بھارتی پارلیمان میں زبردست ہنگامہ ، مودی کی پولتی بند

104
نئی دہلی: حزب اختلاف کے سیاستدان پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے خلاف سائیکلیں لے کر ایوان پہنچے ہوئے ہیں‘ پارلیمان میں بات نہ کرسکنے والے مودی عمارت کے باہر پریس کانفرنس کررہے ہیں

نئی دہلی (انٹرنیشنل ڈیسک) بھارتی پارلیمان میں مون سون کے حوالے سے ہونے والا اجلاس زبردست ہنگامہ آرائی کے باعث ملتوی کردیا گیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی اپنے نئے وزرا کا تعارف بھی نہ کرا سکے۔ اجلاس شروع ہوتے ہی حزب اختلاف نے متنازع زرعی قوانین اور بڑھتی ہوئی مہنگائی، خاص طور پر پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور ناقص پالیسیوں پر شدید نکتہ چینی کی۔ اجلاس کی ابتدا میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی کابینہ کے نئے وزرا کا تعارف کرانا شروع کیا، تاہم حزب اختلاف نے ان کی ایک بھی نہ سنی اور اس طرح ہنگامہ آرائی جاری رہی۔ تھوڑی دیر بعد اجلاس چند گھنٹے کے لیے ملتوی کردیا گیا۔ وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے کانگریس پارٹی پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی اصول و ضوابط کی پاسداری کرتے ہوئے مثبت روایات قائم نہیں ہوسکیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق حزب اختلاف کے کئی ارکان نے پارلیمان میں اپنے ہاتھوں میں بینر اٹھا رکھے تھے، جن پر پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے علاوہ کسانوں کے مسائل اور متنازع زرعی قوانین کے خلف نعرے درج تھے۔ ریاست بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس کے کئی ارکان پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف بطور احتجاج سائیکلوں پر سوا ہو کر پارلیمان پہنچے۔ ارکان کا کہنا تھا کہ مودی حکومت کو اس کا جواب دینا ہوگا کہ آخر ضروری اشیا کی قیمتیں اتنی زیادہ کیوں ہو گئی ہیں۔ اس سے قبل مودی نے کہا تھا کہ انہیں امید ہے کہ ایوان میں تمام مسائل پر سیر حاصل بحث ہو گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کو سخت سوال پوچھنے کا حق ہے، تاہم حکومت کو بھی جواب دینے کا موقع دیا جانا چاہیے۔