دوسرا سبق: روزہ اور قرآن

181

مرتب: عتیق الرحمن
’’رمضان وہ مہینہ ہے، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے‘‘۔(البقرۃ-۴۸۱)
اس آیت میں یہ حقیقت واضح کی گئی ہے کہ یہی مبارک مہینہ ہے جس میں دنیا کی ہدایت کے لیے قرآن کے نزول کا آغاز ہوا- اس ہدایت کے متعلق فرمایا کہ یہ ہدایت بھی ہے اور اس میں ہدایت اور فرقان کی بینات بھی ہیں، یعنی یہ صراط مستقیم کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ عقل کی رہنمائی اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لیے وہ واضح اور قاطع حجتیںبھی اپنے اندر رکھتی ہے جو کبھی پرانی ہونیوالی نہیںہیں۔ اس عظیم نعمت کی شکر گزاری کا تقاضا یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اسی مہینے کو روزوںکے لیے خاص فرما دیا تاکہ بندے اس میں اپنے نفس کی خواہشات اور شیطان کی ترغیبات سے آزاد ہوکر اپنے رب سے زیادہ سے زیادہ قریب ہوسکیں اور اپنے قول و فعل، اپنے ظاہر و باطن اور اپنے روز و شب ہر چیز سے اس حقیقت کا اظہار و اعلان کریںکہ خدا اور اس کے حکم سے بڑی ان کے نزدیک اس دنیا کی کوئی چیز بھی نہیںہے۔خدا کی تمام نعمتوں میں سب سے بڑی نعمت عقل ہے اور عقل سے بھی بڑی نعمت قرآن ہے۔ اس لیے کہ عقل کو بھی حقیقی رہنمائی قرآن ہی سے حاصل ہوتی ہے۔ یہ نہ ہو تو عقل سائنس کی ساری دوربینیں اور خردبینیںلگا کر بھی اندھیرے ہی میںبھٹکتی رہتی ہے۔ اس وجہ سے جس مہینے میںدنیا کو یہ نعمت ملی وہ سزاوار تھا کہ وہ خدا کی تکبیر اور اس کی شکر گزاری کا خاص مہینہ ٹھیرا دیا جائے تاکہ اس نعمتِ عظمیٰ کی قدر و عظمت کا اعتراف ہمیشہ ہمیشہ ہوتا رہے۔ اس شکر گزاری اور تکبیر کیلیے اللہ تعالیٰ نے روزوںکی عبادت مقرر فرمائی۔
مطالعہ حدیث
٭قیامت کے دن قرآن ان لوگوںکو جو(دنیا میں) اس قرآن پر عمل کرتے تھے، (بارگاہِ الٰہی) میںپیش کیا جائے گا، سورہ البقرۃ اور آل عمران ان کے آگے آگے ہوںگی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے تین مثالیں بیان فرمائیں۔ آپ نے فرمایا- (وہ سورتیں اس طرح آئیں گی) کہ وہ دو بدلیاں یا سیاہ سائبان ہیں ان کے درمیان روشنی ہے یا وہ دونوں(ایسے آئیں گی) گویا کہ وہ پرپھیلائے دو پرندوںکے جھنڈ ہیں، وہ دونوںسورتیں (اس طرح آکر) اپنے (پڑھنے والے اور عمل کرنے) والے ساتھیوںکی طرف سے اللہ سے جھگڑیں گی (مسلم)
٭اس مومن کی مثال، جب وہ قرآن کریم پڑھتا ہے،میٹھے لیموں (نارنگی) کی سی ہے، اس کی خوشبو اچھی ہے اور اس کا ذائقہ بھی اچھا ہے۔ اور اس مومن کی مثال جو قرآن نہیںپڑھتا کھجور کی طرح ہے جس کی خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ میٹھا ہے- اور اس منافق کی مثال جو قرآن پڑھتا ہے خوشبو دارپودے (جیسے نازبْو،یاسمین وغیرہ) کی طرح ہے جس کی خوشبو اچھی ہے اس کا ذائقہ تلخ ہے اور اس منافق کی مثال جو قرآن نہیں پڑھتا، اندرائن (تنبہ) کی طرح ہے جس میں خوشبو نہیں اور اس کا ذائقہ کڑوا ہے- (صحیح بخاری و مسلم)
٭رسول اللہ ٓ نے فرمایا- قرآن پڑھا کرو،قیامت کے روز اپنے پڑھنے والوںکیلیے سفارشی بن کر آئیگا اور ان کو بخشوا دیگا- (مسلم)
مطالعہ سیرت
قرآن کا معجزہ
ایک دن قریش کے ایک بڑے سردار عتبہ بن ربیعہ نے قریش سے پوچھا۔ کیوںنہ میںمحمدؐ کے ساتھ گفتگو کروںاور انہیں کچھ لے دے کر اسلام کی دعوت دینے سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے؟
قریش نے کہا۔ ابو الولید! ضرور جائیے اور محمدؐ سے بات کیجئے۔ اس کے بعد عتبہ اللہ کے رسولؐ کے پاس جاکر بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔ بھتیجے! تمہیں جو عزت و شرف اور مقام و مرتبہ اپنے خاندان میںحاصل ہے اس سے تم بخوبی واقف ہو۔ تمہارا نسب نامہ نہایت بلند پایہ ہے۔ اب تم ایک ایسی بات کہہ رہے ہو جس کی وجہ سے قوم میں تفرقہ پیدا ہوگیا ہے۔ تم نے ان کے معبودوںکو جھٹلایا۔ اپنے آبا و اجداد کو کافر قرار دیا۔ میں تمہارے سامنے کچھ چیزیں پیش کرتا ہوں، ان پر خوب غور کرو۔ ہوسکتا ہے ان میں سے کوئی بات تمہیں پسند آجائے۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا۔ ابو الولید تم کہو میں سنوںگا۔عتبہ کہنے لگا۔ جو دعوت تم لے کر آئے ہو اگر اس سے مال حاصل کرنا چاہتے ہو تو ہم اتنا مال جمع کردیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مالدار بن جائو گے۔

اگر سرداری درکار ہے تو ہم متفقہ طور پر تمہیں اپنا سردار بنا لیتے ہیں۔ ہمارا ہر معاملہ تمہارے مشورے اور حکم سے طے پائے گا۔ اگر تم کسی خوبصورت لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو تومکہ کی جس لڑکی کی طرف اشارہ کرو اس سے تمہیں بیاہ دیتے ہیں اور اگر تمہارے اوپر کسی جن بھوت کا سایہ ہے تو ہم تمہارا علاج کرانے کیلیے بھی تیار ہیں تاکہ تم شفایاب ہوجائو۔ عتبہ اپنی باتیں کہتا رہا۔ اسے پورا یقین تھا کہ وہ اپنی لچھے دار باتوں سے محمدؐ کو کسی نہ کسی شرط پر راضی کرلے گا۔ اس نے اپنی بات ختم کی تو رسول اللہ ٓ نے اس کی طرف دیکھا اور دریافت فرمایا۔ ابو الولید کیا تمہاری بات ختم ہوگئی؟ اس نے اثبات میں سر ہلا دیا۔ اب اللہ کے رسول ؐنے فرمایا۔ کچھ میری باتیں بھی سنو گے؟ اس نے کہا۔ ہاں ہاں، کیوں نہیں۔ اب اللہ کے رسول ؐنے اپنی شِیر و شہد جیسی آواز میں سورہ حٰم سجدہ کی آیات کی تلاوت شروع کیں۔
“حم یہ رحمن اور رحیم کی طرف سے نازل کی ہوئی ایسی کتاب ہے جس کی آیتیںکھول کھول کر بیان کردی گئی ہیں۔ (یہ) عربی قرآن (ہے) ان لوگوںکیلیے جو علم رکھتے ہیں۔ بشارت دینے والا اور ڈرانے والا ہے لیکن اکثر لوگوںنے اعراض کیا او ر وہ سنتے نہیں۔” اللہ کے رسول ؐ پڑھتے جارہے تھے اور عتبہ مبہوت حیران ہوکر سن رہا تھا۔ جب سجدے کی آیت آئی تو آپ ؐنے سجدہ کیا اور فرمایا۔ ابو الولید! تمہیں جو کچھ سننا تھا، سن چکے اب تم جانو اور تمہارا کام۔ قریش عتبہ کے منتظر تھے جب اسے واپس آتے دیکھا تو اس کی ظاہری حالت دیکھ کر کہنے لگے۔ اللہ کی قسم! یہ شخص جو چہرہ لے کر گیا تھا اب اس کے ساتھ واپس نہیں آرہا۔ جب عتبہ واپس پہنچ کر ان لوگوںمیںبیٹھ گیا تو انہوںنے پوچھا۔ ہاںابو الولید! کیا خبر ہے؟ تمہاری پیشکش اور تمہاری تجاویز کا کیا بنا؟ عتبہ نے بڑی سنجیدگی سے کہا۔ میں نے ایک ایسا کلام سنا ہے کہ اس جیسا آج تک نہیں سنا۔ خدا کی قسم! نہ تو وہ شعر ہے، نہ جادو، نہ کہانت۔ اے قریش! میری بات مانو، اس شخص کو اس کے حال پر چھوڑ دو۔ جو گفتگو میں نے سنی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بڑا واقعہ رونما ہوکر رہے گا۔ اگر اسے عربوں نے مار ڈالا تو تمہارا کام دوسروں کے ہاتھوں انجام پاجائے گا اور اگر یہ غالب آگیا تو اس کی بادشاہت تمہاری اور اس کی عزت تمہاری ہی عزت کا باعث ہوگی۔ قریش نے اس کی طرف طنزیہ نگاہوں سے دیکھا اور کہا۔ تم پر بھی اس کی زبان کا جادو چل گیا ہے۔ عتبہ بولا۔ اب جیسے تمہاری مرضی، میں نے بہرحال اس کے بارے میںاپنی رائے دیدی ہے۔