شہر یتیماں… کراچی

152

کراچی کے عوام کو درپیش مختلف النوع مسائل میں کمی کے بجائے روز افزوں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ آج سے تقریباً پچاس سال پہلے کراچی ایک مثالی شہر ہوا کرتا تھا۔ پانی اور بجلی سے متعلق مسائل نہ ہونے کے برابر تھے، جرائم کی شرح بہت کم تھی، عوام کو روز گار مل جاتا تھا۔ پانی کی نکاسی کا مسئلہ پورے شہر میں کہیں نظر نہیں آتا تھا۔ کوڑے کرکٹ کے ڈھیر ناپید تھے، معاشی سرگرمیاں بلا کسی تعطل کے جاری تھیں، سرکاری عمال میں رشوت خوری اور بدعنوانی کی شرح آج کی نسبت بہت کم تھی، سیاستداں ضابطہ اخلاق کے پابند تھے اور ایک دوسرے پر نظر یاتی حوالوں سے تنقید کرتے تھے ذاتی حوالوں سے کیچڑ نہیں اچھالتے تھے، پھر رفتہ رفتہ آبادی میں اضافہ ہوتا گیا، بڑی تعداد میں دیگر صوبوں سے لوگوں نے تلاش معاش کے سلسلے میں کراچی کا رخ کرنا شروع کیا جس کی بناء پر شہر میں مختلف النوع مسائل جنم لینے لگے جبکہ شہری انتظامیہ کی غیرموثر اور ناقص منصوبہ بندی نے ان مسائل کو گمبھیر کردیا جس کے نتیجے میں شہر مسائل کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔ 1984 میں مہاجر قومی مومنٹ کا قیام عمل میں آیا جس نے دیکھتے ہی دیکھتے سندھ کے متعدد شہری علاقوں خاص طور پر کراچی اور حیدرآباد کی سیاست میں ایک ہیجانی کیفیت پیدا کردی اور کراچی اور حیدرآباد کی سیاست پر اس جماعت نے غلبہ حاصل کرلیا۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے یہ تحریک خالصتاً لسانی بنیادوں پر قائم ہوئی تھی یا نادیدہ ہاتھوں نے اپنے مخصوص مقاصد حاصل کرنے کے لیے قائم کی تھی لہٰذا کچھ ہی عرصے میں اس تنظیم کے ذریعے لسانیت کی وہ آگ بھڑکائی گئی جس نے پورے کراچی اور حیدرآباد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور نتیجتاً ہزاروں افراد لسانی نفرت کی آگ کی لپیٹ میں آکر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے، ہزاروں خاندان اپنے کفیلوں سے محروم کردیے گئے، لاکھوں نوجوان جنہیں زیور تعلیم سے آراستہ ہوکر معاشرے کا معزز فرد بننا تھا جرائم کی دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ اور یوں روشنیوں کے شہر کو آگ اور خون کی وحشت ناکیوں میں دھکیل دیا گیا، اور کراچی اور حیدرآباد اس تنظیم کے ہاتھوں مفتوحہ شہر بن کر رہ گئے۔
عوامی مسائل حل کرنے کے بجائے بھتا اور چندہ وصولی کا کلچر جڑ پکڑتا گیا ایک فرد واحد کی جھوٹی انا کی تسکین کی خاطر ہفتے میں تین تین دن کی ہڑتال کی وجہ سے شہر کی معاشی سرگرمیاں ماند پڑنے لگیں۔ کاروباری طبقے کے لیے سکون سے کاروبارکرنا ایک امرمحال بنا دیا گیا جس کے نتیجے میں سرمایہ کاری اور کاروبار دوسرے شہروں میں منتقل ہونا شروع ہوگیا۔ حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ تین، ساڑھے تین عشروں میں اس لسانی تنظیم کے ہاتھوں کراچی اور اہل کراچی کو جو صدمے اور نقصانا ت پہنچے ہیں اْن کا ازالہ ناممکن ہے۔ اس تمام تر صورتحال کا سب سے شرمناک پہلو یہ ہے کہ مذکورہ ادوار میں جو جماعتیں حکومت میں رہیں وہ محض اپنی حکومتوں کو دوام دینے کے خاطر ایم کیو ایم کے مرکز نائن زیرو کا طواف کرتی رہیں اور ایم کیو ایم کے ہاتھوں بلیک میل ہوتی رہیں جبکہ ایم کیو ایم کی من مانیاں جاری رہیں اس صورتحال کے تناظر میں دیکھا جائے تو سب سے زیادہ نقصان کراچی کے شہریوں کو ہوا۔ بہرحال ’’ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے‘‘ کے مصداق اگست 2016 میں تنظیم کے لندن میں مقیم قائد کی ملک دشمن تقریر پر فوجی ادارے حرکت میں آئے اور اس طرح اہل کراچی کو ظلم، جبر اور گھٹن کے ماحول سے نجات ملی۔ اس ظلم و جبر کی مسموم فضا سے نکلنے کے بعد اہل کراچی نے ایک جذبے اور نئی امید کے ساتھ پی ٹی آئی کی قیادت کو ووٹ دیے اور اْنہیں کئی حلقوں سے کامیاب کرایا لیکن افسوس پی ٹی آئی حکومت نے زبانی جمع خرچ اور مایوسیوں کے سوا کراچی کو کچھ نہیں دیا۔ شہر کے متعدد علاقے آج بھی شدید گرم موسم میں بدترین لوڈ شیڈنگ اور بریک ڈائونز کی زد میں آئے ہوئے ہیں اور کوئی پْرسان حال نہیں اور اْس پر
مستزاد کے الیکٹرک کی وہ بھتا وصولی ہے جو ہر ماہ بھاری بھر کم بلوں کی شکل میں صارفین سے وصول کی جاتی ہے۔
گزشتہ تین عشروں سے زائد عرصے سے ہم پر بدترین حکمران مسلط ہیں۔ سندھ میں تین عشروں سے پیپلز پارٹی حکمرانی کی رہی ہے لیکن اْس کی کارکردگی کراچی کے حوالے سے صفر ہے، اس حکومت کے وزراء کے ذاتی خزانوں میں بے بہا اضافہ ہورہا ہے۔ جبکہ کراچی سمیت پورا سندھ مسائل کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ مہنگائی کا جن بے قابو ہے، ہر طرف کوڑے کرکٹ کے ڈھیر لگے ہوئے ہیں، شہر کے متعدد علاقے پانی کی ایک ایک بوند کو ترس رہے ہیں، بجلی کی بلا تعطل فراہمی ایک حسرت بن کر رہ گئی ہے۔ سرکاری ملازمتوں کے دروازے کراچی کے نوجوانوں پر عرصہ دراز سے بند ہیں جس کی وجہ سے اْن کے احساس محرومی میں اضافہ ہورہا ہے اور منفی سوچ اْن پر غالب آرہی ہے۔ ان سب مسائل کی جانب سے وزیراعلیٰ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔ وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ کی وزارت کی کارکردگی کا اندازہ شہر میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے گندگی کے ڈھیروں، ناقص نکاسی ٔ آب کے نظام، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے۔ شہر کی فضائی، آبی اور صوتی آلودگی انتہا کو پہنچی ہوئی ہے، سرکاری اسکول اور اسپتال حکومت کی نفرت انگیز بے حسی اور اپنے فرائض سے لاتعلقی پر نوحہ کناں ہیں۔
صدر عارف علوی، گورنر سندھ عمران اسماعیل اور وزیر بحری اْمور علی زیدی کا تعلق کراچی سے ہے لیکن حرام ہے جو انہوں نے
ابتک کراچی کے لیے کچھ کیا ہو۔ گیارہ سو ارب روپے کے جس پیکیج کا کراچی کے لیے اعلان کیا گیا تھا وہ خطیر رقم کہاں ہے، کن منصوبوں پر خرچ ہو رہی ہے، کون کون سے ادارے خرچ کر رہے ہیں اور آیا وہ رقم دی بھی گئی ہے یا نہیں؟ یہ وہ سوال ہیں جن کے جواب اہل کراچی کو دینا واجب ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ حزب اقتدار ہو یا حزب اختلاف یہ سب ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں، اْنہیں عوام کے مسائل کچھ لینا دینا نہیں۔ عوام کو سبز باغ دکھا کر یہ اقتدار میںآتے ہیںاور پھر عوام کو اس طرح بھول جاتے ہیں جیسے لوگ قرض لیکر بھول جاتے ہیں۔
چند دن قبل اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق گورنر سندھ نے کے الیکٹرک کے سی ای او کو گورنر ہائوس طلب کیا تھا اور شہر میں غیر اعلانیہ طور پر جاری لوڈ شیڈنگ کے بارے میں باز پرس کی تھی اور ہدایت کی تھی کہ کے الیکٹرک اپنے نظام کو درست کرے، لیکن کے الیکٹرک انتظامیہ نے گورنر کی ہدایت کو جوتے کی نوک پر مارتے ہوئے اپنی روش کو برقرار رکھا ہوا ہے اور گورنر صاحب نے چپ سادھ رکھی ہے۔
2005ء میں نجکاری کے بعد سے یہ ادارہ ایک طاقتور مافیا کی شکل اختیار کر چکا ہے اور صارفین کے ساتھ اس کا رویہ انتہائی آمرانہ ہے کیونکہ اس ادارے کو کوئی نکیل ڈالنے والا نہیں قرائن سے معلوم ہوتا ہے کہ اندرون خانہ اس کے ڈانڈے ماضی کی حکومتوں کے علاوہ موجودہ حکومت سے بھی ملتے ہیں اور کسی نہ کسی حوالے سے اس ادارے کو طاقتور طبقے کی حمایت ہر دور میں حاصل رہی ہے ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ اس بے نتھے بیل کو لگام ڈالی جاتی اور عوام کو اس کی بدمعاشیوں سے محفوظ رکھا جاتا لیکن صورتحال اس کے بالکل بر عکس ہے۔ زائد بلنگ سے متعلق صارفین کی تحریری شکایات وصول نہیں کی جاتیں اور اْنہیں یہ کہہ کرٹال دیا جاتا ہے کہ کے الیکٹرک کی ہیلپ لائن پر شکایت درج کرائیں۔ کے الیکٹرک کے سی ای او اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کے ماہانہ مالی پیکیج پر ایک سرسری نظرڈالی جائے تو بخوبی اندازہ ہوجائے گا کہ کس بیدردی سے عوام اس ادارے کے ہاتھوں لٹ رہے ہیں۔ کے الیکٹرک کے سی ای او کا ماہانہ مشاہرہ 58.9ملین روپے ہے جبکہ ڈاریکٹرز کا مشاہرہ 5ملین سے بڑھا کر 10 ملین روپے ماہوار کر دیا گیا ہے علاوہ ازیں دیگر سنیئر افسران بھی بھاری معاوضہ وصول کر رہے ہیں جبکہ دیگر پرکشش مراعات اس کے علاوہ ہیں۔ اور یہ سب عیش کراچی کے لوگوں کی جیبوں پر ڈاکا ڈال کر کیے جارہے ہیں۔ حکومت میں اگر ذرہ بھر بھی انسانیت باقی ہے تو وہ کراچی کے جملہ مسائل حل کرنے کے لیے فوری طور پر ایک اعلیٰ اختیاراتی کمیشن تشکیل دے اور کمیشن کی سفارشات کی روشنی میں عوام کو مسائل کے گرداب سے نکالنے کی سبیل کرے بصورت دیگر عوامی لاواپھٹ پڑا تو حکمراںخود گرداب میں پھنس جائیں گے۔