ڈنمارک : تمام شامی مہاجرین کی ملک بدری کا حکم

75

کوپن ہیگن (انٹرنیشنل ڈیسک) ڈنمارک کی حکومت ملک کو پناہ کے متلاشیوں سے پاک کرنے کے ہدف کی جانب گامزن ہے۔ مغربی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسی کے تحت ڈینش حکومت نے تمام شامی مہاجرین کو واپس شام بھیجنے کا حکم دے دیا ہے۔ ابو ظاہر نے ڈنمارک کے شہر نیبرگ سے ابھی حال ہی میں ہائی اسکول کی تعلیم مکمل کی اور وہ جون میں اپنے دوستوں کے ساتھ اس کی خوشی منانے کی تیاریاں کر رہا تھا کہ اسے حکام کی جانب سے ایک ای میل موصول ہوئی، جس سے اس کے سارے خواب چکنا چور ہو کر رہ گئے۔ ای میل اس شامی طالبعلم اور اس کے والدین کو لکھی گئی، جس میں یہ درج تھا کہ ان سب کا رہایشی اجازت نامے کی مزید توسیع نہیں کی جائے گی۔ 20 سالہ ابو ظاہر کا کہنا ہے کہ میں بہت افسردہ تھا، میں خود کو غیر ملکی محسوس کرنے لگا۔ مجھے ایسا لگا کہ ڈنمارک میں مجھ سے ہر چیز چھین لی گئی۔ میں بس بیٹھ کر روتا رہا۔ میں سو بھی نہیں سکتا تھا۔ میرے ایک دوست نے اپنی گاڑی سے مجھے میری فیملی کے پاس پہنچایا۔ دمشق کے بہت سے شامی مہاجرین کو ایسی ہی میل موصول ہوئی۔ جب ڈنمارک حکام نے گزشتہ موسم گرما میں شامی دارالحکومت کو محفوظ شہروں کی فہرست شامل کیا تھا، تب سے ڈنمارک میں سیکڑوں شامی باشندوں کے رہایشی اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے ہیں اور یا ان کی توسیع نہیں کی گئی۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں جیسے کہ ڈینش مہاجرین کونسل اور ایمنسٹی انٹر نیشنل کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی بائیں بازو کی جماعتوں کی طرف سے بھی ڈینش حکام کے اس رویے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔