این آر او سے آین آر او تک…!

314

یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا کہ جب تک موجودہ نظام برقرار ہے۔ اس نظام کے ہوتے ہوئے جب بھی احتساب کا عمل شروع ہوگا سیاستدان اور عوامی نمائندے بیمار پڑجائیں گے اور پھر ان کی بیماری کا علاج پاکستان میں ممکن نہیں ہوتا۔ یہ علاج کروانے لندن اور دبئی جاتے ہیں، موجودہ نظام کے ہوتے ہوئے حقیقی قیادت بھی اُبھر کر سامنے نہیں آسکتی اور نہ ہی نچلی سطح سے قیادت کے اُبھرنے کے مواقع میسر ہوں گے۔ یہ سب غیر جماعتی انتخابات کے ثمرات ہیں کہ جس کے تحت 1985ء میں عام انتخابات کروائے گئے تھے۔ ان انتخابات نے غیر جماعتی کلچر کو جنم دیا اور پارلیمنٹ میں کاروباری حضرات کی بھاری تعداد عوامی نمائندوں کے روپ میں سامنے آئی۔ اس کاروباری کھیپ نے سیاست کے میدان میں اپنے قدم جمائے اور پورے نظام کو اپاہج کرکے رکھ دیا۔
حکومتی مشینری جو بیورو کریسی پر مشتمل ہوا کرتی ہے یہ ان کے تابع ہوگئی جس نے کرپشن کی بنیاد رکھی اور پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ NRO کا عمل بھی شروع ہوا جو اب اپنی جڑیں مضبوط بنا چکا ہے۔ آئین پاکستان میں کسی جگہ پر بھی NRO کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ 20 اکتوبر 1972ء کو ذوالفقار علی بھٹو نے خان عبدالقیوم خان، غوث بخش بزنجو، ارباب سکندر خان خلیل، مولانا مفتی محمود، سردار شوکت حیات، میجر جنرل جمال داد خان، پروفیسر عبدالغفور اور سردار شیرباز مزاری اور شاہ احمد نورانی کے ساتھ طویل مشاورت کے بعد آئینی امور پر سمجھوتا کیا تھا اور پھر 10 اپریل 1973ء کو آئین پاکستان منظور ہوا۔ 12 اپریل 1973ء کو صدر مملکت نے آئین پاکستان کے حتمی مسودے پر دستخط کردیے اور یوں یہ آئین 14 اگست 1973ء کو پورے ملک میں نافذ ہوگیا۔ اسی آئین کے تحت موجودہ نظام چل رہا ہے، ملک کے زیرک سیاستدانوں نے جدوجہد کرکے یہ آئین تیار کیا اور ایک صاف شفاف نظام کی بنیاد رکھی۔ مگر بدقسمتی سے اس نظام کے ساتھ مل کر سب سیاستدانوں نے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر کھلواڑ کیا اور آج اس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے، پوری قوم اس کا خمیازہ بھگت رہی ہے۔ اب کرپشن میگا کرپشن کی شکل میں سامنے آرہی ہے، اور احتسابی عمل مکمل طور پر ناکام ہوا ہے، اب نہ تو نوابزادہ نصر اللہ خان، ملک قاسم اور عبدالستار خان نیازی کے پائے کے سیاستدان موجود ہیں جن کی ہمیشہ ہی سے سیاست صاف ستھری ہوا کرتی تھی، اب کم و بیش تمام سیاسی جماعتوں کی قیادت میں خاندانی آمریت اور موروثیت غلبہ حاصل کرچکی ہے۔ زرداری، بھٹو، نواز شریف، شہباز شریف یہ ہے موجودہ نظام میں ہماری سیاسی قیادت، ان کی پہچان کرپشن ہے مگر پھر بھی قوم انہیں اپنا قائد مانے تو یہ بدقسمتی ہے۔ اس سرزمین کی، اس سیاسی قیادت نے اقتدار میں اپنے خاندانوں کی گرفت مضبوط بنانے کے لیے جو حربے استعمال کیے یہ اب ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔
جنرل پرویز مشرف نے اپنا اقتدار برقرار رکھنے کی خاطر پاکستان میں اس حقیقت کو جانتے ہوئے بھی کہ ہائوس آف شریف اور ہائوس آف زرداری نے دونوں ہاتھوں سے قومی خزانہ لوٹا پھر بھی محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو NRO دے کر پاکستانی سیاست میں NRO کی بنیاد رکھی۔ اس پورے عمل میں جن غیر ملکی طاقتوں نے اپنا کردار ادا کیا اس کی ایک جھلک امریکا کی قومی سلامتی کی مشیر اور سیکرٹری آف اسٹیٹ کونڈو لیزا رائس کی کتاب NO HIGHER HONOR کے صفحات نمبر 606 سے لے کر 612 میں دیکھی جاسکتی ہے۔ ان صفحات میں بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ کس طرح پاکستان کی داخلی سیاست میں امریکا کے علاوہ برطانیہ اور متحدہ عرب امارات نے مداخلت کی اور جنرل پرویز مشرف کے ساتھ محترمہ بینظیر بھٹو اور میاں نواز شریف کو اقتدار میں لانے کے لیے NRO کے عمل کو یقینی بنایا گیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ خود جنرل پرویز مشرف نے اِس پورے عمل میں غیر ملکی ہاتھوں کو بھرپور رسائی دی۔ 2007ء میں خود کونڈو لیزا رائس اور امریکی سفارت کار رچرڈ بائوچر کے علاوہ یو اے ای کے شاہی خاندان کی اعلیٰ شخصیات نے بھی اپنا عملی کردار ادا کیا، یعنی کرپشن کے مقدمات کے باوجود بدعنوان سیاست دانوں کو اقتدار کے ایوانوں تک رسائی دلوانے میں غیر ملکی طاقتوں کی دلچسپی حیران کن ہے۔
اقتدار میں آکر آصف علی زرداری نے جو کردار ادا کیا۔ میاں نواز شریف نے تین مرتبہ وزارت ِ عظمیٰ کے عہدے پر رہ کر جو کچھ کیا یہ سب کچھ اب ریکارڈ کا حصہ ہے۔ کرپشن کی نوعیت کیا تھی؟ دونوں سابقہ حکمرانوں نے کس سطح کی کرپشن کی اور کس طرح قومی اداروں کو اپنے ذاتی مفادات کی خاطر استعمال کیا۔ پوری تفصیل اب عام ہوچکی ہے، بیرون ملک ان کے اثاثے اور جائدادیں کھلے ثبوت ہیں کہ قومی خزانہ دونوں ہاتھوں سے لوٹا گیا، عدالتوں میں من پسند وکلا کو جج تعینات کیا جاتا رہا، بیورو کریسی میں منظور نظر افسران کو ترقیاں دے کر بدعنوانیوں کے ثبوت غائب کروا دیے گئے۔ ان ہی دونوں خاندانوں نے اپنے ذاتی مفادات کے لیے قومی اداروں میں بے شمار حسین حقانی اور رحمن ملک پیدا کرکے انہیں استعمال کیا، ان کی تمام تر سرگرمیاں سراسر قومی سلامتی کے منافی رہی ہیں۔ حیرت ہوتی ہے کہ ہمارے قومی سلامتی کے ادارے ان جیسے عناصر کو حساس عہدوں پر کس طرح تعینات کرنے کی اجازت دے دیتے ہیں۔ NRO کے تحت کسی قومی ادارے نے یہ کھوج نہیں لگایا کہ آخر محترمہ بینظیر بھٹو کو کن ہاتھوں نے پس پردہ رہ کر قتل کروایا؟ اور اِس قتل کا اصل فائدہ کس نے اُٹھایا؟ اس ضمن میں جن مشکوک افراد کا بعد میں قتل ہوا اس کے محرکات کیا تھے؟ عزیر بلوچ اور رائو انوار کو کیوں ریلیف فراہم کیا گیا؟ حقائق انتہائی تلخ ہیں، کرپشن بھی ہوئی، قتل بھی کروائے گئے مگر موجودہ نظام میں قانون بے بس ہے، وجہ اس کی یہی ہے کہ آخر NRO تو مل ہی جانا ہے، ماضی میں بھی NRO ملتا رہا ہے کہ جس کی بنیاد رکھی جاچکی ہے، یہ سلسلہ اب ختم ہونا چاہیے، عدالتوں اور قومی اداروں پر عام لوگوں کا اعتماد اُٹھ چکا ہے۔
NRO اگر اب دیا جارہا ہے یا NRO اب دیا جاچکا ہے تو یقین جانیے کہ ’’بنی گالا‘‘ کی حیثیت بھی اب وہی ہوجائے گی کہ جو اب ’’جاتی امرا‘‘ اور ’’بلاول ہائوس‘‘ کی ہے۔ اب وزیراعظم عمران خان کو سخت پالیسی اختیار کرنی ہوگی اور عوام کو اعتماد میں لینا ہوگا۔ NRO کون دیتا ہے؟ اور پھر NRO دینے کے لیے وہ کون سے خفیہ ہاتھ ہیں جو قومی اداروں میں سرگرم ہیں، جیسا کہ عمران خان اپنی حکومت کا آدھا سفر پورا کرچکے ہیں، معیشت کی حالت انتہائی حد تک بگڑ چکی ہے، آنے والا بجٹ موجودہ حکومت کے لیے مزید مشکلات لے کر آرہا ہے۔ لوٹی ہوئی قومی دولت کی واپسی ابھی تک ایک خواب ہے۔ اِس ضمن میں اب آنے والے دنوں میں ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کیے بغیر یہ دولت واپس نہیں لائی جاسکتی، بدعنوان شخصیات کی جائدادیں اور اثاثے نیلام کرکے قومی خزانے میں دولت کی واپسی سے غیر ملکی قرضوں کا بوجھ قدرے کم ہوسکتا ہے، ان تمام پہلوئوں پر قومی پالیسی مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔
معاشرے میں صحت مند لوگوں اور صحت مند عوامی نمائندے نعمت تصور کیے جاتے ہیں۔ اب حالت یہ ہے کہ بیمار اور بوسیدہ نظام میں بیمار سیاستدان عوام پر مسلط ہوتے ہیں، آصف علی زرداری بیمار، میاں نواز شریف بیمار، میاں شہباز شریف بیمار، اسحاق ڈار بیمار اور پھر ان کی بیماری بھی ایسی کہ جس کا علاج پاکستان میں نہیں، ان کو پاکستان سے باہر لندن اور دبئی جانا پڑتا ہے۔ دراصل ان کی اصل بیماری کرپشن ہے عدالتیں بھی اب بے بس ہیں، کرپشن میں ملوث ہونے کے باوجود ان لوگوں کو پاکستان سے باہر جانے کی اجازت دی جاتی ہے، یہ اس نظام کے کرشمے ہیں جو آئین پاکستان کے تحت نافذ ہوا تھا۔ قومی سلامتی کا اب تقاضا ہے کہ اب نظام میں جس بیماری نے اپنے پنجے گاڑ رکھے ہیں اس کا علاج کیا جائے، اس بیماری کا علاج NRO کا خاتمہ اور سرجری ہے جس میں بدترین خاندانی آمریت جو گزشتہ برسوں سے پروان چڑھی ہے اس کا بھی قومی سطح پر خاتمہ ہو۔ اس ضمن میں حکومت کے علاوہ قومی میڈیا جن میں دانشور طبقہ اور قلم قبیلے کے لوگ برابر کے شریک ہیں اپنا بھرپور کردار ادا کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ پاکستان اپنی تاریخ کے انتہائی نازک موڑ پر کھڑا ہے، خطے کے چاروں اطراف پر خطرات منڈلارہے ہیں قوم غیر یقینی کی صورت حال سے باہر نکلے اور سیاسی استحکام کی خاطر بدعنوان شخصیات کے دل فریب نعروں کے اثر میں نہ آئے اور ہر سطح پر NRO دیے جانے کے خلاف آواز اُٹھائے تا کہ پاکستان میں حقیقی معنوں میں ایماندار اور قومی خدمت کے جذبات سے سرشار قیادت اُبھر کر سامنے آئے، یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ترقی کی راہ پر گامزن کرسکتا ہے۔