چین: مسلمانوں کیلئے مزید جیلوں کی تعمیرات میں تیزی

194

سنکیانگ: چین نے پچھلے تین سالوں میں مسلم اقلیتوں کے خلاف اپنی مہم کو مزید توسیع دینے کیلئے قلیل مدت میں بڑے پیمانے پر نئے حراستی کیمپ اور قید خانے بنائے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے بزفیڈ نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق نئی تعمیرات ہزاروں افراد کو بیک وقت قید کرنے کے قابل ہیں۔ ان میں کچھ سرکاری عمارتوں جیسے اسکولوں ، ریٹائرمنٹ گھروں اور فیکٹریوں کو بھی قید خانے میں تبدیل کیا گیا ہے۔ اس کی ضرورت چین کو ایسے وقت پیش آئی ہے جب حراست میں لیے گئے مسلمانوں کی تعداد کافی زیادہ ہوگئی ہے۔

عوامی سطح پر دستیاب سیٹلائٹ تصاویر اور سابق نظربند مسلماوں کے انٹرویوز کو مدِنظر رکھتے ہوئے بز فیڈ نیوز نے 2017 کے بعد سے اب تک تعمیر کیے گئے 260 حراستی کیمپوں کی نشاندہی کی ہے۔

سنکیانگ کے مغربی خطے میں کم و بیش ہر قصبے میں ایک جیل یا حراستی کیمپ ہے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے چین نے سیکڑوں ہزاروں ایغور ، قازق اور دیگر مسلم اقلیتوں کو نظربند کرنے کے لئے ایک وسیع نظام قائم کیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق چین نے حیران کُن طور پر قلیل مدت میں کئی حراستی کیمپ بنائے ہیں اور اس کی وجہ دیگر مقاصد میں استعمال ہونے والی عمارتوں کو بھی جیل خانے میں بدلنا ہے۔