تعلیم کی بے تو قیری

186

گزشتہ دنوں اخبار کے صفحات پلٹ رہا تھا کہ ایک خبر پر جا کر نظر رک گئی خبر کچھ یوں تھی کے ایم اے پاس شخص کو نائب قاصد کی نوکری دینے کے لیے عدالت کا حکم، غلام حسین نامی فرد نے محکمہ تعلیم میں نائب قاصد کی ملازمت کے لیے درخواست دی ہوگی لیکن جب اسے محکمہ تعلیم میں نوکری نہ ملی تو اس نے عدالت سے رجوع کیا عدالت نے متاثرہ فرد کی درخواست پر سماعت کرتے وقت جب محکمہ تعلیم کو حکم دیا کہ مذکورہ فرد کو ملازمت دی جائے تو ڈائریکٹر تعلیمات شہمیر بھٹو نے کہا کہ نائب قاصد کے لیے درخواست دینے والے کی تعلیمی قابلیت مڈل ہونا چاہیے اور متاثرہ فرد تو ایم اے جرنلزم ہے اس طرح ایک مڈل پاس فرد کا حق مارا جائے گا۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جن لوگوں نے ایم اے پاس کر لیا ہے وہ کدھر جائیں اور ساتھ ہی کہا کہ ایم اے کرنے والے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ غریب اتنا مایوس ہے کہ نائب قاصد ہی لگا دو بس بچوں کے لیے روٹی گھر لے جائے اس ضمن میں ڈائریکٹر تعلیمات شہمیر بھٹو صاحب نے ارشاد کیا غلام حسین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے یہ نائب قاصد کا کام نہیں کر پائے گا۔ عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیے یہ کوئی طریقہ کار نہیں عدالت نے غلام حسین کو محکمہ تعلیم میں نائب قاصد کی ملازمت دینے کا حکم دے دیا۔
یہ خبر اپنے اندر خود ایک بہت بڑی خبر ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سارا کا سارا نظام ہی چوپٹ ہوچکا ہے اور یہ شاید ہماری معاشرتی بے حسی کی بہترین تصویر بھی ہے کہ ہمارے ہاں لوگ دن رات ایک کرکے محنت سے تعلیم حاصل کرتے ہیں تاکہ ان کا مستقبل سنور جائے لیکن جب وہ ملازمتوں کہ حصول کے لیے کوشش کرتے ہیں تو انہیں پتا چلتا ہے کہ یہاں صرف ملازمتوں پر ان کا حق ہے جو یا تو کسی سیاسی جماعت کے حاشیہ بردار ہیں یا کسی سیاسی لیڈر سے کوئی تعلق داری رکھتے ہیں یا جن کے والدین میں کوئی کار سرکار انجام دیتے رہے ہیں۔ سرکاری ملازمت پر انہی کا حق ہے چاہے ان کی تعلیمی قابلیت ہو یا نہ ہو انہیں کہیں نہ کہیں کھپا دیا جاتا ہے اب جن کہ پاس کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں وہ ملازمتوں کے لیے دھکے ہی کھاتے دکھائی دیتے ہیں جب کہ اس کہ برعکس ہمارے حکمران اس بات کو نظر انداز کر دیتے ہیں کہ جس کو وزارت اور مشیر کا عہدہ دیا جا رہا ہے اس کی تعلیمی صلاحیت اور قابلیت کیا ہے؟ کیا وہ وزارت کا انتظام اس کی ضرورتوں کے مطابق چلا بھی سکے گا یا نہیں؟
آج ہماری مو جودہ پس ماندگی کی بڑی وجہ بھی یہی ہے کہ اہل افراد ملازمتوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھر رہے ہیں اور ملکی نظام نا اہلوں کہ ہاتھوں یرغمال بنا ہوا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کیا مذکورہ فرد کی اسناد جعلی ہیں اگر نہیں تو پھر کسی اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کے بارے میں اس قسم کی رائے کیوں ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد تو ہر کام کرنے کی صلاحیت کا حامل ہوتا ہے اور اس کے علاوہ باعث شرم یہ بات کہ جب ڈا ئریکٹر صاحب کو اس بات کا علم تھا کہ مذکورہ درخواست دہندہ ایم اے جرنلزم ہے تو پھر اس کی تعلیمی لیاقت کے مطابق اس فرد کو ملازمت دینا اخلاقی ذمے داری ہے اور ہر اعلیٰ تعلیم یافتہ فرد کا انسانی حق ہے کہ اس کو اعلیٰ سرکاری ملازمت میں حصہ دیا جائے۔ ایسا لگتا ہے مملکت پاکستان کچھ مخصوص طبقات کی جاگیر ہے کہ یہاں انھی کے افراد کو ملازمتوں میں بھی حصہ ملتا ہے، ان کے لیے ہر قسم کی پابندیاں بھی نرم کردی جاتی ہیں اس مملکت میں بے شمار اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد ملازمتوں کے حصول کے لیے مارے مارے پھررہے ہیں لیکن حال یہ ہے اپنے نواز دیے جاتے ہیں اور باقی محروم رہ جاتے ہیں یہ غلام حسین تو ایک فرد تھا جس نے نظام کی خرابیوں کو اجاگر کرنے کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا دیا ورنہ ہمارے ہاں تو حال یہ ہے کہ جعلی اسناد کے سہارے نجانے کتنے کار سرکار انجام دے رہے ہیں اور محنت اور مشقت کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے والے دربدر ہیں اس کے علاوہ اس استیصالی نظام کی ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ملازمتوں کہ اشتہار اٹھا کر پڑھیں تو پتا چلتا ہے کہ تمام ہی اشتہارات میں دس دس اور پندرہ پندرہ سال کا تجربہ درکار ہوتا ہے۔ ہمارے اعلیٰ دماغ شاید سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ہیں ایک طرف تواصلاحات کا بھاشن دیتے دکھائی دیتے ہیں اور دوسری طرف اسی پرانے اور گھسے پٹے نظام میں ترقی کی راہیں تلاش کرتے دکھائی دیتے ہیں یہ ہماری بد عملی نہیں تو اور کیا ہے اگر بحیثیت قوم ہم تیز تر ترقی کے خواہاں ہیں تو ہمیں اداروں میں اعلیٰ تعلیم یافتہ اور نئے لوگ لانا ہوں گے سسٹم کو چلانے والے پرانے لو گ ناکام ہو چکے ہیں پالیسی سازوں کو سوچنا ہو گا کہ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام اداروں میں نئے افراد اعلیٰ سطح پر لائے جائیں
آخر کب تک ریٹائرڈ لوگوں سے کام چلا کر اس ملک کی ترقی کا پہیہ روکا جائے گا۔ایسے افراد سامنے کیوں نہیں لائے جارہے جو عوام کا دکھ درد سمجھنے کی اہلیت بھی رکھتے اور اداروں کو عوام کی طاقت سے عوام کے لیے خیر اور ترقی کا با عث بناتے آج حال یہ ہے کہ جس ادارے میں چلے جائیں تنزلی ہی تنزلی دکھائی دیتی ہے۔ کوئی پرسان حال نہیں ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ ہم انصاف کو ترس گئے ہیں ہمارے ہاں سستا اور فوری انصاف میسر نہیں، رشوت حق سمجھ کر لی جاتی ہے، کمیشن کا کام عام ہے یہ ہماری قومی بدقسمتی نہیں تو اور کیا ہے کہ ادارے ہیں ان میں افسران ہیں، ان کے ساتھ کام کرنے والوں کی فوج ظفر موج ہے لیکن کہیں بہتری نہیں جہاں چلے جائیں وہاں ایک ابتری دکھائی دیتی ہے، عوام کو پریشان کر کے مال بنانے کا موقع مل جائے سب پائے جاتے ہیں خدا خوفی اور آخرت میں جواب دہی کی سوچ مفقود ہو چکی ہے نیچے سے لے کر اوپر تک ہر فرد اپنے آپ کو مختار کل سمجھ بیٹھا ہے کسی کے دل میں ہمدردی نہیں کوئی عوامی مسائل سمجھنے اور حل کرنے کے لیے تیار نہیں عوام ہیں کہ در در کی ٹھو کریں کھانے پر مجبور ہیں۔ عوام میں بے چینی اپنی انتہا کو ہے حکمرانوں اور ان کے کا رندوں کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ عوام ایک حد تک مشکلات اور پریشانیاں برداشت کر سکتے ہیں اگر عوام کہ حقوق اسی طرح پامال ہو تے رہے اور اونچی کرسیوں پر بیٹھنے والوں نے عوامی مسائل کو سمجھ کر انہیں حل کرنے کی کوئی سبیل نہ نکالی بے روز گاری اور مہنگائی کے عفریت کو نکیل نہ ڈالی گئی اور معاشی نظام کو عوامی بھلائی کے مطابق تشکیل نہ دیا گیا، عوام کو ملازمتوں میں ان کا جائز حق نہ ملا تو مسائل میں ہونے والا اضافہ عوامی سوچوں میں انقلاب کی روح بیدار کر دے گا
باقی صفحہ7نمبر1
حکمرانوں کو وہ وقت آنے سے پہلے عوامی مسائل کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کے انتظامات کرنے ہوںگے یہ بھوک اور افلاس، غربت اور مہنگائی اور بے روزگاری ہی ہے جس نے عوام کو بہتر کل کی بنیاد پر انقلاب کے لیے ابھارا یہ انقلاب ہی تھا کہ تحریک انصاف کو اس مملکت کا اقتدار مل گیا اب کب تک عوام بہتر کل کا راستہ دیکھیں۔ عمران خان اور ان کے ساتھی قوم کو ایک بہتر مستقبل دینے کی نوید دے کر یہاں تک پہنچے ہیں اور اب تک وہ عوام کو ایک بہتر مستقبل دینے میں ناکام کیوں ہیں عوام کے ووٹوں سے منتخب ہو کر آنے والے عوام کو ان کا بہتر مستقبل دینے سے کیو ں فرار اختیار کررہے ہیں، عوام کل بھی سرخ فیتے کا شکار تھے اور آج بھی ہیں۔
افلاطون نے بھی درست کہا تھا کہ حکومت کرنا صاحبان علم ہی کا کام ہے وہ علم و حکمت کے سہارے بڑے بڑے مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں لیکن جب عوام فطرت کے تقاضوں سے روگردانی کریں گے تو پھر حکمران ایسے ہی ہوںگے کہ نہ جنہیں دین کا پتا نہ دنیا کا اور پھر وہ اپنے ایسے ہی مشیروں کا انتخاب کریں گے جو ان کی سوچ کے عین مطابق ہو ں یہ قوم کے لیے لمحہ فکر ہے اب یہ ذمے داری قوم پر آپڑی ہے کہ اپنے بہتر مستقبل کی تلاش میں ایک نئی سیاسی قیادت کا انتخاب کرے جو خوف خدا سے بھی مالا مال ہو اور جسے اس بات کی بھی فکر ہوکہ انہیں اپنے ہرعمل کے لیے صرف خالق کائنات کے حضور جواب دہ ہونا ہے اور جو دلوں کے بھید جانتا اور اس کی ہر اس عمل پر نظر ہے جو کھلے عام ہوں یا ہزاروں پردوں میں جب تک ہم ایسی قیادت تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوں گے فلاح ہم سے کوسوں دور ہوگی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔