عیدالاضحی کا پیغام

175

امت مسلمہ کیلئے عیدالاضحی اپنے رب سے وفاداری اور اپنا سب کچھ اپنے رب کی خوشنودی کیلئے قربان کر دینے کا نام ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام جب اللہ کے حکم پر اپنے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کی راہ میں قربان کرنے کیلئے میدان عمل میں نکلے اور انھوں نے اپنی چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر پھیر دی۔ یہ تو اللہ کی شان اور اس کی حکمت تھی کہ چھری تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پیارے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر پھیری اور پھر اللہ پاک نے اپنا کرشمہ دکھایا اور چھری حضرت اسماعیل علیہ السلام کی گردن پر پھرنے کے بجائے ایک مینڈے کے گلے پر پھر گئی ۔حضرت اسماعیل علیہ السلام نے بھی اطاعت اور فرماں برداری کی بھی انتہا کردی اور اپنے والد سے کہا کہ آپ کو اللہ پاک نے جو حکم دیا اس پر عمل کریں ۔باپ اور بیٹے یہ اطاعت اور اپنے رب کے ساتھ وفا داری قیامت تک کیلئے ایک درخشاں مثال ہے اور دنیا بھر کے مسلمان سنت ابرہیمی پر عمل کرتے ہوئے 10ذوالحجہ کوقربانی کرتے ہیں ۔صحیح بخاری کی حدیث مبارکہ ہے کہ حضور ﷺ نے عید کے دن خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ,,پہلا کام جو ہم آج کے دن کرتے ہیںیہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر واپس آکر قربانی کریں جس نے اس طرح کیاوہ ہمارے طریق پر چلا،،عیدالاضحی کا پیغام اور قربانی کی اصل روح بھی یہ ہی ہے کہ ہم اپنے رب کی خوشنودی اور رضا کیلئے اپنا سب کچھ یہاں تک کہ اپنی جان اور اولاد سب کچھ اپنے رب پرقربان کردیں۔اسوہ ابراہیم تو رب سے وفاداری اور باطل نظام سے بغاوت کا نام ہے ۔دین ابراہیمی بندوں کو بندوں کی غلامی سے نجات دلاتا ہے اور نظام عدل قائم کرتا ہے ۔اللہ پاک نے ہم سب کو پیدا ہی اسی مقصد کیلئے کیا کہ ہم اللہ کی زمین پر اللہ کے نظام کو عملی طور پر نافذ کریں اور زمین پر اللہ کی حاکمیت قائم کی جائے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے رب کا ایک اشارہ ملتے ہی اپنے اکلوتے بیٹے کو رب کے حضور قربان کرنے کو تیار ہوگئے تھے اور بیٹا بھی بخوشی اس پر راضی ہوگیا کہ یہ میرے رب کا حکم ہے ۔باپ اور بیٹے کی قربانی کاواقعہ قیامت تک کیلئے ایمانی زندگی کو تروتازہ کرنے کا عظیم واقعہ ہے ۔حضرت ابراہیم علیہ السلام اس واقعہ کے بعد ہرسال اسی تاریخ کو جانور ذبح کرتے تھے بعد میں حضور ﷺ نے بھی اپنی امت کو ہدایت فرمائی کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر عمل کریںآج چودہ سو سال کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود پوری دنیا میں امت مسلمہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عظیم الشان قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں ۔قرآن مجید میں بھی ارشاد ہے کہ میں نے یکسو ہوکر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمان کو پیدا کیا ،اورمیں مشرکوں میں سے نہیں ہوں ۔بے شک میری نماز اور قربانی اورمیرا مرنااور میراجیناسب اللہ رب العالمین کے لیے ہے،اس کا کوئی شریک نہیں۔اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے ،اور سب سے پہلے سر اطاعت جھکانے والا میں ہوں ۔خدایایہ تیرا ہی مال ہے اور تیرے ہی لیے حاضر ہے،،اللہ کی راہ میں جانور کی قربانی اللہ کو اتنی پسند اور محبوب ہے کہ اللہ فرماتے ہیں کہ میری راہ میں قربان کئے جانے والے جانور کا خون زمین پرگرنے پہلے میرے پاس اس بندے کی نیت ،جذبہ اور خلوص پہنچ جاتا ہے ۔بے شک اللہ کو ان قربانی کے گوشت،خون سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔اللہ کو تواپنے بندے کے جذبہ اور خلوص سے تعلق ہے اور یہ قربانی دراصل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اے اللہ ہم اسی جذبے کے ساتھ تیری راہ میں اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو تیار ہیں ۔جس جذبے اور نیت کے ساتھ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے کو اپنے رب کی راہ میں قربان کرنے کی سعی کی ۔اللہ کو اپنے بندے کا یہ جذبہ بے حد محبوب ہے ۔مگر جس نے اپنی نمازوں میں کوتاہی کی ،حرام کی کمائی کی اور نمود ونمائش کیلئے قربانی کی تواللہ ایسی قربانی کو قبول نہیں فرماتا ۔ذی الحجہ کا عظیم الشان مہینہ جس میں مسلمان حج اور قربانی کے دو عظیم الشان فریضہ سرانجام دیتے ہیں اور اسی عظیم الشان مہینے میں آج سے ساڑے چودہ سو سال قبل 9ذی الحجہ،10ہجری 7,مارچ632 عیسوی کو میدان عرفات میں ہمارے آخری نبی ،نبی رحمت محمد رسول اللہ ﷺنے جو آخری خطبہ ارشاد فرمایا وہ رہتی دنیا تک پوری انسانیت کیلئے فلاح سلامتی کا راستہ فراہم کرتا ہے اوریہ خطبہ مسلمانوں کا اصلی نیوورلڈ آرڈر ہے ۔ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ اس خطبہ کے نکات پر ناصرف یہ کہ خود عمل پیرا ہوں بلکہ عیدالضحی کے اس مبارک موقع پر ہمیں اس خطبہ پر ایک پھر توجہ اور اس کو دہرانا چاہیے۔اس خطبے کے اہم نکات جو حضور اکرم ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں دیئے اور اپنی امت کو حکم دیا کہ ان نکات کو آگے تک پہنچایا جائے۔حضور ﷺ نے اپنے آخری خطبے میں ارشاد فرمایاکہ 1۔اے لوگو !سنو،مجھے نہیں لگتاکہ اگلے سال میں تمہارے درمیان موجود ہوںگا۔میری باتوں کو غور سے سنو،اور ان کو ان لوگوںتک پہنچائوجو یہاں نہیں پہنچ سکے ۔2۔اے لوگو!جس طرح یہ آج کا دن ،یہ مہینہ اوریہ جگہ عزت وحرمت والے ہیں۔ بالکل اسی طرح دوسرے مسلمانوں کی زندگی،عزت اور مال حر مت والے ہیں۔(تم اس کو چھیڑ نہیں سکتے)۔3۔لوگوکے مال اور امانتیںان کو واپس کرو۔4۔کسی کو تنگ نہ کرو،کسی کا نقصان نہ کرو۔تاکہ تم بھی محفوظ رہو۔5۔یاد رکھو،تم نے اللہ سے ملنا ہے ،اور اللہ تم سے تمہارے اعمال کی بابت سوال کرے گا۔6۔اللہ نے سود کو ختم کر دیا ہے،اس لیے آج سے سارا سود ختم کردو۔(معاف کردو)۔ 7۔ تم عورتوں پر حق رکھتے ہو،اوروہ تم پر حق رکھتی ہیں ۔جب وہ اپنے حقوق پورے کر رہی ہیں تم ان کی ساری ذمہ داریاں پوری کرو۔8۔عورتوں کے بارے میں نرمی کا رویہ قائم رکھو،کیونکہ وہ تمہاری شراکت دار اور بے لوث خدمت گزاررہتی ہیں۔9۔کبھی زنا کے قریب بھی مت جانا ۔10۔اے لوگو!میری بات غور سے سنو ،صرف اللہ کی عبادت کرو،پانچ فرض نمازیںپوری رکھو،رمضان کے روزے رکھو،اور زکوۃادا کرتے رہواگر استطاعت ہوتو حج کرو۔11۔زبان کی بنیادپر ،رنگ نسل کی بنیادپر تعصب میں مت جانا ،کالے کو گورے پراور گورے کو کالے پر ،عربی کو عجمی پراورعجمی کوعربی پر کوئی فوقیت نہیں،ہر مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے۔تم سب اللہ کی نظر میں برابر ہو۔برتری صرف تقوی کی وجہ سے ہے ۔12۔یاد رکھنا!تم کوایک دن اللہ کے سامنے اپنے اعمال کی جوابدہی کے لیے حاضر ہونا ہے ،خبرداررہو!میرے بعد گمراہ نہ ہوجانا۔ 13۔ یاد رکھنا!میرے بعد کوئی نبی نہیں آنے والا،نہ کوئی نیا دین لایا جائے گا۔میری باتیں اچھی طرح سمجھ لو۔14۔میں تمہارے لیے ود چیزیں چھوڑ کے جا رہا ہوں،قرآن اور میری سنت ،اگر تم نے ان کی پیروی کی تو کبھی گمراہ نہیں ہوگے ۔15۔سنو!تم لوگ جو موجود ہو ۔اس بات کو اگلے لوگوں تک پہچانا اوروہ پھر اگلے لوگوںکو پہنچائیںاور یہ ممکن ہے کہ بعد والے میری بات کو پہلے والوں سے زیادہ بہتر سمجھ (اورعمل)کر سکیں۔پھر آپ ﷺ نے آسمان کی طرف چہرہ اٹھایا اور کہا 16,۔اے اللہ !گواہ رہنا ،میں نے تیرا پیغام تیرے لوگوں تک پہنچا دیا ۔عید اہہلاضحی کا اصل پیغام ہی خطبہ حجتہ الودع ہے ۔ہمیں اپنے آقا کے اس پیغام کو بھی عام کرنا ہے اوراس کے ہر لفظ پر عمل بھی کرنا ہے اور اس پیغام پر عمل پیرا ہو کر امت مسلمہ دنیا وآخرت میں سر خرو ہوسکتی ہے ۔
OOO