سیلاب نے یورپی انفراسٹرکچر اور انتظام کا پول کھول دیا

130
جرمنی: چانسلر انجیلا مرکل سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کررہی ہیں

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) یورپ کے ترقی یافتہ ممالک میں حالیہ سیلاب نے انفراسٹرکچر اور انتظام کا پول کھول دیا ہے۔ سوال کیا جا رہا ہے کہ کیا یہ ممالک اس طرح کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جرمن حکومتی اہل کار اور عہدے دار حالیہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے اپنی تیاریوں کا دفاع کر رہے ہیں، تاہم انہوں نے اس امر کا اقرار کیا ہے کہ مغربی یورپی ممالک میں آنے والے سیلاب سے کچھ سبق سیکھنا ہوگا۔گزشتہ ہفتے جرمنی کے 2 مغربی صوبوں کو اپنی لپیٹ میں لینے والے سیلاب کی تباہ کاریوں کی تفصیلات جیسے جیسے سامنے آ رہی ہیں، عوام میں تشویش بھی بڑھ رہی ہے کہ آخر اس نوعیت کی ناگہانی آفات سے بچاؤ کے لیے حکومت نے کس حد تک مؤثر انتظامات کیے ہیں۔ پیر کے روز بھی مزید متاثرین کی امداد اور لاپتا افراد کی تلاش کا کام جاری رہا۔ مغربی جرمن علاقوں سے لے کر بلجیم اور ہالینڈ میں جیسے جیسے سیلاب کا پانی کم ہوتا جا رہا ہے، ویسے ویسے ملبے اور گندگی کی صفائی کا چیلنج بڑھتا جا رہا ہے۔یورپ کے تقریباً تمام ممالک میں بے شمار دریا، جھیلیں اور ندیاں پائی جاتی ہیں۔ بارشوں کی وجہ سے عام طور پر چھوٹے دریاؤں میں بہت تیز رفتار طغیانی آ جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے کے وسط میں موسم کی پیشگوئی میں تمام ذرائع سے عوام کو انتباہ کر دیا گیا تھا کہ مسلسل جاری موسلا دھار بارش سیلابی شکل اختیار کر سکتی ہے، تاہم انتباہی اعلان میں ممکنہ طور پر تباہ کن نقصانات کی آگہی کا عنصر شامل نہیں تھا اور یہ تاثر عوام تک نہیں پہنچ پایا۔