بارشیں اور پانی کی ناقدری

180

قیامت کی گرمی سے جان چھوٹی تو اب بارشوں نے آلیا ہے ۔ مون سون کی بارشیں ہرسال ایک معمول کا درجہ رکھتی ہیں لیکن اس سال ان کے تیور بدلے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پہلی یلغار وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پر کی ہے ۔ یہ پاکستان کا سب سے خوبصورت شہر ہے ۔ اس کی پلاننگ اس طرح کی گئی ہے کہ اس میں خواہ کتنی بارش ہوجائے ، پانی نہیں ٹہرتا اور برساتی نالوں کے ذریعے نشیب میں بہہ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ موسم برسات کو اسلام آباد کا سب سے خوشگوار اور وخوبصورت موسم کہتے ہیں ۔ بارش ہوتی ہے تو سڑکیں اور گلیاں دھل جاتی ہیں ۔ سبزہ نکھر جاتا ہے ۔ درخت اور پھولدار پودوں میں نئی رونق آجاتی ہے ۔ پارکوں اور باغات میں زندگی سہکنے لگتی ہے ۔اور ہرطرف خوشی کی لہر دوڑ جاتی ہے ، لیکن اب کی دفعہ مون سون کی پہلی بارش نے ہی اس شہر کو بے حال کردیا۔ بادل اس طرح ٹوٹ کر برسا کہ سڑکیں دریا اور گلیاں ندی نالے بن گئے ۔ پانی کا بہائو اتنا تیز اور منہ زور تھا کہ سڑکوںپر کھڑی گاڑیاں کاغذ کی نائو کی طرح سیلانی ریلے میں بہہ گئیں۔ ڈپٹی کمشنر اسلام آباد کا کہنا تھا کہ بادل کے پھٹنے سے یہ قیامت برپا ہوئی ہے ۔ اور لوگ ان کی بات کو لے اڑے حالانکہ بادل پھٹنے کی ترکیب اردو میں کسی اور مفہوم میں استعمال ہوتی ہے۔ شاعر نے کہا ہے
وہ ہوا نے زور یا ندھا اور بادل پھٹ گیا
کھل گیا خورشید کا چہرہ کہ پردہ ہٹ گیا
یعنی بادل پھٹنے سے مطلع صاف ہوجاتا ہے اور سورج نکل آتا ہے ۔ اسلام آباد میں بادل پھٹنے سے نہیں، طوفانی بارش سے تباہی پھیلی۔ وفاقی وزیر اسد عمر نے کہا ہے کہ اسلام آباد سے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی بھی ہیں۔ اس تباہی کی چھان بین کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بٹھادی ہے ۔ دیکھیئے وہ کیا دور کی کوٹری لاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ اسلام آباد میں ساٹھ برساتی نالے ہیں۔ اگر ان کا حال بھی وہی ہے جو کراچی کے برساتی نالوں کا ہے تو اسلام آباد کا یہی حشر ہونا تھا جو ہوا ۔ ابھی تو سارا ساون پڑا ہے ۔ دیکھیں کیا ہوتا ہے ۔
بارش درحقیقت قدرت کی بہت بڑی نعمت اور اللہ کی رحمت ہے جو انسانوں پر نال ہوتی اور ان کے اندر نئی زندگی دوڑا دیتی ہے ۔ اللہ کی کتاب میں بارش کا ذکر بار بار آیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ بارش سے مردہ زمین بھی اٹھتی ہے اور رزق کے خزانے اگلنے لگتی ہے ۔ پھر اس پر استدلال کرتے ہوئے انسانوں کو بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ بھی اس طرح جی اٹھیں گے اور اپنے رب کے حضور پیش ہوجائیں گے ۔ پوری دنیا کے انسان دوبارہ جی اٹھنے پر خواہ یقین نہ رکھتے ہوں لیکن بارش سے مردہ زمین کے جی اٹھنے کو تو وہ بار بار اپنی زندگی میں دیکھتے ہیں ان کا نفس گواہی دیتا ہے کہ ہاں ایسا ممکن ہے ۔ انقس وآفاق میں پھیلی ہوئی ہزاروں نشانیاں یہ گواہی دیتی ہیں کہ ایسا ممکن ہے ، بالکل ممکن ہے ۔ انسناوں کو پیدا کرنے والے رب نے انہیں بے لگام نہیں چھوڑا وہ قیامت کے دن ان کے اعمال کا حساب لے گا اور انہیں جزا وسزا سے نوازے گا ۔ آئیے پھر بارش کا ذکرکرتے ہیں جو پانی کی بے پایاں نعمت لے کر انسانوں پر نازل ہوتی اور انہیں حیات تازہ سے ہمکنار کرتی ہے جن علاقوں میں بارش نہیں ہوتی یا بہت کم ہوتی ہے وہاں خشک سالی اور موت ڈیرے ڈال لیتی ہے ۔ یہ بھی قدرت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے اور انسانوں کو یاد دلاتی ہے کہ وہ اپنے رب کی کون کون سی نعمت کو جھٹلائیں گے ۔ قدرت نے پاکستان کو چاروں موسموں سے نہایت نیاحتی کے ساتھ نوازا ہے ۔ یوں تو وطن عزیز میں سارا سال وقفے وقفے سے بارش ہوتی رہتی ہے ۔ بہت سے بارانی علاقے ایسے ہیں جہاں فصلوں کا انحصار ہی بارش پر ہے ۔ کسان زمین میں ہل چلا کر بیچ ڈال دیتا ہے پھر آسمان کی طرف سے ایمہ بھری نظروں سے دیکھنے لگتا ہے ۔ قدرت اسے مایوس نہیں کرتی ۔ بارش ہوتی ہے اور ردیکھتے ہی دیکھتے فصل لہلہانے لگتی ہے لیکن برسات بارش کا خاص موسم ہے جس میں قدرت بڑی فیاضی سے باران رحمت کا نزول کرتی ہے ۔ ہرطرف جل تھل ہوجاتا ہے ۔ ندی نالے بپھر جاتے ہیں اور دریا اپنے کناروں سے ابل پڑتے ہیں۔ بارش کا یہ پانی نہایت قیمتی اور ذخریہ کرنے کی چیز ہے جو قومیں اس کی قدر جانتی ہیں انہوں نے اپنے ملکوں میں سیکڑوں ڈیم بنارکھے ہیں جہاں وہ یہ پانی ذخیرہ کرلیتی ہیں اور سارا سال اس سے فائدہ اٹھاتی ہیں لیکن پاکستان میں بارش کا لاکھوں کیوسک پانی ضائع ہوجاتا ہے کیونکہ ہم نے ڈیم (آبی ذخائر) بنانے پر توجہ نہ دی اور اسے بھی سیاسی ایشو بنا لیا ۔ مجوزہ کالا
باغ ڈیم پر اتنی سیاسی گرد اڑی کہ خدا کی پناہ ! اب اس کانام لیتے ہوئے بھی خوف آتا ہے ۔ نتیجہ یہ کہ بارشیں بھی ہورہی ہیں۔ سیلاب بھی آرہے ہیں۔ لیکن ملک میں آبی ذخائر نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی قلت بڑھتی جارہی ہے اور زیر زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے ۔ لوگوں کو پیسے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ اور حکومت کی ناک کے نیچے ٹینکر مافیا اپنا کھیل کھیل رہا ہے ۔ قدرت نے تو ہمارے ساتھ بخیلی نہیں کی ۔ اس نے تو ہمیں بڑی فیاضی کے ساتھ پانی سے نوازا ہے لیکن ہم خود اس فیاضی کی ناقدری کررہے ہیں اور اس ناقدری کی سزا بھی بھگت رہے ہیں۔ کیا اب بھی ہماری آنکھیں نہیں کھلی گی ۔؟