جرمنی: کرایوں سے متعلق عدالتی فیصلے کیخلاف پُرتشدد احتجاج

141
برلن: کرایے محدود نہ کرنے کے عدالتی فیصلے کے خلاف احتجاج کرنے والوں اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں

برلن (انٹرنیشنل ڈیسک) جرمن دارالحکومت میں کرائے کے گھروں سے متعلق عدالتی فیصلے پر ہزاروں شہری سڑکوں پرنکل آئے۔ خبررساں اداروں کے مطابق کارلس روہے کی وفاقی عدالت نے برلن کی صوبائی حکومت کی جانب سے گھروں کے کرائے کی حد مقرر کرنے کے فیصلے کو منسوخ کردیا تھا۔ عدالت نے فیصلے میں کہا تھا کہ صوبائی حکومتوں کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کرائے محدود کرنے جیسے اقدامات کریں۔ اس فیصلے کے نتیجے میں برلن کے مختلف علاقوں کی سڑکوں پر شہری سراپا احتجاج بن گئے۔ کرائے کے گھر میں رہنے والے افراد کو خوف ہے کہ عدالتی فیصلے کے بعد مالک مکان کسی بھی وقت کرایہ بڑھاسکتے ہیں۔ برلن میں گزشتہ برس فروری میں اس حوالے سے جو قانون نافذ کیا گیا تھا، اس کے تحت تقریباً 90 فیصد عمارتوں کا کرایہ 5برس کے لیے طے کردیا گیا تھا۔ عدالت کی جانب سے مالکان کو کرایہ وصولی میں کھلی چھوٹ ملنے کے بعد ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین شہر کے مشرقی علاقے کریوز برگ کے نیو کولین میں ہرمن پلاٹز کے پاس جمع ہوئے اوروہاں سے کوٹ بوسیر ٹور کی جانب مارچ کیا۔ مقامی پولیس کے مطابق اس احتجاجی مارچ کے اختتام کے بعد بھی تقریباً 400 مظاہرین وہیں جمع رہے اور کے دوران پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے واقعات پیش آئے۔