افغانستان کی بساط کا کمزور مہرہ

180

نائن الیون کے بعد امریکا تنہا افغانستان میں وارد نہیں ہوا۔ ناٹو اور ایساف کی صورت اسے درجنوں فوجی اتحادیوں کی مدد حاصل تھی۔ یہ سب وہ کردار تھے جو امریکی چھتر چھائے میں اعلانیہ افغانستان میں داخل ہوئے مگر ایک کردار ایسا تھا جو سائے کی طرح امریکی جہازوں پر افغانستان داخل ہوااور پھرخفیہ طور پر ہی اپنا کام کرتا رہا ہے وہ کردار بھارت تھا۔ طالبان کی حکومت کے خاتمے کا سب سے زیادہ فائدہ اسی سائے اور پرچھائی نے اُٹھایا۔ بھارت کا ایک ہی مقصد رہا کہ افغانستان میں پاکستان کا قافیہ تنگ کرنا، افغانوں کے دل ودماغ پر قبضہ کرنا اور ان کو اپنے گرویدہ بنانا۔ اس طرح بھارت نے طالبان مخالف انقلاب کو پاکستان مخالف انقلاب بنانے کی شکل دی۔ اس دور میں پاکستان افغانستان کی گلیوں میں اجنبی ہی نہیں دشمن بن کر رہ گیا۔ افغانستان میں کسی پاکستانی کا وجود ایک ناپسندیدہ عمل بن کر رہ گیا۔ افغانستان کے پروجیکٹس پر کام کرنے والے پاکستانی مزدوروں کو جن میں اکثریت پشتون ہوتی تھی، تشدد کا نشانہ بنایا جانے لگا۔ کابل کی گلیوں بازاروں میں پاکستانی ہونا جرم بن گیا۔ اس دور کے بھارتی اخبارات افغانستان میں پاکستانیوں کی تذلیل کے واقعات سے بھرے ہوتے تھے۔ بھارتی اخبارات نمک مرچ لگا کر کہانیاں بیان کرتے کہ افغان کس طرح پاکستان کے بجائے بھارت کو پسند کرتے ہیں۔ بھارتی فلموں اور موسیقی کے دلدادہ ہیں۔ اس طرح بھارت نے امریکا اور ناٹو کی سرپرستی میں حاصل ہونے والی پوری اسپیس کو پاکستان مخالف جذبات کو ہوا دینے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے ساتھ ہی افغانستان کو بیس کیمپ بناتے ہوئے پاکستان میں کئی طرح کی مسلح تحریکوں کی منصوبہ بندی کی جانے لگی۔ اس کے ساتھ ہی بلوچستان میں آگ بھڑک اُٹھی تو قبائلی علاقوں میں پاکستان مخالف عسکریت منظم ہونے لگی۔ پاکستان کی سرحد کے قریبی شہر وں میں بھارتی قونصل خانے کھلتے چلے گئے۔ بھارت نے امریکا کو یہ باور کرایا کہ پاکستان افغان مسئلے کا حل نہیں بلکہ مسئلے کا حصہ ہے یا ازخود ایک مسئلہ۔ کابل کا حکمران گروہ بھی اس موقف میں بھارت کا ہم نوا بن گیا۔ بھارت نے افغانستان میں دور سے نظر آنے والی ایسی سرمایہ کاری کی جس کی چمک دمک عام آدمی کی نظروں کو خیرہ کر سکے ۔افغان پارلیمنٹ کی عمارت کی تعمیر اور بڑی سڑکوں اور ڈیموں کی تعمیر کرکے افغانوں پر دوستی کا بوجھ لاد دیا گیا۔ ایک طرف بھارت افغانستان میں سرمایہ کا ری کر رہا تھا تو دوسری طرف افغانستان کو حقیقی امن سے دور رکھ کر دنیا بھر کے نان اسٹیٹ ایکٹرز کی آماجگاہ بنا رہا تھا۔ لامحالہ اس کھیل کو روکنے کے لیے پاکستان نے بھی اپنا کردار ادا کیا۔ یہ بھارت کی تاریخی غلطی بلکہ حماقت کی۔ سرمایہ کاری کرنے والی طاقت کا مفاد اس میں ہوتا ہے کہ جہاں وہ پیسہ لگا رہا ہے وہاں دائمی امن ہو۔ مستقبل میں بھی کسی کشیدگی اور خانہ جنگی کے اُبھرنے کا امکان نہ ہواور کسی ایسی مرحلے سے بچا جائے کہ جب بدامنی کے طوفان میں سرمایہ کاری خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے۔بھارت نے اس پہلو کو نظر انداز کرکے افغانستان کو پاکستان مخالف عسکریت کا مرکز بنانے کی کوشش کی۔ جس سے افغانستان حقیقی امن کی منزل سے دور ہوتا چلا گیا۔ اب جبکہ طالبان نے نائن الیون کے بعد برپا ہونے والے انقلاب کا بوریا بستر گول کر دیا ہے اور امریکی چھتری تلے کھڑے ڈھانچے پر قہر بن کر ٹوٹ رہے ہیں تو یہ ایک نئے انقلاب کا آغاز ہے اور اس میں بھارت افغانستان سے دُم دبا کر بھاگنے پر مجبور ہے۔ بھارت کی سرمایہ کاری اب اکارت جا رہی ہے اور اسے اپنے خفیہ منصوبے لپیٹ کر بھاگنا پڑ رہا ہے۔ یوں بھارت آج افغانستان میں مکافات عمل کا شکار ہے۔ نائن الیون کے بعد طلوع ہونے والے انقلاب کا سورج غروب ہو رہا ہے اور انقلاب در انقلاب کا نیا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ جن طالبان کو بھارت اچھوت سمجھ رہا تھا اب ان سے راہ رسم کے بہانے اور سہارے ڈھونڈ رہا ہے۔ ماضی میں بھارت نے طالبان مخالف اتحاد بنانے میں وسطی ایشیائی ریاستوں بالخصوص تاجکستان کا سہارا لیا۔ شمالی اتحاد کے ساتھ ملاقاتوں کے لیے دوشنبے کا انتخاب کیا گیا تھا یہ کہانی اب پوری طرح سامنے آچکی ہے۔ اس بار چونکہ روس کے تیور بھارت کے لیے بگڑچکے ہیں اور روس اور چین طالبان کے ساتھ پاکستان کے ذریعے تعلقات قائم کر چکے ہیں اس لیے روس کے زیر اثر وسط ایشیائی ریاستیں بھی بھارت کے لیے استعمال نہیں ہو ں گی۔ بالخصوص تاجکستان اور پاکستان کے درمیان قریبی رابطہ ہے۔ اب بھارت کا واحد سہارا وہی ایران ہے جس کو امریکا کے کہنے پربھارت نے چاہ بہار سمیت اقتصادی تعاون کے منصوبوں میںدھتکار دیا تھا۔ بھارت کی معروف صحافی جیوتی ملہوترہ نے افغانستان کو شطرنج کی ایسی پھیلی ہوئی بساط سے تشبیہ دی ہے جس پر چھانے جانے کی کوششیں جاری ہیں۔ جیوتی ملہوترہ نے بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر کی ایران کے نومنتخب صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کو دونوں ملکوں کے درمیان نئے روابط کی بنیاد قرار دیا ہے۔ گویاکہ بھارت اب ایران کے ذریعے طالبان سے مراسم پیدا کرنے کی امید میںہے۔ بھارت کی امید اپنی جگہ مگر اب کی بار صرف طالبان ہی نہیں پاکستان، تاجکستان اور ایران سمیت افغانستان کے تمام ہمسائے کچھ بدلے بدلے سے لگ رہے ہیں۔ اگر کوئی بدلا نہیں توافغانستان کے قوم پرست اور حکمران ہیں یا ہمسائے کا ہمسایہ بھارت ہے۔ ایران کے بدلنے کا اندازہ اس وقت ہوا تھا جب پاسداران انقلاب کی ترجمان نیوز ایجنسی کے ڈائریکٹربرائے خارجہ امور حسام رضوی نے ایرانی سرکاری ٹی وی چینل کو انٹرویو میں کہا کہ افغانستان کی ہزارہ برادری کو طالبان کے خلاف ہتھیار اُٹھانے سے گریز کرنا چاہیے۔ اگر ہزارہ قبیلہ طالبان کے خلاف لڑائی شروع کرتا ہے اور اس لڑائی میں شیعہ مسلک کے لوگ مارے جاتے ہیں تو اس کا الزام طالبان پر نہیں ہزارہ قبیلہ پر عائد ہوگا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ امریکا افغانستان کو مسلکی جنگ میں دھکیلناچاہتا ہے۔ اس سے پہلے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے زیر اثر اخبار کیہان نے بھی ’’طالبان نے اپنا انداز بدل دیا ہے اب وہ قاتل نہیں رہے ‘‘ کے عنوان سے اداریہ لکھ کر ایک نئی سوچ کی عکاسی کی تھی۔