شاہنواز فاروقی کا شعری مجموعہ ’’طواف عشق‘ ‘شائع ہو گیا

60

کراچی (اسٹاف رپورٹر) روزنامہ جسارت کے چیف ایڈیٹر، دانشور اور شاعر شاہنواز فاروقی کا شعری مجموعہ ’’طواف عشق‘‘ شائع ہو گیا ہے۔ اس کتاب کی طابع و
ناشر گیلانی پبلیکیشنز ہے۔ 272 صفحات پر مشتمل کتاب اپنے مواد کی طرح نہایت عمدہ ہے۔ کتاب میں حمد، نعت اور دعا کو جدت کے پیرایہ میں پیش کیا گیا ہے اور خوب پیش کیا گیا ہے۔ ان کو دعا، یاد اور شہادت کا نام دیا گیا ہے۔ شہادت کے عنوان سے حضرت حسینؓ کا ذکر ہے۔ ابتدا میں اس کتاب کا انتخاب نہایت اہمیت کا حاصل ہے شاہنواز فاروقی کی زندگی پر ان کے بیٹے محمد عمر فاروقی کا گہرا اثر ہے انہوں نے اس کتاب کا انتساب عمر فاروقی کے نام کیا ہے اور اس پر شعر بھی نہایت عمدہ ہے۔
کوئی لگتا ہی نہیں دل کو تمہارے جیسا
تم نہ ہوتے تو یہ جینا تھا خسارے جیسا
مسکراہٹ تری لگتی ہے سحر کے جیسی
ترا آنسو مجھے لگتا ہے ستارے جیسا
کتاب عشق میں شاہنواز فاروقی نے غزلیں اور نظمیں شامل کی ہیں۔ زندگی کے تقریباً ہر پہلو کا احاطہ کیا ہے۔ شاہنواز فاروقی کے اشعار پر احمد جاوید نے بجا تبصرہ کیا ہے اور کہا ہے کہ شاعری سے معانی کے رخصت ہو جانے کا ایک خیال ذہن پر سواز تھا لیکن شاہنواز کی شاعری پڑھ کر یہ مایوسی ختم ہوئی۔ احمد جاوید نے یہ تبصرہ بھی کیا ہے کہ ایک ہی نکتے کو احساس اور تخیل کا فعال مرکز بنا دینا عام شعرا کے بس کی بات نہیں اور یہ وصف شاہنواز فاروقی کے لیے تکلف کا عمل یا شعرگوئی کی ضرورت نہیں بلکہ ان کی شاعری میں لازمے کے طور پر ہے۔ شاہنواز کی شاعری میں میر اور اقبال کا سانچہ بھی نظر آتا اور اس کے بارے میں بھی احمد جاوید کا کہنا ہے کہ میر کی کیفیت کو اقبال کے معنی پر منتج کرنا ایک بڑا کام ہے۔ جدید دور کے دانشور وں اور حالات حاضرہ پر بھی خوب تبصرہ ہے، شاہنواز کے کلام سے ہی اقتباس ہے۔
جب سے جنگل ہو گیا بستی نما
بھیڑیے پڑھنے لگے ہیں فلسفہ
اور مزید کہا کہ
سب نے پھر دانش وری مانی مری
گفتگو کو میں جب الجھا دیا
آندھیوں پر تبصرہ کرتا ہوں میں
ریت کی دیوار پر بیٹھا ہوا
شعر و شاعری سے دلچسپی رکھنے والوں کے علاوہ دلچسپی نہ رکھنے والوں کو بھی یہ کتاب پڑھنی چاہیے۔