کورونا سے ریکارڈ 157 اموات ،فوج سڑکوں پر آگئی

154

اسلام آباد/کراچی/لاہور(نمائندہ جسارت/ اسٹاف رپورٹر/خبر ایجنسیاں ) ملک میں کورونا کی تیسری لہر نے تباہی مچا دی ہے، 24گھٹنے میں ریکارڈ157اموات اور 5ہزار908نئے مثبت کیسز رپورٹ ہوئے ہیں، حکومت کی جانب سے حالات بدستور رہنے پر مکمل لاک ڈائون کا عندیہ دیا ہے،بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر ہفتے میں 2روز کے لیے پابندی عاید کردی گئی ہے ،آکسیجن فراہم کرنے والی کمپنیوں نے خبردار کیا ہے کہ آکسیجن کی صنعتی شعبے کو فراہمی نہ روکی گئی تو اسپتال میں سپلائی متاثر ہوسکتی ہے ،ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کرانے کے لیے فوج سڑکوں پر آگئی ہے ۔ تفصیلا ت کے مطابق ملک میں کورونا کے نتیجے میں مزید 157 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ مزید 5ہزار 908 افراد میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔جس کے بعد ملک بھر میں کورونا سے اموات کی تعداد 17ہزار سے تجاوز کر گئی ہے ۔نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران ملک بھر میں 52 ہزار 402 ٹیسٹ کیے گئے جس میں سے 5908 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی جب کہ کورونا مثبت کیسز کی شرح 11.27 فیصد رہی۔ کورونا کی تیسری لہر سے بچے زیادہ متاثر ہورہے ہیں ، گزستہ 24گھنٹے کے دوران 2بچے جان کی بازی ہار گئے ہیں۔مجموعی طور پر ایک سے 10سال کی عمر کے 47بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرصدارت ہفتے کو این سی اوسی کا اجلاس ہوا۔اجلاس میں کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال اور این اوپیز پر عملدرآمد کے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ این سی اوسی کے اعلامیے میں بتایا گیا کہ سائینو فورم کی 5 لاکھ ڈوزز پاکستان پہنچ رہی ہیں ۔کورونا کے پھیلاؤ والے شہروں میں لاک ڈاؤن کی تجاویز پرغور کیا گیا۔کورونا کیسز کے زیادہ شرح والے شہروں میں حالات بدستور برقرار رہے اور ایس اوپیز پر عملدرآمد نہ کیا گیا تو لاک ڈاوَن لگایا جاسکتا ہے۔لاک ڈاون کا فیصلہ تمام فریقین سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور تعلیمی ادارے مکمل بند کردیے جائیں گے۔ایس اوپیز پر عملدرآمد کروانے کے لیے صوبائی حکومتوں کی درخواست پر فوج ، ایف سی اور رینجرز کے ذریعے مدد فراہم ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ بین الصوبائی ٹرانسپورٹ پر17 مئی تک پابندی عاید کردی گئی ہے۔ ٹرانسپورٹ17مئی تک ہفتے میں 2 دن ہفتہ اوراتوار کو بند ہوگی۔ اجلاس میں آکسیجن کی سپلائی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ آکسیجن سپلائی کی بھی سخت مانیٹرنگ کی جارہی ہے۔گورنر ہائوس کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری کا کہنا ہے اگر ایک ہفتے میں کورونا کے معاملات صحیح نا ہوئے تو مکمل لاک ڈاؤن کا سوچنا پڑے گا۔ بھارت میں کورونا نے تباہی مچائی ہوئی ہے، وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے بھارتی عوام کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔پاکستان میں آکسیجن 90 فیصد زیر استعمال ہے، آکسیجن منگوا بھی لیں تب بھی سسٹم میں زیادہ سپلائی نہیں ہو سکتی۔کورونا سے اموات میں بہت اضافہ ہو رہا ہے۔ایس او پیز پر21 فیصد آباد ی عمل کر رہی تھی،79 فیصد آبادی ایس او پیز پر عمل نہیں کررہی ۔مریم نواز نے کراچی کا دورہ ملتوی کیا جو اچھی پیشرفت ہے۔ تراویح اور عید کے اجتماعات کو ایس او پیز میں رکھنا اہم ہو گا، اس معاملے میں علما ہماری قیادت اور رہنمائی کریں۔دوسری جانب راولپنڈی اور اسلام آباد انتظامیہ نے فوج کیساتھ کورونا ایس اوپیز پر عملدرآمد کے لیے مختلف علاقوں کا دورہ کیا ۔مختلف تجارتی علاقوں کا دورہ کیا جب کہ اس دوران شہر میں ایس ا وپیز کی خلاف ورزی پر دکان سیل و جرمانہ بھی کیا گیا۔اسلام آباد میں بین الاضلاعی پبلک ٹرانسپورٹ بند کرنے کے احکامات پرعملدرآمدکا بھی آغاز کردیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پنجاب حکومت نے بھی پاک فوج کی خدمات مانگ لی ہیں۔ محکمہ داخلہ کی جانب سے فوج کی 5کمپنیوں کی خدمات مانگی ہیں جو ضلعی انتظامیہ کیساتھ ملکر ایس او پیز پر عملدرآمد کرائیں گی۔ادھرآکسیجن بنانے والی کمپنیوں نے حکومت پاکستان کو خبردارکرتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتوں کو اگر آکسیجن سلنڈرز کی فراہمی نہ روکی گئی تو اسپتالوں میں آکسیجن کی شدید کمی واقع ہوسکتی ہے۔آکسیجن بنانے والے اداروں نے یہ خطرہ بھی ظاہر کیا ہے کہ اگر اسپتالوں کو مسلسل آکسیجن کی فراہمی نہ ہوئی تو بھارت جیسی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔ آکسیجن بنانے والی کمپنیوں کا کہنا ہے کہ وہ عام حالات میں ایک مہینے کا اسٹاک رکھتے ہیں۔کمپنیوں کا کہنا ہے کہ کورونا کی خطرناک صورتحال میں انہیں روزانہ کی بنیاد پر اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرنا پڑ رہی ہے، پاکستان آکسیجن لمیٹڈ کے مطابق ملک میں 5 کمپنیاں ہیں جو اسپتالوں کو آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔موجودہ حالات میں وہ اپنی 100 فیصد پیداوار دے رہی ہیں حکام کا کہنا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کورونا کیسز بڑھے تو آکسیجن بنانے والی کمپنیوں پر دباو بڑھ جائے گا۔