گیارہ جلدوں پر مشتمل سیرت رسول اﷲؐ کی اشاعت کا منصوبہ

226

رحمت عالم محمد رسول اﷲؐ کی حیاتِ طیبہ پوری انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے اور اس روشنی کو تمام حلقوں میں فروغ دینے کے لیے ائمہ کرام اور ارباب علم و تحقیق کی طرف سے سیرت نگاری کا سلسلہ قدیم مدت سے جاری و ساری ہے۔
’’دائرہ معارف سیرت‘ محمد رسول اﷲ ؐ ایک عظیم ارمغانِ علمی ہے جس میں سیرت مبارکہ زمانی ترتیب کے مطابق عمدہ اسلوب اور جامعیت کے ساتھ تیار کی گئی ہے۔
یہ سیرت طیبہ مایہ ناز عالم پروفیسر عبدالقیومؒ (۸۹۔۱۹۰۹ء) کے خاکے کے مطابق تیار کی گئی ہے۔ پروفیسر عبدالقیومؒ نے میکلوڈ سکالر شپ کے تحت چار سال فن تحقیق میں گزارے۔ قیام پاکستان سے قبل نوسال گجرات‘ ہوشیار پور اور لدھیانہ کے کالجوں میں تدریس کے فرائض اجام دیے۔ قیام پاکستان کے بعد اکیس برس گورنمنٹ کالج لاہور اور پنجاب یونیورسٹی اورینٹل کالج میں عربی زبان و ادب اور علوم اسلامیہ کی تعلیم و تدریس میں صرف ہوئے۔ انھوں نے آخری اکیس برس پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اُردو دائرہ معارف اسلامیہ میں سینئر مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ یوں موصوف کی متاعِ حیات کا بڑا حصہ یعنی پچپن سال عربی و اسلامی علوم کی تعلیم و تحقیق میں صرف ہوا۔
پروفیسر عبدلقیومؒ نے ۷۶۔۱۹۷۵ء میں مبسوط سیرت نگاری کے لیے ایک مفصل خاکے کی تشکیل کی۔ یہ خاکہ اُن کی وفات کے بعد اورینٹل کالج میگزین میں ۱۹۹۲ء میں شائع ہوا۔ وہ اس خاکے کے مطابق سیرت کا ایک بڑا تخلیقی کام انجام دینا چاہتے تھے لیکن انھیں اجل نے مہلت نہ دی اور اس دارِ فانی سے رخصت ہوگئے۔
پروفیسر عبدالقیومؒ مرحوم کے خاکۂ سیرت کے مطابق تالیف و ترتیب کے لیے ۲۰۰۸ء میں ’’دارالمعارف‘‘ قائم کیا گیا۔ پروفیسر مرحوم کے صاحبزادے بانی و صدر دارالمعارف میجر زبیر قیوم(ر) نے ادارے اور اس منصوبہ سیرت کی انتظامی و مالی ضروریات کو بحسن و خوبی پورا کیا۔ ادارے کے فاضل محققین نے تیرہ سال کی کاوش کے بعد یہ سیرت ترتیب دی۔
’’دائرہ معارف سیرت‘ محمد رسول اﷲؐ ‘‘ کی یہ علمی اور تحقیقی عام فہم سلیس اددو میں ہے۔ دورِ حاضر میں سیرت طیبہ کی روشنی میں زندگی کے تمام معاملات کے بارے میں رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ سیرت اس سلسلے کی ایک عمدہ کوشش ہے جو سنجیدہ و شائستہ علمی اسلوب میں سیرت کے پیغام کو اجاگر کرتی ہے۔ کتاب کے ہر باب میں واقعات کے جامع اور مستند علمی بیان کے بعد خلاصتہ الباب رقم کیا گیا اور آخر میں واقعات سے حاصل شدہ اسباق و عصری رہنمائی کی تفصیل کے لیے ’’فقہ السیرۃ‘‘ کا عنوان قائم کیا گیا۔ یہ طریق کار اس سیرت کے منفرد اور جداگانہ نمایاں خوبی ہے۔ یہ کتاب کسی خاص طبقے یا گروہ کے لیے نہیں‘ بلکہ تمام اہل اسلام اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ کتاب میں موضوع روایات سے خاص طور پر پرہیز کیا گیا اور قرآن و حدیث اور ائمہ محدثین و فقہاء کی رہنمائی سے دین کے محکمات کو واضح کیا گیا۔
بزم اقبال محترم وزیر ثقافت میاں خیال احمد کاسترو صاحب اور سیکرٹری اطلاعات و ثقافت راجہ جہانگیر انور صاحب کی سرپرستی کے نتیجے میں سرتِ رسول اﷲؐ کی اشاعت کے ضخیم اور عظیم منصوبے پر عمل درآمد کرنے کا آغاز کررہی ہے۔
سیرت رسول اﷲؐ کی افادیت اور اہمیت کے پیش نظر اور ہر باذوق قاری اور محقق عالم کے مطالعے کے لیے اسے بہترین طباعت کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے۔ اس کی بارہ جلدیں ہیں۔ پہلی جلد مقدمے پر مشتمل ہے۔ دوسری جِلد بہت جلد قارئین کے ہاتھوں میں ہوگی‘ باقی جلدیں بھی یکے بعد دیگرے بہترین طباعت سے آراستہ ہوکر قارئین کو دستیاب ہوتی رہیں گی۔ آخری جلد فہارس‘ مصادر اور اشاریہ کے لیے ہے۔
اﷲ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ اس عاجزانہ سعی کو شرفِ قبولیت سے نوازے۔ سیرتِ رسولؐ کی طباعت و اشاعت کے لیے مالی سرپرستی کرنے والے احباب اور منتظمین‘ معاونین‘ محققین اور ناشرین کے لیے آخرت کی نجات اور شفاعت ِ نبویؐ کا وسیلہ بنا دے۔ آمین