افغان اور ایران بارڈرپر پیدل چلنے والوں کیلیے نئی پالیسی جاری

30

اسلام آباد(آن لائن)وزارت داخلہ نے ملک میں کورونا وائرس کے پھیلائو میں اضافے، صحت کے نظام پر شدید دبائو اور پاکستان میں وائرس کی کسی نئی قسم کی درآمد کو روکنے کے پیش نظر افغانستان اور ایران کے ساتھ نظر ثانی شدہ لینڈ بارڈر مینجمنٹ پالیسی کااجراء کردیا ہے ،پالیسی پیدل نقل وحرکت کو ریگولیٹ کرنے کو یقینی بنانے کا جائزہ لیتے ہوئے تیار کی گئی ہے اور اس میں پاک افغان اور پاک ایران سرحد پر بارڈر ٹرمینلز پر کوویڈ پروٹوکولز کی موثر انداز میں مینجمنٹ کو یقینی بنایا جائے گا۔یہ پالیسی 2 مئی کو این سی او سی کی جانب سے لکھے گئے لیٹر کی روشنی میں تیار کی گئی۔ وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پالیسی کے اہم نکات کے تحت 5 تا20 مئی نظر ثانی شدہ لینڈ بارڈر مینجمنٹ پالیسی پر عملدرآمد ہوگا اوراس کا اطلاق پیدل چل کر آنے والے مسافروں پر ہوگا، اس میں موجودہ کارگو /تجارتی نقل وحمل شامل نہیں ہیں، بارڈر ٹرمینلز ہفتے میں 7 روز کے لیے کھلیں رہیں گے ، ٹرمینلز پر ہیلتھ عملے کی تعیناتی پر اضافہ کیاجائے گا تاکہ ٹیسٹنگ پروٹوکول پر عملدرآمد اور ٹریفک کی زیادتی کو کنٹرول کیا جاسکے ،لینڈ بارڈر مینجمنٹ پالیسی کا دوبارہ سے جائزہ 18 مئی کو این سی او سی کے اجلاس میں کیا جائے گا۔پیدل چلنے والے مسافروں کی نقل وحرکت میں5 مئی سے کمی لائی جائے گی،اس میں افغانستان اور ایران میں مقیم پاکستانیوں کو استثنا حاصل ہوگا جووطن واپس آنے کے خواہاں ہیں ، ہنگامی طبی کیسزاور افغان باشندوں کے جنازوں کی واپسی کی اجازت ہوگی اس کے لیے طے کردہ طریقہ کار کے مطابق اجازت لینا ہوگی، سرحد پار جانے کے لیے پیدل نقل وحرکت کی اجازت ہوگی۔ نوٹیفکیشن کے مطابق وطن واپس آنے والے مسافروں کو فوری ٹیسٹ کرانا ہوگا، مثبت کیسز کی صورت میں صرف پاکستانی باشندوں کو قریبی کورنٹائن سینٹر میں ر کھا جائے گا۔