تیراتین

121

وزیر اعظم عمران خان کو مشورہ دینے والوں کی کمی نہیں مگر تمام مشیر مشورہ دینے کے بجائے مشورہ بازی میں دلچسپی لیتے ہیں اسی لیے محب وطن انہیں بٹیر باز ہونے کا طعنہ دیتے ہیں مگر یہ حضرات تو طعنہ پروف ہیں سو طعنہ کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا وفاقی وزیر اطلات چودھری فواد کا کہنا ہے مہنگائی خود رو پودے کی طرح بڑھ رہی ہے مگر یہ سب پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نواز شریف کا کیا دھرا ہے ہم تو کچھ کر ہی نہیں رہے ہیں سو مہنگائی اور بے روزگاری کا الزام محض الزام ہے جب تک الزام ثابت نہ ہو ملزم کو مجرم نہیں کہ سکتے مگر الزام اسی وقت جرم ثابت ہوتا ہے جب مجرم کو کٹہرے میں لیا جائے چودھری فواد کی خواہش ان کے حکومت کے خاتمے پر پوری ہو جائے گی۔
اس حقیقت سے انکار کی گنجائش ہی نہیں تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے تین سالہ اقتدار میں عوام کو تیرا تین کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا سوائے کٹے، بکریاں، مرغیاں اور انڈے بازی کے مگر یہ بازی گری ہمیشہ نہیں چلے گی، ہر اقتدارا کی انتہا ہوتی ہے اور تحریک انصاف کی بھی انتہا ہو گی۔ چودھری فواد کا یہ فرمان بھی قابل توجہ ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کو ایک کرپٹ ملک ملا تھا موصوف کی بات پر ہمیں وکٹوریہ اسپتال بہاول پور کی وہ خاتون ڈاکٹر یاد آگئیں جنہوں نے ہمیں ایک چٹ دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادویات بازار لیں کیوں کہ سابق حکومت ملک کو کنگلا چھوڑ کر گئی ہے۔ ہم نے کہا کہ میڈم دو سال سے آپ تمام ادوایات دے رہی ہیں آج فرما رہی ہیں کہ سابق حکومت ملک کو کنگلا چھوڑ کر گئی ہے۔ اس لیے ادویات بازار سے خریدانا پڑے گی جواباً ہم نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ کرپٹ سابق حکومت نہیں موجودہ حکومت ہے۔ اگر ملک کنگلا ہوتا تو مریضوں کو ادویات تو کیا آپ کو تنخواہ نہیں بھی نہیں ملتی اور مریضوں کو ادویات بھی نہیں ملتی ساری خرابی تحریک انصاف کی نا انصافی ہے۔
چودھری فواد کا یہ انکشاف بھی حیرت انگیز ہے کہ مریم نواز اور بلاول زرداری کو کشمیر کی تاریخ کا بھی علم نہیں چودھری صاحب ایوان اقتداد میں لا علموں کی کمی نہیں یہاں عجوبے پائے جاتے ہیں جو ملک کی تاریخ سے بھی بے خبر ہیں شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں اپنے خاندان کی تاریخ سے بھی لاعلم ہیں ملک کی تاریخ کے علاوہ اس کے جغرافیہ سے بھی لا علم ہیں۔
شیخ رشید نے رٹا رٹایا سبق دہرایا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور آئندہ حکومت تحریک انصاف کی ہوگی شیخ جی آپ پیش گوئیاں سن سن کر عوام کے کانوں سے لہو رسنے لگا ہے مگر آپ کی زبان پر چھالے تک نہیں پڑے۔ شنید ہے کہ شریف آدمی جھوٹ بولے تو اس کی زبان پر چھالے پڑجاتے ہیں اور جھوٹا جتنا زیادہ جھوٹ بولے اس کی زبان اتنی ہی زیادہ با اثر ہو جاتی ہے اور یوں جھوٹ سچ بنتا جاتا پیپلز پارٹی مسلم لیگ نے پانچ پانچ سال تک ملک میں حکومت کی۔ مگر ملک کا کیا بنا اور حکومت کے اختتام پر کیا ہوا اس سے سبھی واقف ہیں کہتے ہیں کہ ایک خاص مقصد کے تحت ان کی حکومت پوری کروائی گئی اور اب تحریک کی حکومت بھی پانچ سال پورے کرے گی گویا تحریک انصاف کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی بلکہ مقتدر شخصیات کے ’’خاص مقصد‘‘ کی تکمیل کرے گی۔
اب دیکھنا یہ کہ خاص مقصد کی تکمیل کے بعد قوم کو کس مرحلے کے سے گزرنا پڑے گا۔ ویسے یہ حقیقت بھی پیش نظر رکھنا ہوگی کہ قوم جو تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے بعد گزر چکی ہے اس کے بعد کس مرحلے سے گزرے گی مگر جن مراحل سے گزر چکی ہے ان کے پس منظر میں وزیر اعظم عمران خان کو اکثر عوامی حلقے شاہ مدار کہنے لگے ہیں کیوں کہ مرتے ہوئے کو مارنا شاہ مدار ہی کی خاصیت ہے عوام پہلے ہی مہنگائی کے ہاتھوں مر رہے ہیں اب شاہ مدار نے الیکٹرک شاک لگانا شروع کر دیا ہے جوں گرمی شباب پر آرہی ہے شاہ مدار کا جنون بھی جوان ہوتا جا رہا ہے۔
کبھی کبھی تو یہ گمان یقین میں بدلنے لکتا ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت اذیت پسند ہے وہ عوام کو اذیت پہنچانے کے سوا کچھ اور سوچنے کی اہل ہی نہیں ہے گرمی کے ساتھ لوڈشیڈنگ میں اضافہ بد نظمی کی انتہا ہے اور شاہ مدار کوئی بھی ہو انتہا پسندی اس کی خاصیت ہوتی ہے حالات اور واقعات بتا رہے ہیں کہ وزیراعظم عمران خان اور مقتدر شخصیات میں خاصی نوک جھوک چل رہی جھڑی ہوئی دم کو عوام نے دستی پنکھا بننا لیا اور چونچ ٹوٹنے کا انتظار ہے جس دن چونچ جھڑی شیخ رشید کی چونچ بھی سلامت نہ رہے گی۔ افسوس کی بات یہ کہ اے خدا میرے ابو سلامت رہے کہنے والاکوئی نہیں ہو گا۔
صوفی غلام مصطفی نے کہا تھا
ایک تھا تیتر اور ایک بٹیر
لڑنے میں تھے دونوں شیر
لڑتے لڑتے ہو گئی گم
ایک کی چونچ اور ایک کی دم