پانچواں سبق: اخلاص

152

مرتب: عتیق الرحمن
مطالعہ قرآن: ’’بے شک ہم نے یہ کتاب تمہاری طرف قول فیصل کے ساتھ اتاری ہے تو تم اللہ کی بندگی کرو دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے‘‘۔ (الزمر:2-3) آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے لیے دین کو خالص کرکے اس کی بندگی تم کو کرنی چاہیے کیونکہ خالص اور بے آمیز اطاعت و بندگی اللہ کا حق ہے دوسرے الفاظ میں بندگی کا مستحق کوئی دوسرا ہے ہی نہیں کہ اللہ کے ساتھ اس کی بھی پرستش اور اس کے احکام و قوانین کی اطاعت کی جائے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرتا ہے تو غلط کرتا ہے اور اسی طرح وہ اللہ کی بندگی کے ساتھ بندگی غیر کی آمیزش کرتا ہے تو یہ بھی حق کے سراسر خلاف ہے۔ اخلاص کے معنی پاک، صاف اور خالص ہونے کے ہیں۔ اخلاص کے معنی میں چند اقوال ہیں۔ (الف) عمل خالص اللہ کے لیے ہو اس میں غیر اللہ کا کوئی حصہ نہ ہو۔ (ب) اطاعت وبندگی میں تنہا اللہ کی ذات مخصوص ہو۔ (ج) مخلوق کے دکھاوے یا ریاکاری سے صاف ہو۔ (د) ہرقسم کے ملاوٹ و شوائب سے عمل کو پاک کرنے کا نام اخلاص ہے۔ اخلاص دراصل دین کا لب لباب اور نچوڑ ہے بلکہ دین کی اساس و بنیاد اور انبیاکرام کی دعوت و تبلیغ کی جڑ اخلاص ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: اور ہم حکم دیتے ہیں کہ اللہ کی عبادت کرو دین کو اسی کے لیے خالص کرتے ہوئے یکسو ہو کر۔ اخلاص عبادات کی روح اور اس کا مغز ہے یعنی اخلاص کے بغیر عبودیت و بندگی بے جان جسم کے مانند ہے۔ وہ جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔ (القرآن)
فضیل بن عیاض اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ احسن عمل سے مراد وہ عمل جس میں صواب و اخلاص دونوں بدرجہ اتم موجود ہوں۔ مطلب یہ کہ اگر کوئی عمل خالص تو ہو، ملاوٹ سے پاک تو ہو، مگر سنت کے مطابق نہ ہو تو وہ بھی قابل قبول نہیں اور جو عمل سنت کے مطابق انجام دیا گیا مگر اخلاص سے خالی ہو تو بھی اللہ تعالیٰ کے ہاں قابل قبول نہیں۔ مخلصین کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا ہے۔ ’’اور جو کہتے ہیں ہم تو صرف اللہ کی رضا کی خاطر تمہیں کھلاتے ہیں نہ تم سے کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ‘‘ (الدھر 9)۔ آخرت میں نجات کے اسباب میں سے ایک سبب اخلاص ہے۔ اخلاص قیامت کے روز درد ناک عذاب سے نجات کا ذریعہ ہے۔
مطالعہ حدیث: نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا ’’اگر کوئی بندہ اللہ کے لیے خلوصِ نیت سے سجدہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک درجہ بلند فرمادیتا ہے اور ایک گناہ معاف فرما دیتا ہے‘‘۔ (مسلم ۸۸۴)
سیدنا معاذؓ کو جب یمن کی طرف بھیجا گیا تو انہوں نے بارگاہِ رسالتؐ میںعرض کیا، یارسول اللہؐ! مجھے نصیحت فرمائیے۔ آپؐ نے فرمایا: دین میں اخلاص پیدا کر۔ تجھے تھوڑا عمل کافی ہوگا۔ (حاکم)
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ ایک شخص نبی اکرم ؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض گزار ہوا کہ اگر کوئی شخص لالچ اور طمع کی خاطر یا نام آوری کے لیے جہاد کرے تو اسے کیا ملے گا؟ نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: اسے کوئی ثواب نہیں ملے گا۔ بعد ازاں اس شخص نے یہی سوال تین دفعہ کیا اور نبی اکرمؐ نے یہی جواب عنایت فرمایا کہ اسے کچھ ثواب نہیں ملے گا، بعد ازاں نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ صرف وہی عمل قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لیے ہو اور اسے کرنے سے محض اللہ تعالیٰ کی رضامندی مقصود ہو۔ (سنن نسائی)
سیرت صحابہ: ایک دیہاتی شخص نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ایمان لے آیا اور آپؐ کی پیروی شروع کردی پھر اس نے آپؐ کے ساتھ ہجرت کی خواہش کی تو آپؐ نے اس کو چند صحابہ کے حوالے کردیا جب غزو ہ خیبر پیش آیا اور اس غزوے میں کچھ قیدی اور مال غنیمت ہاتھ آیا تو آپؐ نے تقسیم کرتے وقت اس دیہاتی کا بھی حصہ مقرر کیا اور اس کا حصہ صحابہ کے حوالے کردیا کیونکہ وہ بکریاں چرانے گیا ہوا تھا جب وہ واپس آیا تو صحابہ کرام نے اس کا حصہ اس کے حوالے کردیا تو اس دیہاتی نے کہا یہ کیا ہے؟ صحابہ نے بتلایا کہ یہ تمہارا حصہ ہے جو نبیؐ نے مال غنیمت میں سے تمہیں عطا کیا ہے اس نے اسے قبول کیا اور لے کر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور کہا یہ کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا یہ مال غنیمت میں تمہارا حصہ ہے جو میں نے تمہیں دیا ہے وہ بدو کہنے لگا: میں نے اس مال و زر کے لیے آپ کا اتباع نہیں کیا بلکہ میں نے تو اس لیے آپ کی پیروی اختیار کی ہے کہ مجھے یہاں تیر لگے (اور اس نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا) اور اس تیر سے میری موت واقع ہوجائے اور مجھے جنت میں داخلے کا پروانہ مل جائے۔ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ ’’اگر تم نے صدق دل سے یہ بات کہی ہے تو اللہ تعالیٰ تمہاری نیت پوری کرکے رہے گا‘‘۔ اس گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد لوگ جنگ کے لیے کھڑے ہوکر میدان میں اتر آئے۔ میدان جنگ سے اس بدو کو نبی کریمؐ کی خدمت میں اس حال میں لایا گیا کہ اس کو ٹھیک اسی جگہ تیر لگا ہوا تھا جہاں لگنے کے لیے اس بدو نے آرزو کی تھی۔ نبی کریمؐ نے بطور تاکید فرمایا کہ کیا یہ وہی بدو ہے؟ صحابہ کرام نے جواب دیا ’’جی ہاں وہی بدو ہے‘‘ تو آپؐ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ساتھ اپنے وعدے کو پورا کر دکھایا۔ پھر نبی کریمؐ نے اس کی تجہیز و تکفین کی اس کی نماز جنازہ ادا کی اور یہ دعا کی؛ اے اللہ یہ تیرا بندہ تیرے راستہ میں ہجرت کرکے آیا تھا اور میدان کار زار میں اس نے جام شہادت نوش کیا ہے اور میں اس کے لیے گواہ ہوں۔ اس واقعے سے اندازہ لگائیں کہ اخلاص نیت سے جو بھی دعا کی جائے اللہ تعالیٰ اسے قبولیت عطافرماتے ہیں۔