست 2019 اور اس کے بعد اٹھائے جانے والے اقدامات اور مستقبل میں کوئی بھی اضافی یکطرفہ تبدیلیاں سلامتی کونسل کی قراردادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی دراصل کالعدم اقدامات ہیں، پاکستان، اقوام متحدہ، انسانی حقوق کی تنظیموں اورعالمی ذرائع ابلاغ سمیت بین الاقوامی برادری پر زور دیتا ہے کہ کشمیری عوام کے خلاف جرائم پربھارت کا محاسبہ کریں۔

وزیراعظم نےاپنے پیغام میں مزید  کہناتھا کہ میں کشمیرکازسے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کرتا ہوں، ہم کشمیری عوام کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے حصول اور اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق جموں وکشمیر تنازعہ کے منصفانہ حل تک اپنی ہر ممکنہ معاونت جاری رکھیں گے۔