نصاب تعلیم کی سامراجی تخریب کاری کی جنگ

320

عمران خان سامراجی پٹھو ہے۔ اس نے جمال عبدالناصر کی طرح اسلام کو ریاست کا ایک ہتھیار بنانے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے۔ اس کوشش کی ایک اہم کڑی ایک نیشنل نصاب Curriculum) کی متوقع تنفیذ ہے۔
اقتدار پر غاصبانہ قبضہ کے بعد عمران خان نے 2018 میں جو کونسل اس نصاب کو بنانے کے لیے قائم کی وہ دو سامراجی دہریہ تنظیموں کے زیر اثر کام کر رہی ہے۔ یہ دونوں تنظیمیں UN Commission for International Religious Tolerance اور International Commission for Religion and Democracy امریکی وزارت خارجہ کے ذیلی دفاتر کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عمران خان نے اپنی نیشنل کریکولم کونسل کو دہریوں، ملحدوں، سرمایہ داری اور سامراجی ایجنٹوں سے بھر دیا ۔ اس کمیٹی نے جو قومی کریکولم تجویز کیا وہ سرمایہ دارانہ دہریہ اقدار ہیومن رائٹس، ٹالرینس، فریڈم، کریٹکل تھنکنگ وغیرہ کی تشہیر سے لبریز ہے اور اس میں قدیم اسلامی سیاسی اور ثقافتی روایات کا شائبہ تک موجود نہیں۔
اب سامراج اس مذہبی مواد کو بھی اس نصاب سے خارج کرنے کی جدوجہد کر رہا ہے جو اردو، انگریزی اور معاشرتی علوم کے دروس میں موجود ہے۔ قومی نصاب کو دہریہ بنانے کی جدوجہد سامراج نے 2019 سے شروع کر رکھی ہے جب سامراجی پٹھوؤں نے عدالت عالیہ میں اس ضمن میں ایک کیس داخل کیا جس میں سامراجی پٹھو اب یہ دعوی کر رہے ہیں کہ تمام اسلامی مواد انگریزی، اردو اور معاشرتی علوم سے خارج کیا جائے۔
عمران خان ریاست مدینہ کی بات کرتا ہے کیا وہ یہ نہیں جانتا کہ ایک اسلامی ریاست میں غیر مسلموں کوجو حقوق اور مراعات فراہم کی جاتی ہیں ان کا مقصد یہ ہے کہ یہ غیر مسلم بتدریج مشرف بہ اسلام ہو جائیں۔
اسلامی تعلیمات میں دہریہ تصور حقوق انسانی اور ٹولیرنس کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہ اقدار تو تحکم قانون سرمایہ کے ذرائع ہیں۔
2014 میں شروع ہونے والے اس کیس کی سات سماعتیں ہو چکی ہیں اور اس مقدمہ میں پاکستان مسلم اکثریت کی کوئی نمایندگی نہیں کر رہا اور وفاقی وزارت تعلیم ایک نہایت کمزور موقف اختیار کیے ہوئے ہے۔
اس مقدمہ میں مسلم اکثریتی نقطہ نگاہ پیش کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ نصاب تعلیم کی سامراجی تخریب کاری کو شکست دی جائے اور یہ کام حکومت وقت نہیں کر سکتی۔ 10 اپریل کو ایک ملک گیر ویبنار منعقد ہوا جس کی صدارت محترم پروفیسر ملک محمد حسین نے فرمائی۔ ویبنار نے جماعت اسلامی سے اپیل کی کہ دیگر اسلامی تنظیموں کے تعاون سے یہ ذمہ داری قبول کرے۔ ہمارے چوٹی کے وکلا کی ایک ٹیم سپریم کورٹ میں اس کیس میں پارٹی بنیں اور پوری محنت کے ساتھ کیس پیش کریں۔
ویبنار کے مطابق جن دیگر تنظیموں سے اس ضمن میں اشتراک عمل کی کوشش کی جانی چاہیے ان میں تنظیم اساتذہ پاکستان، تنظیم اسلامی، تحریک اسلامی، اصلاح تعلیم ٹرسٹ، اسلامی جمعیت طلبہ، حرا انٹرنیشنل فانڈیشن وغیرہ شامل ہیں۔ میری رائے میں اس اتحاد میں جمعیت علمائے اسلام اور دوسری اسلامی جماعتوں کو شامل کرنے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔
امید اور توقع یہی ہے کہ اگر ہم نے اس کام کا بیڑا اٹھا یا اور مثبت پیش رفت کی تو ہم یہ مقدمہ جیت جائیں گے اور کم ازکم ہمارا اردو، انگریزی اور معاشرتی علوم کا درسی نصاب کسی نہ کسی حد تک سامراجی تخریب کاری سے محفوظ رہے گا اور اگر ہم نے یہ مقدمہ لڑا تو جماعت کے قومی وقار اور انفرادی اسلامی شناخت کے اظہار میں ایک اہم کردار ادا کرے گا۔
لیکن ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ تمام ریاستی ادارے بشمول عدلیہ سیاسی عمل اور دبا کے تابع ہیں اور کوئی
ادارتی فیصلہ سیاسی حقائق کو نظرانداز کر کے نہیں کیا جاسکتا لہذا سپریم کورٹ میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ اس چیز کی بھی اشد ضرورت ہے کہ نصاب تعلیم (جو خالصتا دہریہ سامراجی اقدار کا غماز ہے)کو سیاسی طور پر چیلنج کیا جائے اور نصاب تعلیم میں سامراجی تخریب کاری کو رد کرنے کی تحریک کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ناموس کے تحفظ کی تحریک سے منسلک کر کے ہمیں اس کو عوامی اسلامی جذباتیت کو فروغ دینے کا ذریعہ بنانا چاہیے نئے نصاب تعلیم کی مکمل تنسیخ ہمارا مطالبہ ہونا چاہیے۔