یونیورسٹی کالجز اور مدارس کے طلبہ سازشوں کیخلاف متحد ہوجائیں،سراج الحق

108
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق دینی مدارس کے مہتمم اور منتظمین کے اجلاس سے خطاب کررہے ہیں

لاہور (نمائندہ جسارت)امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق نے حکمرانوں کو خبردار کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک کے نظریاتی تشخص سے کھیلنے کی کوشش نہ کریں ۔معیشت کی تباہی کے بعد دو قومی نظریے کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں ۔ یونیورسٹی ، کالجز اور مدارس کے طلبہ متحد ہو جائیں ۔ نصاب میں تبدیلی ، وقف آرڈیننس اور قانون تحفظ ختم نبوت کے خلاف سازشوں کا ہر میدان میں مقابلہ کریں گے۔ مدارس کے اساتذہ اور لاکھوں طلبہ محب وطن پاکستانی اور ملک کی نظریاتی سرحدوں کے محافظ ہیں ۔ ملک کی تقدیر کے وارث بنے بیٹھے 2 فیصد اشرافیہ سے کوئی توقع نہیں ۔حکومت ایک طرف قومی نصاب کو سیکولرائز کر رہی ہے ،قومی نصاب کی تیاری کے لیے دینی و نظریاتی اذہان کے حامل پروفیشنلزسے مدد لی جائے ۔ علما اسلامیان پاکستان کی رہنمائی کریں اور قوم کو گرداب سے نکالیں ۔ دوسری جانب مساجد و مدارس پر وار ہورہے ہیں ۔ ملک بھر کے علما نے وفاقی و صوبائی وقف ایکٹس مسترد کردیے۔ قرآن کریم میں تحریف کرنے والے مجرموں کو قرار واقعی سزا دی جائے ۔ ایسی قبیح حرکتیں کرنے والوں اور ان کے سرپرستوں کو قوم معاف نہیں کرے گی۔ علما منبر و محراب کے وارث ہیں ۔قوم کا اجتماعی شعور کبھی بھی سیکولرازم اور مغربیت کو قبول نہیں کرے گا ۔ اسلام کی سربلندی اور تحفظ ختم نبوت کے لیے جان و مال کی قربانی دینے سے ایک پل کے لیے بھی گریز نہیں کیا جائے گا ۔ اگر امت متحد ہو جائے اور فروعی اختلافات بھلا دیے تو سازشیں خود بخود دم توڑ جائیں گی ۔ کامل یقین سے کہتاہوں کہ مسائل اسی وقت حل ہوں گے جب یہاں قرآن و سنت کا نظام نافذ ہو گا ۔ قوم ظالموں اور منافقوں سے چھٹکارا چاہتی ہے ۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے منصورہ میں پنجاب بھر کے آئے ہوئے دینی مدارس کے مہتمم و منتظمین کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اجلاس سے صدر جمعیت اتحاد العلما پاکستان شیخ القرآن و الحدیث مولانا عبدالمالک نے بھی خطاب کیا اور اتحاد علما و اتحاد امت کی ضرورت پر زور دیا ۔ ان کا کہنا تھاکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور انسانیت کو مسائل سے نجات دلانے کے لیے امت مسلمہ کو بھرپور جدوجہد اور محنت کی ضرورت ہے ۔ اجلاس میںسیکرٹری جنرل امیر العظیم ، نائب امیر پروفیسر محمد ابراہیم ، مولانا اسماعیل خان،ڈاکٹر عطا الرحمن، پروفیسر ڈاکٹر حبیب الرحمن،مولاناعبدالرزاق، مولانا ضیا الرحمن ، مولانا قاری محمد عثمان اور مولانا عبدالوحید اختر بھی شریک تھے ۔ سراج الحق نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرائے گئے وقف آرڈی نینس ، قومی نصاب کی تشکیل ، ختم نبوت اور دیگر موضوعات پر تفصیلی گفتگو کی اور خدشہ ظاہر کیا کہ اگر ملک بھر کی دینی قوتیں اس کا مقابلہ کرنے کے لیے یک زبان نہیں ہوں گی تو خدانخواستہ اسلام دشمن طاقتیں پاکستان کی نظریاتی اساس کو کمزور کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہیں ۔ انہوں نے ان کاوشوں کا بھی ذکر کیا جس کے تحت جماعت اسلامی ملک بھر کے مشائخ ، علما کرام ، دینی مدارس ، مہتمم، منتظمین ، اساتذہ و طلبہ کو متحد کرنے کے لیے کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے پلیٹ فارم سے یونیورسٹی اور کالجز کے طلبہ و طالبات سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں ۔ انہوںنے کہاکہ اسلام جدید تعلیم کے حصول اور مرد و خواتین کی تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیتاہے مگر اس کے ساتھ ساتھ ایسے اذہان کی تیاری جو خوف خدا اور انسانیت کا درد رکھنے والے ہوں ، اسلام کا مقصد ہے ۔ اسلام دینی و دنیاوی تعلیم میں تفریق کا ہر گز قائل نہیں ۔سراج الحق کا کہنا تھاکہ ہر دور میں دو قومی نظریے اور عوام کے اجتماعی اسلامی شعور پر حملے کیے گئے ہیں مگر گزشتہ کچھ عرصے سے اس میں تیزی آئی ہے ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سازشی عناصر کو بے نقاب کیا جائے ۔ انہوںنے کہاکہ مدارس پر مسلسل حملے کیے جارہے ہیں ۔ اساتذہ اور طلبہ کو ہراساں کیا جاتاہے ۔ علما کی آواز کو دبانے کے لیے مختلف حربے استعمال کیے جارہے ہیں ۔ ہمیں ایسی حرکتوں سے خوفزدہ ہونے کی ہر گز ضرورت نہیں ۔ انہو ں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے لاکھوں ورکرز مساجد و مدارس کے پشتیبان ہیں ۔ سراج الحق نے مزید کہاکہ گزشتہ ایک برس سے زائد عرصے سے حکومت ملک میں یکساں نظام تعلیم نافذ کرنے کے لیے دعوے کر رہی ہے ۔ اس ضمن میں وفاق کے زیر اثرا سکولوں میں پرائمری کی سطح پر نصاب متعارف کرایا گیاہے ۔ حکومت صوبوں میں نصاب کی تیاری اور اسے لاگو کرنے سے قبل پیشہ ورانہ صلاحیت کے حامل اداروں اور افراد سے مشاورت کر ے اور ایسے ماہرین تعلیم کو آن بورڈ لیا جائے جو سیکولرازم کے نہیں ، اسلام اور پاکستان کے وفادار ہوں ۔ انہوں نے مغربی لابیز کی جانب سے مدارس کے خلاف پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہاکہ ایسا سوچی سمجھی سازش کے تحت ہورہاہے ۔ لبرل طبقہ نوجوانوں میں تیزی سے مقبول ہونے والے اسلامی نظریے سے خائف ہے اور اس دیے کو روشنی پھیلانے سے قبل ہی بجھانا چاہتاہے مگر حق ضرور غالب آئے گا اور باطل کو مٹنا ہی ہے ۔