اسرائیل کی داخلی سیاست اور نئی حکومت – مسعود ابدالی

225

اتوار 13 جون کی شام اسرائیل میں تبدیلی سرکار یا Change Governmentنے اس ”شان“ سے حلف اٹھایا کہ 49سالہ نامزد وزیراعظم نیفتالی بینیٹ کو رائے شماری تک اپنے وزیراعظم بننے کا یقین ہی نہ تھا۔ برسرِاقتدار اتحاد معتدل اور بزعم خود لبرل، مستقبل پارٹی، سیکولر قوم پرست نیلے اور سفید یا B&W اتحاد، دائیں بازو کی قدامت پسند یمینہ (دایاں بازو)، بائیں بازو کی لیبر پارٹی، قوم پرست اسرائیل مادرِ وطن پارٹی، قدامت پسند امیدِ نو پارٹی، سیکولر ایمرٹس پارٹی اور اخوانی فکر سے وابستہ رعم پارٹی پر مشتمل ہے۔

قارئین کی دلچسپی کے لیے رعم کا ایک مختصر تعارف:

اس جماعت کا اصل نام رعد یا کڑک ہے، جس کا عبرانی تلفظ رعم بن گیا۔ مشہور اخوانی عالم و دانشور عبداللہ نمر درویش نے ”فلسطین 48 “اسلامی تحریک کی بنیاد رکھی۔ نام کے ساتھ 48 لگانے کامقصد اس عزم کا اظہار تھا کہ وہ فلسطینی جغرافیہ میں 1948ء کے بعد آنے والی کسی تبدیلی کو تسلیم نہیں کرتے۔ نابلوس سے تعلق رکھنے والے اس درویش کی عمر اُس وقت صرف 23 برس تھی، اور موصوف اس سے پہلے کئی سال اسرائیلی جیلوں میں گزار چکےتھے۔ یہ وہ دور تھا جب تحریکِ آزادیِ فلسطین یا پی ایل او بہت مقبول تھی۔ پی ایل او کے قائد جناب یاسر عرفات اور تنظیم کی ساری قیادت سیاسی اعتبار سے سیکولر خیالات کی حامل تھی۔ ان حالات میں شیخ درویش نے آزادی برائے اقامتِ دین کا تصور پیش کیا اور جنوبی فلسطین کے صحرائی علاقے النقب (عبرانی تلفظ Negev)میں یہ تحریک بہت مقبول ہوگئی۔ اس علاقے میں آباد فلسطینیوں کو صحرا کے حوالے سے بدو کہا جاتا ہے۔ خلیج عقبہ (ایلات) کے شمال میں واقع یہ صحرا اب ایک جدید شہر میں تبدیل ہوگیا ہے اور ساحل پر فیشن ایبل فائیو اسٹار ہوٹلوں، میخانوں اور عشرت کدوں کو دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل ہے کہ 1948ء تک یہ لق و دق صحرا تھا۔ اسرائیل کے قیام سے پہلے یہاں عربوں کی اکثریت تھی، لیکن جبری قبضہ و آبادکاری کی بنا پر عرب آبادی اب سکڑ کر 25 فیصد رہ گئی ہے۔

ترک خلافت کے دوران یہاں کا سب سے بڑا شہر بیر السبع (سات کنویں)، آباد ہوا، جو بیر شیبہ (Beersheeba)کہلاتا ہے۔ روایت کے مطابق صحرا میں پانی جیسی عظیم الشان نعمت کا ذکر کرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام خدائے واحد کی عبادت کی دعوت دیتے تھے اور یہاں کنووں پر ”نومسلم“ اللہ اور صرف اللہ سے وفاداری کا حلف اٹھاتے تھے۔ اپنے عظیم الشان والد کے اتباع میں ان کے جلیل القدر صاحب زادے حضرت اسحٰق علیہ السلام کنووں کی منڈیر سے وعظ ارشاد فرماتے اور پانی عطا کرنے والے رب کی اطاعت کی دعوت دیتے۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ مشرکین نے پانی دیوتا کی عبادت شروع کردی تھی جس کی نفی کے لیے حضرت اسحٰق ان کنووں پر اللہ کی توحید بیان کرتے اور یہیں لوگوں سے توحید کا حلف لیتے۔ عبرانی زبان میں حلف، کنویں اور سات تینوں کے لیے لفظ Sheva(شبع) استعمال ہوتا ہے۔ ترک ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے ساتوں کنویں تلاش کرلیے تھے، لیکن برطانوی دور میں سپاہیوں کی آمدو رفت کے لیے سڑکوں کی تعمیر کے دوران اکثر کنویں ملیا میٹ ہوگئے۔

اس علاقے میں ترک عثمانیوں نے مساجد، مدارس اور خانقاہیں تعمیر کیں، اور ایک دور میں النقب خاص طور سے بیر السبع اسلامی تعلیم کا بہت بڑا مرکز تھا۔ اُس زمانے میں دینی و دنیاوی تعلیم میں کوئی فرق نہ تھا، اور ان مدارس میں تحفیظ قرآن و شرعی علوم کے ساتھ لسانیات، جغرافیہ اور علومِ فلکیات بھی پڑھائے جاتے تھے۔ اسرائیل کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ جامعہ بن گوریان النقب، بیرالشیبہ ہی میں ہے، جہاں ایک چوتھائی سے زیادہ فلسطینی طلبہ زیرتعلیم ہیں، تاہم جوہری طبعیات، Advanced Mathematicاور فلکیات کے شعبہ جات میں عربوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ ان علوم کی تعلیم کے لیے یہاں کے طلبہ جامعہ اسلامیہ غزہ جایا کرتے تھے، جسے گزشتہ دنوں اسرائیلی بمباروں نے پیوندِ خاک کردیا۔

اسلامی تحریک النقب کے ”بدوئوں“ میں بہت مقبول ہوئی، خصوصاً بیرالشیبہ اور اس کے مضافات میں تحریک نے رفاہی کاموں کا جال بچھا دیا اور جگہ جگہ اسکول، دواخانے اور فنی تعلیم کے مراکز قائم ہوگئے۔ اسرائیلی حکومت کی توجہ جنوب میں ساحلی علاقوں کی ترقی پر تھی جہاں سیاحوں کے لیے ہوٹلوں اور دوسری سہولیات کا انتظام کیا جارہا تھا۔

اسی دوران جنوبی النقب کے ارکان نے اسرائیلی انتخابات میں حصہ لینے کی تجویز پیش کی۔ اس قرارداد نے تحریک کو تقسیم کردیا۔ شمالی النقب کے ارکان نے انتخابی سیاست میں حصہ لینے کی شدید مخالفت کی۔ تحریک کے امیر ابراہیم سرسور کا مؤقف تھا کہ متناسب نمائندگی کے نظام کا فائدہ اٹھاکر عرب اور مسلمان، کنیسہ کی پچیس فیصد نشستیں جیت سکتے ہیں، اور پارلیمان میں اتنی بڑی قوت کی حامل پارلیمانی پارٹی کو نظرانداز کردینا کسی کے لیے ممکن نہ ہوگا۔ تاہم اس معاملے پر اتفاقِ رائے پیدا نہ ہوسکا اور معاملہ اس حد تک بڑھا کہ تحریک شمالی اور جنوبی شاخ میں تبدیل ہوگئی۔ انتخابات میں حصہ لینے کے حامیوں نے جنوبی شاخ کے نام سے تل ابیب کے مضافاتی علاقے کفر(دیہات) قاسم میں اپنا مرکز قائم کرلیا، جبکہ شمالی شاخ نے بیرالشیبہ کے مرکز سے دعوتی کام جاری رکھا۔

جنوبی شاخ نے 1996ء میں سیاسی طور پر پہلے سے سرگرم عرب تنظیم، قائمہ المشترکہ یا Joint Listکے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینا شروع کیا۔ تناسبِ آبادی کی بنیاد پر ایک چوتھائی کنیسہ کی توقع کرنے والوں کو پہلا ذہنی دھچکہ اُس وقت لگا جب ”عرب شہریوں“ میں ووٹر رجسٹریشن کی مہم شروع کی گئی۔ اسرائیلی قانون کے تحت 1967ء کے بعد ہتھیائے گئے علاقے کے لوگ قانونی طور پر ”مہاجر“ سمجھے جاتے ہیں جو اسرائیلی شہریت کے حق دار نہیں، لیکن قیام اسرائیل یعنی1948ء کے وقت جو عرب یروشلم، اس کے مضافات، النقبہ، حیفہ اور دوسرے علاقوں میں آباد تھے انھیں اسرائیلی شہری تسلیم کرلیا گیا۔ اسرائیل کی کُل آبادی میں ایسے عربوں کا تناسب 25 فیصد کے قریب ہے، جن میں 21 فیصد مسلمان اور باقی ماندہ 4 فیصد مسیحی ہیں۔ اسی بنا پر تحریک اسلامی کی شمالی شاخ اپنی کامیابی کے لیے بے حد پُرامید تھی۔

لیکن ووٹر رجسٹریشن پر درج معلومات کی بنا پر سیکڑوں فلسطینی دہشت گردی کے الزام میں دھر لیے گئے۔ اسرائیل میں یہ قانون ناٖفذ ہے کہ معصوم بچے سمیت گھر کے کسی شخص پر بھی دہشت گردی کا الزام ثابت ہوجانے کی صورت میں اُس کا گھر مسمار کرکے زمین نیلام کردی جاتی ہے۔ قانون کے مطابق پولیس افسر کو گھور کر دیکھنا بھی دہشت گردی ہے۔ ووٹر رجسٹریشن کے فارم پر گھر کے ہر فرد کی معلومات درج کرنا ضروری ہے، جس کی تفصیلی چھان بین کے بعد ووٹر فہرست میں اندراج ہوتا ہے۔ چھان بین کے اس سخت اور متعصب نظام کے خوف سے نصف کے قریب عرب بطور ووٹر رجسٹر ہی نہیں ہوتے۔ انتخابات کے دن عرب علاقوں کی نگرانی سخت کردی جاتی ہے۔ ”دہشت گردوں“ کی جانب سے جمہوری عمل میں متوقع رکاوٹ کے سدباب کے لیے مسلم علاقوں میں چھاپے اور پکڑ دھکڑ کا بازار گرم رہتا ہے۔

انتخابی مراکز کی نگرانی کے لیے پولنگ بوتھ کے اندر کیمرے نصب ہیں۔ انتہاپسندوں اور قدامت پسندوں کی جانب سے مسلمان ووٹروں کو دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں، چنانچہ عرب اور خاص طور سے مسلم علاقوں میں ووٹ ڈالنے کا رجحان خاصا کم رہتا ہے۔ اِس بار بھی پورے اسرائیل میں ووٹ ڈالنے کا تناسب ساڑھے 67 فیصد رہا لیکن عرب علاقوں میں 35 فیصد سے کم ووٹ ڈالے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی انتخابات میں جوائنٹ لسٹ کو 13فیصد سے زیادہ ووٹ نہیں مل سکے۔

اختلافات کے باوجود شمالی اور جنوبی دھڑوں نے ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی سے پرہیز کیا۔ نومبر 2015ء میں اسرائیل نے حماس کی حمایت اور اخوان المسلمون سے وابستگی کا الزام لگاکر تحریک اسلامی شمالی برانچ پر پابندی لگادی، لیکن یہ کالعدم تحریک فلسطینی علاقوں میں پوری طرح سرگرم ہے۔ اس کے مُرشدِ عام (امیر) شیخ رائداصلاح حیفہ کے سب سے بڑے شہر اُمّ الفحم کے رئیسِ شہر رہ چکے ہیں۔ جامعہ ہیبرون سے اسلامی شریعہ میں ایم اے کرنے والے 63 سالہ رائد اصلاح کی زندگی کا بڑا حصہ جیل میں گزرا، اور آج کل بھی شیخ صاحب پسِ دیوارِ زنداں ہیں۔

جنوبی دھڑے نے تحریک اور سیاسی سرگرمیوں کے لیے علیحدہ نظم قائم کررکھا ہے۔ تحریک کے ماہر جواں سال حماد ابودعابس اور سیاسی ونگ یعنی رعم کے قائد منصور عباس ہیں۔ سیاسیات میں ایم اے منصور عباس ایک عالم دین بھی ہیں اور اختلافات کے باوجود شمالی دھڑے کے سربراہ شیخ رائد سے بات چیت چلتی رہتی ہے۔ جنوبی و شمالی دھڑوں کے امرا بھی رابطے میں ہیں، اور اسی بنا پر متوازن بلکہ کسی حد تک لبرل سمجھے جانے والے جنوبی دھڑے کے امیر اپنے شمالی ہم منصب کے ساتھ دعوتی دروس میں شرکت کی بنا پر کئی بار جیل بھی ساتھ جاچکے ہیں۔

شاید بہت سے قارئین کو تحریکِ اسلامی فلسطین پر یہ تفصیلی گفتگو موضوع سے کچھ ہٹی ہوئی لگی ہو جس پر معذرت، لیکن ہمارا خیال ہے کہ مسلم دنیا کے نقطہ نظر سے اسرائیل کی داخلی سیاست پر سیر حاصل بحث کے لیے تحریکِ اسلامی فلسطین کے بارے میں بنیادی معلومات کسی حد تک ضروری ہیں، اور شدید نظریاتی اختلافات کے باوجود تحریک کے دونوں دھڑے جس اعلیٰ ظرفی اور وسعتِ قلبی کا مظاہرہ کررہے ہیں اس کا مشاہدہ و مطالعہ اختلافی مسائل میں اعتدال کی راہ تلاش کرنے والے دانش وروں کے لیے مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

اب آتے ہیں حکومت سازی کی طرف۔ گزشتہ بدھ کو جب نامزد وزیراعظم نیفتالی بینیٹ کی رہائش گاہ پر آٹھ جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا تو اس سے پہلے ہی نیفتالی کی یمینہ پارٹی کے ایک رکن بغاوت کا اعلان کرچکے تھے۔ دوسری طرف مذہبی عناصر اور سیاسی قدامت پسندوں نے اتحاد سے وابستہ خواتین ارکانِ کنیسہ کو ہراساں کرنے کی زبردست مہم شروع کررکھی تھی، جس کی بنا پر اکثر خواتین اجلاس سے غیر حاضر تھیں، تاہم وہ فون پر نیفتالی کو اپنی وفاداری کا یقین دلاچکی تھیں۔ جب اجلاس کے اختتام پر نفری گنی گئی تو جناب بینیٹ کو اعتماد کا یقین دلانے والوں کی تعداد61 تھی جو 120 کے ایوان میں حکومت سازی کے لیے کم سے کم تعداد ہے۔ ضابطے کے مطابق اتحاد کے قائد اور مستقبل پارٹی کے سربراہ یار لیپڈ نے جمعہ کی شام کنیسہ کے اسپیکر کو سرکاری خط میں حامی ارکان کی تعداد کے ساتھ نامزد وزیراعظم اور ان کی 9 خواتین سمیت 27 رکنی کابینہ کے نام بھیج دیے۔ اعتماد کے لیے کنیسہ کا اجلاس اتوار کو ہونا تھا۔

کابینہ کے لیے جو نام سامنے آئے اس پر رعم کو سخت مایوسی ہوئی کہ اس میں آٹھ رکنی اتحاد کی سات جماعتوں کو بھرپور نمائندگی حاصل ہے۔ ہر جماعت کو دو سے تین قلمدان سونپے جارہے ہیں لیکن رعم کو کابینہ سے دور رکھا گیا تھا۔ کچھ نام عربوں کے لیے سخت قابلِ اعتراض تھے جیسے

٭ وزارتِ دفاع بینی گینٹز کو سونپی جارہی ہے، جنھیں فلسطینی قصابِ غزہ کہتے ہیں۔

٭وزارتِ داخلہ کے لیے محترمہ ایلٹ شیکڈ کا انتخاب کیا گیا ہے جو شیخ الجراح کو ہر قیمت پر خالی کرانا چاہتی ہیں۔

٭انتہائی قدامت پسند زیو ایلکن وزیر ہائوسنگ و تعمیرات ہوں گے۔ یہی وزارت فلسطینیوں کی زمینوں پر اسرائیلی بستیاں تعمیر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ اسی کے ساتھ موصوف کو امورِ یروشلم کا قلمدان بھی سونپا جارہا ہے۔

٭ سراغ رسانی کے وزیر ایلزراسٹرن بھی سخت گیر سمجھے جاتے ہیں۔

٭قبضے المعروف Settlement کا قلمدان نیر اوربش (Nir Orbach)کےپاس ہوگا۔ نیفتالی بینیٹ کے یہ قریبی ساتھی اس بات پر روٹھے ہوئے تھے کہ رعم کو اتحاد میں کیوں شامل کیا گیا ہے۔ انھیں خدشہ تھا کہ اسلام پسند نئی اسرائیلی بستیوں کا قیام رکوا دیں گے۔ اربش صاحب نے دھمکی دی تھی کہ اگر اسرائیلی بستیوں کی تعمیر جاری رکھنے کی ضمانت نہ دی گئی تو وہ نیفتالی کو اعتماد کا ووٹ نہیں دیں گے۔ اُن کے تحفظات دور کرنے کے لیے موصوف کو وزیرِ امورِ نوآبادی یاAffairs Settlement بنادیا گیا۔

٭بارہ رکنی سیکورٹی کابینہ یا کچن کیبنٹ بھی قدامت پسندوں اور سخت گیروں پر مشتمل ہے۔

٭ معتدل و معقول ارکان میں لیبر پارٹی کے عمر بارلیف وزیر پبلک سیکورٹی، محترمہ ثمر زینڈبرگ وزیر ماحولیات اور محترمہ میری مشیلی شامل ہیں۔

پسندیدہ وزارت کی شکل میں نیر اوربش پر خصوصی مہربانی اور ان کی جانب سے حمایت کے اعلان کے بعد نیفتالی بینیٹ 61 ووٹوں کی حمایت کی امید کررہے تھے جو واضح اکثریت کے لیے کافی تھی۔ کنیسہ میں اجلاس کے آغاز پر قدامت پسندوں کا رویہ خاصا جارحانہ تھا۔ نیفتالی کے ایوان میں آتے ہی ہال غدار، بے ایمان، ووٹ چور، عربوں کا کاسہ لیس اور سازشی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ ارکان دیر تک فرش پر جوتے رگڑتے رہے۔ سیٹیوں اور نعروں کے شور میں کوئی بات سنائی نہ دیتی تھی۔ حتیٰ کہ وزیراعظم نیتن یاہو نے خود اپنے ارکان سے متانت اختیار کرنے کی درخواست کی۔ جب شور تھما تو رعم پارٹی کے رکن سعید الحرومی کھڑے ہوگئے اور انھوں نے گفتگو کی اجازت طلب کی۔ ضابطے کے تحت اعتماد کے ووٹ سے پہلے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت نہیں، لیکن سعید صاحب نے کہا کہ ”اسپیکر صاحب میں نہیں میرا ضمیر کچھ عرض کرنا چاہتا ہے“۔ اجازت ملنے پر جذبات سے رندھی آواز میں سعید الحرومی نے کہا ”میں کیسے اس وزیراعظم کو اعتماد کا ووٹ دے سکتا ہوں جو ہمیں بے دخل کرکے ہماری زمینوں پر اسرائیلی آبادیوں کا قیام جاری رکھنا چاہتا ہے۔ جس کی پوری کابینہ اُن لوگوں پر مشتمل ہے جن کے ہاتھوں پر ہمارے بچوں کا لہو ہے“۔ انھوں نے سوال کیا کہ ”بی بی (نیتن یاہو) اور نیفتالی بینیٹ میں کیا فرق ہے اور میں نیفتالی پر کیسے اعتماد کرسکتا ہوں؟ تبدیلی سرکار سے ہماری قسمت تبدیل نہیں ہوگی اور یہ قبضہ مافیا کا تسلسل ہے“۔ سعید کی تقریر سے نیفتالی اور تبدیلی اتحاد کے ارکان ہکا بکا رہ گئے، نیتن یاہو کا چہرہ خوشی سے تمتما اٹھا، لیکن سعیدالحرومی نے یہ کہہ کر بی بی کو بھی مایوس کردیا کہ ”میں اس تماشے کا حصہ نہیں بنوں گا“۔ رائے شماری کے دوران سعید غیر جانب دار رہے۔ کنیسہ کے 120میں سے 60 ارکان نے نیفتالی پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ 59 ارکان نے مخالفت میں ہاتھ بلند کیے۔ نیفتالی کی وزارتِ عظمٰی اخلاقی اعتبار سے مستند نہیں، کہ وہ واضح اکثریت یعنی 61ووٹ لینے میں ناکام رہے۔

اسی بنا پر سبک دوش ہونے والے وزیراعظم نیتن یاہو نے کہا کہ حکومت ایوان کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہوگئی ہے۔ اسپیکر صاحب! معاملہ آگے کیسے بڑھے گا؟ انھوں نے اپنے حامیوں کو نئے انتخابات کی تیاری کی ہدایت کی۔

معاہدے کے تحت نیفتالی بینیٹ پہلے ڈھائی سال وزیراعظم رہیں گے، جس کے بعد مستقبل پارٹی کے سربراہ یار لیپڈ اقتدار سنبھالیں گے۔ 49 سالہ نیفتالی امریکی ریاست کیلی فورنیا سے اسرائیل منتقل ہونے والے یہودی خاندان کے چشم و چراغ ہیں۔ وہ اسرائیلی فوج کے چھاپہ مار دستے میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ نامزد وزیر دفاع بینی گینٹز کی طرح نیفتالی بھی بہت فخر سے کہتے ہیں کہ انھوں نے درجنوں فلسطینی دہشت گردوں کو اپنے ہاتھوں سے ہلاک کیا ہے۔ جنوری 2013ء میں اسرائیلی کنیسہ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے دوٹوک انداز میں کہا تھا ”اسرائیل خود ہی ننھا سا ملک اور ہماری ضرورت سے بہت چھوٹا ہے۔ ہمارے پاس کہاں اتنی گنجائش کہ فلسطینی ریاست تشکیل دے سکیں۔ فلسطینی ریاست ہمارے لیے تباہی کا پیش خیمہ ہوگی۔“

اسرائیلی فوج کے ہاتھوں مارے جانے والے فلسطینی بچوں کے بارے میں انھوں نے کہا ”یہ بچے نہیں دہشت گرد ہیں، ہمارا میڈیا خود ہمیں ہی بے وقوف بنارہا ہے۔“

تاہم جمعہ کو رعم کے ارکانِ کنیسہ سے ملاقات میں انھوں نے یقین دلایا کہ تبدیلی سرکار بلا امتیاز تمام اسرائیلیوں کی یکساں خدمت کرے گی۔ مذہبی عناصر ہوں یا دین دار، قدامت پسند یہودی یا عرب، سب ایک ہیں۔ وزیراعظم نیفتالی کے دعوے اور ضمیر کی آزمائش 15 جون کو ہوگی جس دن انتہاپسندوں نے یوم یروشلم منانےکا اعلان کیا ہے۔

یہ دن 1967ءکی جنگ میں یروشلم پر قبضے کی یاد میں عبرانی سال کے دوسرے مہینے ایار (Iyar)کی 28تاریخ کو منایا جاتا ہے۔ اس سال 10 مئی کو ایار کی 28 تھی جب القدس شریف میں فلسطینیوں اور اسرائیلی فوج کے درمیان شدید تصادم ہوا۔مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر مشتعل ہوکر اہل ِغزہ نے تل ابیب پر راکٹ حملے کیےجس کے نتیجے میں گیارہ روزہ جنگ کا آغاز ہوا۔لڑائی کی بنا پر یروشلم مارچ معطل کردیا گیا۔ جنگ بندی کے بعد جلوس کے لیے 10 جون کی تاریخ دی گئی لیکن منتظمین نے مظاہرہ نئی حکومت کے قیام تک ملتوی کردیا۔ اس مارچ کے لیے جو اجازت نامہ جاری کیا گیا ہے اُس کے مطابق مظاہرین کو مشرقی بیت المقدس یعنی مسجد اقصیٰ تک جانے کی اجازت ہوگی۔ نئی وزیرداخلہ نے امن بحال رکھنے کے عزم کے ساتھ فرمایا ہے کہ اظہارِ رائے کی آزادی شہریوں کا بنیادی حق ہے اور اس میں رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ یہ اُن فلسطینیوں کے لیے انتباہ ہے جو پُرعزم ہیں کہ مظاہرین کو اقصیٰ کمپائونڈ میں داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ خیال ہے کہ کچھ وزرا بھی مارچ میں شریک ہوں گے۔ حماس نے اسی روز یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ سیاسی مبصرین منگل کو ایک اور خونریز تصادم کا خوف ظاہر کررہے ہیں۔

نیفتالی صاحب کی یقین دہانیاں اپنی جگہ، لیکن انتہاپسندوں کو مسجد اقصیٰ تک آنے کی اجازت کے بعد اسلامی خیالات کی حامل جماعت کے ووٹوں سے برسراقتدار آنے والی حکومت سے بھی فلسطینیوں کو راحت کی کوئی توقع نہیں رہی۔

(This article was first published in Friday Special)