امریکا اور بھارت کی پاکستان کو پھر دھمکی

400

امریکا کے سیکرٹری اسٹیٹ انتونی بلینکن نئی دھلی اُترے ایئر پورٹ پر تیز بارش کا سامنا تھا اور وہ بڑی مشکل سے لاؤنچ میں پہنچے ۔یہاں انتونی بلینکن کے دورے کی بنیا دی وجہ افغانستان ہے ۔بلینکن بھارت کو یہ حکم دینے آئے ہیں کہ بھارت افغانستان میں اپنی فوج اُتارنے کی تیا ری کرے اور امریکا اس کی فضائی مد د کر ے گا لیکن امریکا کے سیکرٹری اسٹیٹ انتونی بلینکن نے بھارت کی یہ تجاویز منظور کر لی ہے کہ بھارت پاکستان پر حملہ کر دے تاکہ افغان طالبان پر دباؤ بڑھایا جائے ۔ جس کے فوری بعد بھارت نے پاکستان کو دھمکی دے دی ہے کہ پاکستان فوری طور پر آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان خالی کر دے اور اگر ایسا نہیں ہو ا تو پاکستان کو بھیانک نتائج کا سامنا ہو گا
اس کے ساتھ ہی امریکی فوج کی مرکزی کمان سینٹ کام کے سربراہ جنرل کینتھ مک کینزی نے کابل میںاعلان کیا ہے کہ طالبان کے حملوں کے جواب میں پچھلے چند دنوں کے دوران امریکانے فضائی حملے شروع کر رکھے ہیں اور اگر طالبان نے اپنی پرتشدد کارروائیاں ترک نہ کیں، تو جوابی فضائی حملوں میں بھی تیزی آجائے گی اور پورے افغانستان میں شدید بمباری کی مدد سے طالبان کی فتوحات کو مکمل بریک لگا دیا جائے گا ۔لیکن چین نے طالبان کے وفد کا استقبال کرتے ہو ئے اعلان کیا ہے وہ بہت جلد طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے ہو ئے ان کے لیے پوری دنیا میں لابنگ کر ائے گااور دنیا کے بہت سے ممالک افغانستان میں طالبان کی حکومت تسلیم کر لیں گے
اس بات میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ افغانستان امریکا کے لیے ایک دلدل بن کر رہ گیا ہے اور اب امریکا بھارت کو اس دلدل میں بھیجنے کی تیا ری کر رہا ہے لیکن بھارت کو یہ بات یاد رکھنا ہو گا کہ امریکا بھی پورے لشکر کے ساتھ طالبان کو تباہ اور ان کے حمایتی پاکستان کو بھارت کے ہاتھوں بر باد کر نے کے لیے آیا تھا لیکن امریکا نہ صرف افغان طالبان کے ساتھ مذاکرات پر مجبور ہو گیا بلکہ امریکا اب ہر صورت افغانستان سے نکلنا چاہ رہا ہے۔ دوحامیں ہونے والے امریکا طالبان معاہدے کے مطابق اس سال کے آخر تک امریکا افغانستان سے نکل جائے گا۔ اگر حقیقت کی نگاہ سے دیکھا جائے تو طالبان کے ساتھ امریکا کا معاہدہ کرنے کا مطلب یہی تھا کہ امریکا طالبان کو افغانستان کی ایک بڑی حقیقت کے طور پر تسلیم کر چکا ہے۔
امریکا انخلا کے بعد علاقے کے دیگر ممالک، خاص طور پر بھارت نے اپنے مفادات کے لیے مختلف افغان گروہوں سے رابطے اور ان کی مدد کرنا شروع کر دی تو پاکستان بھی مجبور ہو گا کہ وہ افغانستان میں پاکستان کے حمایتی تلاش کرے۔ ویسے تو اب تک پاکستان بھی یہ سمجھ چکا ہو گا کہ اچھے طالبان، برے طالبان کی پالیسی سے نہ پہلے کچھ حاصل ہو ا ہے اور نہ مستقبل میں ہو گا۔ اسی طرح “Straetegic Depth” کا نعرہ بظاہر جتنا بھی دلفریب لگتا ہو، زمینی حقیقت صرف اتنی ہے کہ ایک پر امن افغانستان جس سے پاکستان کے اچھے تعلقات ہوں، پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔ لیکن یہ سب کچھ سمجھنے کے باوجود، پاکستان کی اصل اور عملی خارجہ پالیسی کیاشکل اختیار کرتی ہے ، اس کا دارومدار کافی حد اس بات پر ہو گا کہ بھارت کیا پالیسی اپناتا ہے۔ اسلام اور پاکستان دشمنی میں جس قدر سرمایہ کاری بھارت افغانستان میں کر چکا ہے ، لگتا نہیں کہ بھارت آسانی کے ساتھ افغانستان میں ایسا امن قائم ہونے دے گا جس میں افغانستان کے عوام اور طالبان بڑی اور اہم سیاسی قوت بن کر ابھر آئیں۔اس کے لیے سب سے پہلے بھارت افغان حکومت کے ساتھ ساتھ افغانستان کے دیگر گروپوں ، بشمول طالبان کے ساتھ سفارتی محاذ پر تعلقات بہتر اور مضبوط بنانے کی کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ بھارت پہلے ہی افغان افواج کو تربیت اور سپورٹ فراہم کر رہا ہے۔ افغانستان میں اپنی مداخلت قائم رکھنے کے لیے بھارت فوجی تربیت اور انٹیلی جنس شئیرنگ کے نام پربھی مداخلت جاری رکھنے اور افغان حکومت پر اپنا اثر رسوخ بڑھانے کے لیے معاشی مدد کے نام پر بھی افغانستان میں مداخلت کے مواقع حاصل کرے گا۔
ویسے تومعاشی اور تجارتی رشتے اقوام کو قریب لے آتے ہیں لیکن موجودہ افغان حکومت پر بھارت کا اثر رسوخ بہت زیادہ ہے جس کی بنا پر افغان حکومت کا کہنا ہے کہ جب تک پاکستان بھارتی برآمدات کے لیے راستہ نہیں دے گا تب تک افغانستان پاکستان کے ساتھ بھی تجارت نہیں کرے گا۔ اسی لیے گزشتہ کچھ برسوں میں پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت کم ہوتی جا رہی ہے اور افغانستان بھارتی مصنوعات کی منڈی بن چکا ہے جو اسے براستہ تہران فراہم ہو رہی ہیں۔دیکھنا یہ ہے کہ امریکی افواج کے انخلا، اور طالبان کی سیاسی طاقت کی بحالی کے بعد افغان حکومت اس سلسلے میں کیا پالیسی اختیار کرتی ہے۔ اگر آنے والے وقت میں بھی افغانستان کی حکومت نے بھارت نواز پالیسیاں اختیار کرنے کا فیصلہ کیا تو مستقبل میںافغانستان وسطی ایشیا کے لیے پاکستانی برآمدات کے لیے تجارتی راستہ بھی مکمل طور پر بند کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، یا دوسرے الفاظ میں بھارت ایسا کروا نے کی کوشش کر سکتا ہے۔ اسی لیے پاکستان کے لیے اہم ہے کہ افغانستان کے ساتھ اپنی تجارت بڑھا ئے اور ظاہر ہے کہ اس سلسلے میں نئے افغانستان میں پاکستان طالبان میں موجود اپنے دوستوں سے مدد لے گا۔ دوسری جانب امریکاکی کوشش اور خواہش یہی ہو گی کہ اس کے انخلاء کے بعد بھارت کو افغانستان میں کنٹرول اور مکمل رسوخ حاصل ہو جائے۔ اسی غیر حقیقت پسندانہ خواہش کے زیر اثر بھارت نے گزشتہ دہائیوں میں افغانستان میں اپنے اور امریکی اداروں کے اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں۔ امید ہے کہ اتنی دہائیوں کی جنگ کے بعد افغان حکومت اور افغان عوام بھی یہ حقیقت سمجھ چکے ہوں گے کہ جس طرح پر امن پاکستان کے لیے دوست اور پر امن افغانستان ضروری ہے اسی طرح افغانستان میں سیاسی استحکام کے لیے پاکستان اہم اور ضروری ہے کیونکہ پاکستان اور افغانستان ایسے ممالک ہیں جن کی سرحدیں ملتی ہیں اور ان سرحدوں کے دونوں جانب عوام کے دیرینہ رشتے ، روابط اور دوستیا ں ہیں، جن کو جنگیں، عالمی سیاست اور امریکا یا بھارت کی خواہشات نہ تو پہلے ختم کر سکی ہیں نہ آئندہ کر سکیں گی۔ بھارت تو ہزاروں میل دور بیٹھا ہے، اس کے افغانستان میں مفادات صرف اور صرف اسلام اور پاکستان دشمنی، اور خطے میں امریکی مفادات کا تحفظ ہیں۔ اگر اب بھی افغانستان کی موجودہ حکومت یہ سب نہ سمجھی اور اس نے افغانستان میں امن کے قیام کا یہ موقع کھو دیا تو مزید دس پندرہ سال کی بد امنی کے لیے تیار ہو جائے۔ اس میں بھارت اور امریکا کا کچھ نہیں جائے گا۔ افغانستان کی ایک اور نسل جنگ اور لڑائی کی نذر ہو جائے گی۔