سستا گھر ہاؤسنگ اسکیم

322

وزیراعظم سستا گھر ہاؤسنگ اسکیم کے تحت حضرو میں 600 سستے پلاٹ فراہم کیے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق 400 کنال پر مشتمل اسکیم میں 3 مرلے کے 400 پلاٹ بے گھر لوگوں کو دیے جائیں گے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ سستا گھر اسکیم میں بے گھر لوگوں کو 5 مرلے کے 200 پلاٹ بھی فراہم کیے جائیں گے۔ عرب نیوز کے مطابق حکومت پاکستان نے فنانسنگ اسکیم کی معاونت کے لیے کریڈٹ گارنٹی ٹرسٹ قائم کر دیا ہے جس کا انتظام پی ایم آر سی کے پاس ہوگا۔ مرکزی بینک کمپنی کی معاونت کرے گا جب کہ عالمی بینک فنڈز فراہم کرے گا۔ مرکزی بینک کے ڈپٹی گورنر جمیل احمد نے پیر کو کراچی میں معاہدے پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب میں کہا کہ اسٹیٹ بینک نے وزارت خزانہ اور عالمی بینک کے ساتھ مل کر پی ایم آر سی کی شکل میں سرمائے کی فراہمی کا منصوبہ شروع کیا ہے تاکہ مورگیج کے ذریعے سرمایہ فراہم کرنے والے بنیادی اداروں کو سرمایہ فراہم کیا جا سکے جس سے وہ اثاثوں اور ذمے داری کے میچورٹی پروفائل کی مطابقت کا انتظام بخوبی کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ ان کا کہنا تھا اس قدم سے ہائبرڈ مورگیج ماڈلز کی تیاری اور پاکستان میں سرمائے کی مارکیٹوں کے قیام میں بھی مدد ملے گی۔ قرضے گارنٹی کے معاہدے پر دستخط کرنے والے بینکوں میں فیصل بینک، میزان بینک، بینک اسلامی، حبیب بینک، جے ایس بینک اور سونیری بینک شامل ہیں۔
مذکورہ اسکیم بادی النظری میں بہت پْرکشش دکھائی دیتی ہے لیکن کیا یہ اسکیم واقعی ایسے غریبوں کے لیے جو حقیقتاً گھر کی چھتوں سے محروم ہیں۔ یہ ہے وہ بنیادی سوال جس کا جواب کم از کم کوئی ذی شعور بصد مشکل ہی دے سکے تو دے سکے۔
مہنگائی اور بے روز گاری کے اس دور میں اس اسکیم کو ’’سستا‘‘ تو مانا جا سکتا ہے لیکن یہ بھی صرف ان گھرانوں کے لیے ’’سستا‘‘ اسکیم کہی جا سکتی ہے جن کی پہنچ میں ایسا کرنا ممکن ہو۔
یہ گھر ’’حقیقی‘‘ بے گھروں کے لیے نہیں البتہ ایسے گھرانوں کے لیے ضرور ہیں جو ان معنوں میں بے چھت ہیں جو یک مشت کوئی گھر خرید لینے کی حیثیت میں نہیں البتہ قرض لیکر اپنے گھر کے مالک ضرور بن سکتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوگا کہ قرض دینے والے بینک کیا کسی گھر کے ایسے سربراہ کو قرض دینے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں جس کی حیثیت قرض ادا کرنے کی نہ ہو۔ بینک کبھی کسی ایسے فرد کو گھر بنانے یا بنے بنائے گھر کے لیے قرضہ دینے کے لیے تیار ہو ہی نہیں سکتا جو بینک کی قسطیں ادا کرنے کے بعد اپنے گھر کے دیگر اخراجات پورے ہی نہ کر سکتا ہو۔
سستے سے سستا گھر بھی فی زمانہ زمین سمیت 50 سے 60 لاکھ روپے سے کم تعمیر نہیں کیا جا سکتا۔ فرض کر لیا جائے کہ سب سے چھوٹے گھر کے لیے کوئی بینک 20 لاکھ تک قرض دینے کے لیے تیار ہوبھی جائے تو باقی 40 لاکھ روپے زمین کی قیمت، دیگر ترقیاتی اخراجات اور کاغذات کی تیاری کے لیے تو بہر صورت اس فرد کو لازماً فراہم کرنا ہوں گے۔ کیا 40 لاکھ رقم حقیقی معنوں میں کسی ’’بے چھت‘‘ والے کے پاس ہو سکتی ہے۔ اگر یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ ایسا ممکن ہے، تب بھی کیا 20 لاکھ روپے کا بینک لون کم رقم ہے۔ اگر یہ لون 10 سال کے لیے بالکل بلا سود بھی مان لیا جائے تب بھی اس کی 120 قسطیں بنتی ہیں۔ اس حساب سے ہر ماہ 16700 روپے گھر لینے والے کو ادا کرنے ہوںگے۔ یاد رہے کہ قرض کی یہ رقم بلا سود نہیں البتہ سود میں نرمی ضرور کی گئی ہے اس لیے محتاط اندازے کے مطابق ہر ماہ کی قسط 20 ہزار سے زیادہ ہی کی بنے گی۔ پہلے مرحلہ پر کسی بھی حقیقی بے گھر کے پاس 40 لاکھ کا ہونا ہی ناممکن ہے اور اگر ممکن سمجھ بھی لیا جائے تب بھی ہر ماہ 20 ہزار سے زائد کی ادائیگی کے لیے بینک کو اس بات کا یقین دلانا ہوگا کہ وہ اپنے گھر میں ہر ماہ کم از کم 1 لاکھ روپے لے کر آتا ہے۔ کیا ایسا فرد ’’بے چھت‘‘ کہلائے جانے کا مستحق ہو سکتا ہے۔
تھوڑی دیر کے لیے یہ بھی فرض کر لیا جائے کہ حکومت کسی بھی بے گھر فرد کو پورا گھر، جس کی کم از کم مالیت 60 لاکھ بنتی ہو، بنا کچھ ایڈوانس رقم لیے دے کر اس کی 120 قسطیں کرائے کی مد د میں لینے کا اعلان کرتی ہے تو ہر ماہ کی قسط بشمول آسان سود، کم از کم 55 ہزار کی بنتی ہے۔ اس سر سری جائزے کے بعد ہر فرد بآسانی اس بات کا جائزہ لے سکتا ہے کہ ’’سستا گھر اسکیم‘‘ بے شک کتنی ہی خوش کن سہی لیکن یہ کہنا کہ اس اسکیم کا تعلق حقیقی بے چھت والے کے لیے ہے، کسی طور درست نہیں ہو سکتا۔
پاکستان بھر میں نجانے کتنی وسیع و عریض زمینیں حکومت کی اپنی تحویل میں ہیں۔ ایک ایسی حکومت جو واقعی مخلصانہ طور پر بے گھروں کو گھر جیسی سہولت دینا چاہے تو ایسا کرنا کوئی ایسا کام نہیں جس کو کیا نہ جا سکے۔ ہم پورے ملک کو چھوڑ کر صرف کراچی ہی کی مثال لے لیتے ہیں جہاں ہزاروں کی تعداد میں ایسے گھر موجود ہیں جو نہ صرف بلا اجازت بنے ہوئے ہیں بلکہ وہ سرکاری و نجی زمینوں پر قبضے کے بعد تعمیر کیے گئے ہیں۔ گویا اگر ایسے غریبوں کو جو قرضہ بھی نہ لے سکتے ہوں، باقائدہ پلاٹنگ کرکے زمینیں الاٹ کر دی جائیں تو وہ اپنی اپنی آمدنیوں میں سے، برسوں میں ہی سہی، تھوڑی تھوڑی بچت کرکے اپنے لیے چھتوں کا اہتمام کر سکتے ہیں۔ لہٰذا مخلصانہ مشورہ یہ ہے کسی غریب کو قرض اور سود جیسی لعنت میں ڈالنے کے بجائے، زمینیں الاٹ کر دی جائیں۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ حکومت کو کوئی پائی دھیلہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا اور حقیقی بے چھتوں کو چھت جیسی نعمت بھی مل جائے گی۔ امید کی جا سکتی ہے کہ حکومت بے گھروں کی آباد کاری کے لیے اس نقطے پر بھی ضرور غور کرے گی۔