طالبان وفد کی چین آمد ،وزیرخارجہ سے ملاقات تعاون کی یقین دہانیاں

181

تیانجن(مانیٹرنگ ڈیسک)افغان طالبان کا وفد مذاکرات کے لیے 2روزہ دورے پر چین میں ہے ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملا عبدالغنی برادر کی سربراہی میں 12 رکنی طالبان وفد نے چین کے شہر تیانجن میں وزیر خارجہ وانگ یی سے اہم ملاقات کی اور باہمی امور پر تبادلہ خیال کیا۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ملاقات میں دونوں جانب سے ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنے اور افغانستان میں قیام امن و ترقی کے لیے تعاون اور مدد کی یقین دہانیاں کرائی گئیں۔چینی وزیر خارجہ وانگ یی نے ملاقات کے بعد میڈیا کو بتایا کہ طالبان نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی۔ انہوں نے چین کے صوبے سنکیانگ میں متحرک گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں اْمید ہے کہ طالبان مشرقی ترکستان کی اسلامی تحریک کے خلاف بھی کارروائی کریں گے کیونکہ یہ تحرک چین کی قومی سلامتی کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔ دوسری جانب افغانستان میں طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے ٹویٹر پر لکھا کہ چین کی سرکاری دعوت پر طالبان وفد نے پڑوسی ملک کا دورہ کیا اور چینی وزیر خارجہ سے ملاقات کی جس میں سیاست، سیکورٹی، معیشت اور دو طرفہ باہمی امور کی دلچسپی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق چین کو خدشہ ہے کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان ایغور مسلمانوں کی تحریک کے لیے استعمال ہو سکتا ہے تاہم طالبان کے ترجمان محمد نعیم نے اس خدشہ کو بے بنیاد قرار دیا۔ انہوںنے بتایا ہے کہ بیجنگ حکومت نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کی جائے گی۔