ضمیر کی منڈی

192

اکثر قائرین کاکہنا ہے کہ ہمارے کالم اسلو ب اور موضوعات کے اعتبار سے بہت متاثر کن ہوتے ہیں۔ مگر ہمارے خیالات انہیں تذبدب کی دلدل میں دھکیل دیتے ہیں۔ انہیں گلا کہ ہم ہمیشہ حکومت، حکومتی اداروں اور سیاست دانوں کے خلاف ہی کیوں لکھتے ہیں سو ہمارا فرض ہے کہ قارئین کو یقین دلائیں کہ ہم کسی کے خلاف نہیں لکھتے۔ صرف سچ کا اظہار کرتے ہیں مگر المیہ یہ ہے کہ سچ ایسا کڑوا ہوتا ہے جو حلق سے نیچے اترنے میں تکلیف کا باعث بنتا ہے مثلاً وکالت کا مقصد سچ کو فتح یافت کرنا ہوتا ہے مگر جو وکیل سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ ثابت کرلیں وہی بڑا وکیل سمجھا جاتا ہے طب سے تعلق رکھنے والوں کو مسیحا سمجھا جاتا ہے مگر ان سے واستہ پڑے تو وہ مسیح ثابت ہوتے ہیں۔
سیاست کا مقصد ملک و قوم کی خدمت کرنا ہوتا ہے۔ مگر ہمارے سیاست دان سیاسی جونکیں ہیں جو عوام کا خون چوسنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔ برطانیہ کے وزیرا عظم نے کہا ہے کہ وہ آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ وزارت عظمیٰ کسی عظمیٰ بیگم کی طرح وزیر اعظم کو بے بس کردیتی ہے۔ اب وہ پیسہ کمانا اور سیر وتفریح کرنا چاہیے۔ یہ کسی بد نصیبی ہے کہ سیاست جیسے مقدس فریضے کو ہمارے ہاں تجارت بنا دیا گیا ہے۔ الیکشن میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے اور پھر اس سے زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جاتا ہے۔ جبکہ برطانیہ کے وزیر اعظم کہتے ہیں کہ وہ آئندہ الیکشن میں حصہ نہیں لیں گے کیونکہ اب وہ پیسہ کمانا چاہتے ہیں ہمارے سیاست دان رکن اسمبلی یا سینیٹر بننے کے بعد بیماری کا بہانہ بنا کر بیرون ملک سیر سپاٹے کے لیے نکل جاتے ہیں اور سارا خرچ قومی خزانے کو برادشت کرنا پڑتا ہے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم آئندہ الیکشن میں حصہ نہ لے کر پیسہ کمانے والا کوئی کام کرنا چاہتے ہیں اور ہمارے ہاں سیاست کے سوا اور ایسا کوئی کام ہی نہیں جس میں آدمی اپنی مرضی سے پیسہ کما سکے۔ ہم ایک مدت سے مقتدر شخصیات سے یہ استدعا کررہے ہیں کہ جمہوریت کے نام پر جو تماشا ہو رہا ہے۔ اس پر پابندی لگائی جائے وطن عزیز میں ایسے قابل اور دیانت دار لوگوں کی کمی نہیں جن کی ایمانداری اور قابلیت کی گواہی ان کا ماضی ہے اور وہ کسی لالچ کے بغیر ملک و قوم کی خدمت کے جذبے معمور ہیں۔
کچھ مدتوں پہلے ہم نے ایک کالم میں کہا تھا کہ بعض الفاظ بھی آدمی کی طرح گونگے بہرے ہوتے ہیں ان کا مفہوم اخذ کرنے کے لیے محل وقوع سیاق وسباق اور لب ولہجہ اور ماحول کو بھی پیش نظر رکھنا پڑتا ہے۔ کالم چھپا تو بہت سے ادیب اور شاعر ہمیں لانگ بوٹوں طعنہ دینے لگے۔ ہم نے کہا آپ لوگوں کی ذہنی پستی کا سبب یہی ہے کہ بعض لوگ حیوان ناطق کے بجائے حیوان مطلق کی طرح سوچنے سمجھے بغیر بولتے ہیں۔ آپ عالمانہ انداز میں جھٹلاتے تو ہم آپ کی قابل قبول دلیل کو نہ صرف تسلیم کرتے بلکہ معافی کی طلب گار بھی ہوتے مگر آپ لوگ تو سٹرک چھاپ بدمعاشوں کی طرح ہمارے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ کہنے لگے کہنا کیا چاہتے ہو ہم نے ایک ڈاکٹر پروفیسر سے پوچھا غریب نوازکے کیا معنی ہیں۔ وہاں موجود ہر شخص تلملا اٹھا کہنے لگے تم جانتے ہو کہ کس سے غریب نواز کے معنی پوچھ رہے ہو یہ ادب کے ڈاکٹر ہیں ہم نے کہا یہاں پر موجود کوئی بھی شخص کسی دوسرے شخص پر فوقیت نہیں رکھتا یہ ڈاکٹر پروفیسر ہیں نہ ہم بوٹوں والے ہیں۔ بہرحال پہلے غریب نواز کے معنی بتائیے اس کے معنی تو ریڑھی والا بھی جانتا ہے غریب نواز کے معنی غریب کو نوازنے والا۔ اب یہ بتائیے کہ اللہ نواز کے کیا معنی ہیں پھر وہی احمقانہ سوال اس کے معنی ہیں اللہ کا نوازا ہوا۔ وہاں سب ہی کو علم کی بد ہضمی نہیں تھی سو ایک صاحب کہنے لگے کہ حسنی صاحب نے درست کہا ہے کہ بعض الفاظ گونگے اور بہرے ہوتے ہیں۔ قارئین ان کی آواز بن جاتے ہیں۔ یہ بہت پرانی بات ہے ہم نے مثال کے طور پر چار پانچ ایسے لفظ استعمال کیے ہیں جن کا مفہوم سامع کی ذہانت پر مبنی ہوتا ہے۔ ہم نے بارہا اپنے ادبی کالموں میں لکھا ہے کہ ادب کے ڈاکٹر کو ڈاکٹر کے بجائے علامہ کہا جائے مگر یہ لوگ خود کو علامہ کہلوانا نہیں چاہتے مگر علامہ اقبال کو بڑے فخریہ انداز میں علامہ کہتے ہیں۔