آبادیوں اور نجی سوسائٹیز کا سیوریج ڈیموں میں ڈالنے کا انکشاف

30

اسلام آباد (نمائندہ جسارت) اسلام آباد میں چند نجی ہاؤسنگ سوسائیٹیوں اور دیگر بستیوں کی جانب سے اپنا سالڈ ویسٹ اور سیوریج اسلام آباد اور قریبی شہروں میں بنے چھوٹے ڈیموں میں ٹھکانے لگا نے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے زیر زمین پانی آلودہ ہونے کے علاوہ ہیپاٹائٹس اور معدے کی بیماریوں کے پھیلاؤ سمیت سنگین مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ اسلام آباد کیپیٹل ٹیرٹری (آئی سی ٹی) انتظامیہ، ایس ڈی او اور سی ڈی اے نے عیدالفطر کے بعد نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز کے خلاف مشترکہ آپریشن کا منصوبہ بنایا ہے جو چھوٹے ڈیموں میں کچرے اور سیوریج کو ضائع کرنے میں ملوث ہیں۔ مقامی لوگوں کی پینے کے پانی اور زراعت کی ضروریات کو پورا کرنے کے مقصد سے اسلام آباد اور اطراف کے شہروں میں متعدد چھوٹے ڈیم تعمیر کیے گئے تھے جو حکومت پنجاب کے اسمال ڈیمز آرگنائزیشن (ایس ڈی او) کے زیر اثر ہیں۔ دریں اثنا ایس ڈی او نے اسلام آباد کے متعلقہ حکام کو ڈھوک سینڈے ڈی 17 میں واقع سنڈے مار ڈیم کے بارے میں خطوط لکھے، جس میں بتایا گیا کہ سائٹ پر دیکھا گیا ہے کہ ڈیم کے ذخائر کو ڈیڈ اسٹوریج سطح کے قریب بلاک کردیا گیا ہے اور رہائشی سیکٹرز کی ترقی جاری ہے جس میں ان سیکٹرز کا نکاسی آب کا نظام مختلف قدرتی کریکس میں گرانے کیلیے تیار کیا گیا ہے جو اس ڈیم کے تالاب کی جانب جاتی ہیں۔خط میں کہا گیا کہ فی الحال کابینہ ڈویژن ایمپلائز کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور ان کے سیوریج کا تقریباً 0.5 سے 2 کیوسک تک قدرتی کریکس اور آخر کار ڈھوک سنڈے مار ڈیم کے تالاب میں ٹھکانے لگ رہا ہے جس سے ذخیرہ شدہ پانی میں بدبو اور آلودگی پھیل رہی ہے۔ ایس ڈی او کے ایگزیکٹو انجینئر نے سی ڈی اے سے درخواست کی تھی کہ نکاسی آب کے مناسب انتظام کے بعد ہی اس کو ضائع کیا جائے۔ ‘اب اس معاملے کو اعلیٰ سطح پر اٹھانے کی ضرورت ہے تاکہ آبپاشی اور کسی حد تک پینے کیلیے بھی استعمال ہونے والے پانی کے آلودگی کے معاملے کو حل کیا جاسکے۔