نابینا فیصلہ

141

وفاقی وزیر اطلاعات چودھری فواد نے قوم کو مطلع کیاہے کہ تحریک لبیک سیاست کرنے کی اہل نہیں کیونکہ اس نے پولیس والوں کو مارا پیٹا جہاں بھی کوئی پولیس والا تنہا ملا اسے بری طرح زدوکوب کیا قومی اور عوامی املاک کو نقصان پہنچایا ، تحریک لبیک کے ایک کارکن کا کہناہے کہ کابینہ نے ایک نابینا فیصلہ کیا ہے کیونکہ پولیس والوں کو زدکوب کرنا ،ججز کو مارنا پیٹنا، قومی و عوامی املاک کی توڑ پھوڑ کرنا ، عدالتوں کے شیشے توڑنا کوئی انہونی بات نہیں، ہمارے خیال میں ایک معقول تجزیہ ہے کہ سرکاری ملازمین اپنے مطالبات منوانے کیلئے احتجاجی تحریک چلاتے ہیں تو قومی و عوامی املاک کی توڑ پھوڑ ایک معمول بن چکا ہے ۔
چودھری فواد کابیان سن کر ہمیں بھٹو مرحوم کے خلا ف چلنے والی تحریک یاد آگئی بھٹو مرحوم نے ملک کے چند علاقوں میں مارشل لاء لگا دیا تھا، اس فیصلے سے عوام اتنے مشتعل ہوئے کہ وہ وردی پوشوں پر سنگ باری سے گریز نہیں کررہے تھے، سو وردی والوں کو ہدایت جاری کی گئی تھی کہ وردی پہن کر عوامی مقامات پر نہ جائیں۔ان دنوں ہماری ڈیوٹی لاہور میں تھی دوران گفتگو ایک پولیس والے نے کہا کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ عوم ہم سے اتنی نفرت کیوں کرتے ہیں جب بھی انہیں کوئی موقع ملتا ہے ہمیں کاٹ کھانے کو دوڑتے ہیں ہمارے ایک سپاہی نے کہا کہ بات نفرت کی نہیں یہ سارا معاملہ ایمان کا ہے پولیس والے نے وضاحت چاہی تو اس نے کہا کہ تمہاری بندوق میں ایمان نہیں ہے اس لئے کسی بھی اہل ایمان کو اس سے ڈر نہیں لگتا ۔
غالباً عوام کوقابو کرنے کا یہ پہلا موقع تھا اس لئے ہمیں بتایا گیا تھا کہ عوامی ہجوم کو دیکھ کرایک لائن کھینچ دینا اور کہنا کہ جس نے یہ لائن عبور کرنے کی کوشش کی اسے گولی مار دی جائے گی۔ عوام اتنے مشتعل تھے کہ وہ کچھ بھی سننے کے روادار نہیں تھے آنکھیں بند کئے چیختے چلاتے بڑھتے چلے آرہے تھے اس صورتحال کو دیکھ کر ہمارے ساتھ موجود جج نے فائر کرنے کا حکم دیا ہمارے ایک جوان نے اس شخص کو جو سب سے زیادہ مشتعل تھا گولی مار دی ۔گولی کا
چلنا تھا کہ عوامی ہجوم رک گیا کسی پولیس والے نے کہا کہ جج کو پکڑو وہ بھاگ گیا تو اپنے حکم سے مکر جائے گا ہم نے ادھر ادھر دیکھا مگر جج صاحب کہیں نظر نہ آئے، چند جوانوں کو حکم دیا گیا کہ جج کو ڈھونڈ کر لائو ورنہ۔ہمارے لئے ایک ایسی مشکل کھڑی ہو جائے گی جس سے نمٹنا انتہائی دشوار ہوگا بڑی مشکل سے جج کو ڈھونڈ کر لایا گیا اور اس سے فائر کرنے کا تحریری حکم نامہ لیا گیا اس دن احساس ہوا کہ آدمی کی حیثیت اوراس کے مرتبے پر یقین کرنا حماقت ہے زبانی حکم سے جج بھی منکر ہو جاتے ہیں، حالانکہ جج حقیقتاً خدا کا نائب ہوتا ہے جو شخص خدا کی نیابت کو مذاق بنا دے اسے مرغا بنانا نیکی کا کام ہے،یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ تحریک لبیک نے ایسا کونسا انہونا کام کیا ہے جو قابل درگزر نہیں ،وطن عزیزمیں کونسی ایسی سیاسی پارٹی ہے جس نے پولیس کو زدکوب نہ کیا ہو۔عوامی اور قومی املاک کو نقصان نہ پہنچایا ہو، ایسے واقعات تو ہمارے معمولات میں شامل ہیں۔
عوامی اور قومی املاک کو نقصان پہنچانا ناقابل معافی جرم ہے،اور اس جرم کی سزا ہر ملزم کو ملنی چاہئے غور طلب بات یہ ہے کہ جس ملک میں سینکڑوں سیاسی جماعتیں ہوں وہاں جمہوریت کیسے پروان چڑھے گی حکومت کیونکہ اپنے منشور پر عمل کر سکے گی ملک و قوم کی بھلائی کیلئے اپنے انتخابی وعدوں پر کیسے عمل کرے گی۔ کیونکہ یہ چھوٹی موٹی سیاسی پارٹیاں چند نشستیں جیت کر حکومت کو بلیک میل کرتی ہیں، اگر حکومت بلیک میل نہ ہو تو یہ پریشر گروپ حکومت کے منہ پر کالک ملتی رہتی ہے ظاہر ہے کوئی بھی شخص اپنے منہ پر سیاہی لگوانا پسند نہیں کرتا سو حکومت اقتداربچانے کیلئے بلیک میل ہوتی رہتی ہے جو پیسہ عوام کی فلاح و بہبود کیلئے ہوتا ہے ایک دو نشستیں حاصل کرنے والی جماعت کو دے دیا جاتا ہے ۔
علاوہ ازیں یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ ان کا نامزد شخص جس وزارت کا مستحق بھی نہیں ہوتا اسکی جھولی میں ڈال دی جاتی ہے کیونکہ اگر اس کی فرمائش پوری نہ کی جائے تو حکومت بھی سیاسی حلوہ نہیں کھا سکتی ، سیاسی حلوہ ہر سیاستدان کھاتا ہے مولانا فضل الرحمن تو مفت میں بدنام ہیں مگر سیاسی بدنامی سے کوئی بھی نہیں ڈرتا کیونکہ یہ بدنامی نام پیدا کرنے کیلئے بہت ضروری ہے اور ضروری چیز کو کوئی بھی نظر انداز نہیں کرتا کیونکہ سیاست اسے نظر انداز کر دیتی ہے۔