بجٹ وجٹ، ترقی ورقی

233

پہلی قسط

وزیراعظم عمران خان اور ان کی حکومت شاد ہے کہ جن لوگوں کا انہوں نے تین برس میں ستیاناس کرکے رکھ دیا حالیہ بجٹ میں ان سے عہد وفا کی بحالی کی کوئی شکل تو بنی۔ جس وقت بجٹ پیش کیا جارہا تھا تنخواہوں میں اضافے کے لیے پارلیمنٹ کے باہر سرکاری ملازمین احتجاج کررہے تھے۔ پچھلے بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ نہیں کیا گیا تھا۔ اس مرتبہ تنخواہوں اور پنشن میں دس فی صد اضافہ کرکے خربوزے اور چھری میں کچھ ملی میٹر کی دوری پیدا کردی گئی ہے۔ یہ دس فی صد اضافہ دس فی صد افراط زر سے کس چائو سے اور کہاں تک نباہ کرے گا اس کی توصیف اور تعریف بازار کا ایک چکر لگائے بغیر ممکن نہیں۔ بجٹ میں حکومتی اتحادی ارکان کے لیے 350ارب کا ضلعی ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا جب کہ زراعت کے شعبے کے لیے 12ارب روپے، صوبہ سندھ کے لیے مخصوص گرانٹ 12ارب، بجلی کی تقسیم کے لیے 118ارب روپے، پانی کے بحران پر قابو پانے کے لیے 91ارب روپے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 66ارب روپے، صحت کے لیے 28ارب۔ زراعت، صوبہ سندھ کی گرانٹ، بجلی کی تقسیم، پانی کا بحران، اعلیٰ تعلیم اور صحت یہ سب ایک طرف اور حکومتی اتحادی اراکین دوسری طرف!!
اس نے چوروں سے سرعام شراکت کی ہے
اس نے قاتل کو بھی مسند پہ بٹھا رکھا ہے
ابھی میں بڑے بڑے صنعت کاروں کی بجٹ پر آرا دیکھ رہا تھا انہوں نے بجٹ کو متوازن قرار دیا ہے۔ ہمیں حیرت ہے انہوں نے تاریخی اور شاندار کیوں نہیں کہا۔ ان کا تو کبھی گھاٹا نہیں ہوتا۔ ٹیکس بڑھتے ہیں، حکومت کے کسی بھی اقدام سے نقصان ہوتا ہے تو وہ اشیا کی قیمتیں بڑھا کر خسارہ پورا کرلیتے ہیں۔ چھوٹے تاجروں نے بجٹ کو ہیر پھیر قراردیا ہے۔ عوام نے کیا قرار دیا ہے اس کا کہیں ذکر نہیں۔ تین برسوں کی دل لگی نے جن کا خان صاحب سے عشق مار کررکھ دیا ہے۔ جن کا خسارہ اصل زر سے بھی بڑھ گیا ہے۔ جن کی ویرانی کی حکمرانوں کو خبر ہوتی ہے اور نہ پروا۔
وہ یہ کہتا ہے کہ کیا میں نے بگاڑا تیرا
ہم کبھی بیٹھ کے سوچیں گے سلامت کیا ہے
حکومت اور حکومتی وزرا کی سخن طرازیوںکا مرکز ومحور یہ نکتہ ہے کہ معیشت میں بہتری آرہی ہے۔ اس کے ثبوت میں حکومت جو اعداد وشمار پیش کررہی ہے بیش تر معیشت دان اور عالمی ادارے انہیں تسلیم کرنے پر تیار نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برسر زمین تو ایسی کوئی چیز نظر نہیں آرہی۔ جن معاشی اشاروں کا بڑے فخر کے ساتھ ذکر کیا جارہا ہے نامور معیشت دان انہیں غلط قرار دے رہے ہیں۔ جن معاشی اشاروں کا بڑا شور ہے ان میں ایک شرح نمو یا جی ڈی پی ہے جس کے بارے میں حکومتی دعویٰ ہے کہ چار اعشاریہ آٹھ فی صد ہوجائے گی لیکن ورلڈ بینک کی امید یہ ہے کہ شاید ایک اعشاریہ دو فی صد ہوجائے۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ شاید اتنی ہوجائے ورنہ اتنی بھی امید نہیں۔
فی کس آمدنی کو سرمایہ دارانہ معیشت کا ایک اہم اشاریہ تصور کیا جاتا ہے۔ فی کس آمدنی میں ملک کے امیر ترین اور غریب ترین افراد کو ایک ہی پلڑے میں ڈال کر آمدن کی اوسط نکالی جاتی ہے اور پھر ملک کی ترقی یا تنزلی کا تعین کیا جاتا ہے۔ مالی سال 2018ء میں ملک کی سالانہ فی کس آمدنی 1641 ڈالر تھی۔ اس کے بعد تین سال میں جی ڈی پی گروتھ ریٹ کی اوسط شرح1.79فی صد رہی جب کہ اس دوران ملکی آبادی میں سالانہ شرح اضافہ 2.1فی صد رہی۔ جس کے نتیجے میں خود حکومتی اعداد وشمار کے مطابق فی کس آمدنی 1361 ڈالر تک آگئی۔ رواں مالی سال 1543 ڈالر تک آجانے کے باوجود بھی فی کس آمدنی 2018 کے مقابلے میں کم ہے۔ اکتوبر 2018 سے لے کر دسمبر 2020 تک حقیقی اجرتوں میں0.9فی صد سے لے کر8.2فی صد تک کمی واقع ہوئی ہے۔ اپریل سے جون 2020 تک محض تین ماہ میں 50لاکھ بے روزگاروں میں سے بمشکل 20لاکھ کو واپس روزگار مل پایا ہے۔ اپریل 2020 سے لے کر دسمبر 2021 تک مزید دوکروڑ 80لاکھ کے خط غربت سے نیچے گرجانے کا خدشہ موجود ہے۔ ایسے میں رواں مالی سال میں فی کس سالانہ آمدنی میں اضافے کا دعویٰ سفاکی کی حدتک مضحکہ خیز ہے۔
رواں مالی سال کے پہلے نو مہینے میں کرنٹ اکائونٹ 960ملین ڈالر کے سرپلس ہے اور غالب گمان یہی ہے کہ مالی سال کے اختتام تک بھی صورتحال یہی رہے گی یا معمولی کم ہوجائے گی۔ جب کہ پچھلے مالی سال میں یہ 4.4ارب ڈالر کے خسارے میں تھا۔ حکومت اس امر کو اپنی بڑی کامیابی بناکر پیش کررہی ہے۔ کرنٹ اکائونٹ کو ملنے والے اس سہارے کی واحد وجہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں خاطر خواہ اضافہ ہے جو رواں مالی سال کے پہلے نو ماہ میں 21.4ارب ڈالر تھیں اور امکان ظاہر کیا جارہا تھا کہ مالی سال کے اختتام تک تقریباً 29ارب ڈالر تک ہوسکتی ہیں۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ یہ اضافہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی حکومت پر اعتماد کی وجہ سے ہے جب کہ حقیقت میں اس اضافے کی بڑی وجہ کورونا کے باعث فضائی سفر پر پابندی اور آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کا ہنڈی کے کاروبار پر بڑے پیمانے پر کریک ڈائون ہے۔ جس کے نتیجے میں تارکین وطن اپنی رقوم قانونی بینکنگ چینلز سے بھیجنے پر مجبور ہوئے۔ معیشت پر اعتماد کی بڑی نشانی بیرونی سرمایہ کاری ہوتی ہے جو رواں مالی سال کے پہلے نو مہینے میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 35فی صد کمی کے ساتھ محض 1.4ڈالر رہی۔
ٹیکسٹائل کے شعبے میں ایکسپورٹ میں اضافے کے بارے میں بھی حکومتی کارکردگی کا بڑا ذکر ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پچھلے سال ستمبر سے ملک کی ٹیکسٹائل صنعت پوری استعداد کے ساتھ کام کررہی ہے۔ اس کی وجہ حکومت کی کوئی انقلابی پا لیسی یا نئی پیداواری ٹیکنک نہیں اس کی وجہ کورونا کی وجہ سے انڈیا، بنگلا دیش اور ویتنام کی ٹیکسٹائل کی صنعت کی بندش ہے۔ جب کہ ہمارے یہاں اس دوران صنعتیں مکمل رفتار سے کام کرتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری اپنی تمام تر پسماندگی کے باوجود میدان خالی ہونے کی وجہ سے یورپ اور شمالی امریکا سے آڈر لینے میں کامیاب رہی ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ ایک وقتی برتری ہے جیسے ہی بھارت اور بنگلا دیش کا ٹیکسٹائل کا شعبہ اپنی تمام استعداد کے ساتھ عالمی مارکیٹ میں آئے گا پاکستانی ٹیکسٹائل مقابلے سے باہر ہوجائے گی۔
رواں مالی سال کے 3.94فی صد کے گروتھ ریٹ کے حیرت انگیز دعوے کے ثبوت میں حکومت زرعی شعبے میں گندم، چاول، مکئی اور گنے کی بمپر پیداوار پیش کرتی ہے۔ جن کی پیداوار میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں بالترتیب 8.1، 13.6، 7.38 اور 22فی صد اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ بھی حکومتی پالیسیاں نہیں منڈی کی حرکیات، چھوٹے اور درمیانے کسانوں کی معاشی مجبوریاں، موسمیاتی اتار چڑھائو اور نہری پانی کی دستیابی ہے۔ چونکہ بمپر پیداوار کی وجہ کوئی مستحکم پالیسی نہیں ہوتی اسی لیے ہمارے یہاں روایت یہ رہی ہے کہ ایک برس جن اجناس کی شاندار فصل کے چرچے ہوتے ہیں اگلے برس انہیں امپورٹ کرنا پڑتا ہے۔ اگر حکومتی کارکردگی ہی اس اضافے کی وجہ ہے تو کپاس کی پیداوار میں یہ کارکردگی کہاں دفن ہوگئی جس میں 23کمی واقع ہوئی۔ چار دہائیوں میں سب سے کم۔ معاشی اشاریوں کی وجہ سے گروتھ ریٹ کے اضافے کی جو خوشخبری سنائی جارہی ہے اس کی حقیقت ہم نے بیان کردی ہے لیکن فرض کیجیے یہ اضافہ حقیقی بھی ہو، حکومتی دعوے درست بھی ہوں تو کیا اس اضافے سے فی الواقع عوام کی مشکلات میں کمی واقع ہوگی؟ ان شااللہ کل
(جاری ہے)