معروف خطاط منور اسلام کی وفات سے خطاطی کاروشن عہد ختم ہوگیا

36

لاہور (نمائندہ جسارت) معروف خطاط منور اسلام ابن نادر القلم کی وفات سے خطاطی کاایک روشن اورتابناک عہد ختم ہوگیا ہے ۔ منور اسلام کی خطاطی کے فروغ اور احیا کے لیے تاریخی خدمات ہیں ،وہ ہمیشہ باوضو ہو کر خطاطی کیا کرتے تھے اور وہ پاکستان میں اسلامی خطاطی کی نمائشوں کے بانی بھی تھے، دعا ہے اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ورثا کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔ ان خیالات کااظہار عکاشہ کیلیگرافی فائونڈیشن کے چیئرمین عکاشہ ساہل نے خطاط منور اسلام کی وفات پر اپنے ایک تعزیتی بیان میں کیا ۔ انہوں نے کہا کہ منور اسلام کی وفات خطاطی کے شیدائیوں کے لیے گہرا صدمہ ہے دعا ہے کہ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ورثاکو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے ۔استاد منور اسلام کو خط ِ نستعلیق ، خط ِ ثلث ، خط ِ نسخ ، خط ِ کوفی اور بالخصوص خط ِ دیوانی سمیت عربی کے تمام اسلوب ِ خطاطی پر مہارت حاصل تھی ، دنیا بھر سے ملنے والے لاتعداد انعامات ، اعزازات اور تعریفی اسناد خطاطی کے فن پر ان کی خدمات، اعتراف اور مہارت کاثبوت ہیں ۔انہوں نے اپنی زندگی خطاطی کے فروغ کے لیے وقف کررکھی تھی،ان کاگھرانہ تین نسلوں خطاطی کے فن کی خدمت کررہا ہے ۔انہوں نے نہ صرف قدیم اسلامی فن خطاطی کو زندہ رکھا بلکہ اس میں ندرت اور جدت پیدا کرکے مزید دلکشی بھی پیدا کی ۔ملک بھر میں اہم مقامات اور عمارات پر آویزاں نقش، خطاطی کے نادر نمونے اور شہ پارے ان کی یادوں کو ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رکھیں گے ۔ استاد منور اسلام اگرچہ ہم میں موجود نہیں تاہم ان کے ہزاروں شاگرد ان کانام روشن رکھے ہوئے ہیں ۔ دعا ہے کہ اللہ مرحوم کی مغفرت فرمائے اور ورثا کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائے۔