وزیراعظم نے رحمت اللعالمین ﷺ اسکالرشپ پروگرام کا آغاز کردیا

144

وزیراعظم عمران خان نے رحمت اللعالمین ﷺ اسکالرشپ پروگرام کا آغاز کردیا ہے۔ کم آمدنی والے گھرانوں کے طلبا کو انڈرگریجویٹ تعلیم تک رسائی ہوسکے گی۔

اسلام آباد میں رحمت اللعالمین ﷺ اسکالرشپ پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسکالرشپ پروگرام میں وفاقی حکومت تعاون کررہی ہے۔ وفاقی حکومت ہر سال 5.5 ارب روپے 70 ہزار اسکالرشپ پر خرچ کرے گی۔ حکومت 5 سال کے دوران 28 ارب روپے اسکالرشپس کی مد میں دے گی۔ حکومت ساڑھے 3 لاکھ اسکالرشپس دے گی۔

عمران خان نے کہا کہ اسکالرشپ صرف مسلمان بچوں کے لیے ہی نہیں، سب کے لیے ہے۔ کوشش ہے اسکالرشپ پروگرام ملک بھر میں شروع ہو۔ تمام اسکالرشپس شفاف میرٹ کی پالیسی پر دیے جائیں گے۔

وزیراعظم نے کہا کہ تعلیم کے بغیر کوئی قوم اوپر نہیں جا سکتی۔ مدینہ کی ریاست میں تعلیم و انصاف کو بنیادی اہمیت حاصل رہی۔ نبی پاکؐ کی تعلیمات پر عمل کر کے فلاحی معاشرے کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے۔ نبی پاکؐ کی سیرت پوری دنیا کے لیے مشعل راہ ہے۔ مساجد سے باہر اپنی زندگیاں ری ماڈل کرنا ہماری سب سے بڑی کاوش ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی قائم ہونے تک معاشرہ اوپر نہیں آسکتا۔ طاقتور کو قانون کے نیچے لانے تک قوم اوپر نہیں جاسکتی۔کمزور آدمی کتنی بھی چوری کر لے وہ لندن میں فلیٹس نہیں لے سکتا۔ جب تک طاقتور شخص قانون کے تابع نہیں آئے گا ملک ترقی نہیں کرسکتا۔

وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی کے لیے بنیادی عنصر ہے۔ تعلیم کے بغیر کوئی بھی معاشرہ ترقی نہیں کرسکتا۔ فلاحی ریاست میں تعلیم کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ اسلام تعلیم کے فروغ پر زور دیتا ہے۔

شفقت محمود نے کہا کہ اسلامی معاشرے میں تعلیم ہر مرد اور عورت پر فرض ہے۔ رحمت اللعالمین ﷺ اسکالرشپ پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں۔ پروگرام کے لیے 27.93 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی ہے۔

وزیر تعلیم نے کہا کہ اسکالرشپ پروگرام ملک بھر کی 129 پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں لاگو ہوگا۔ رواں تعلیمی سال طلبا کو 69 ہزار اسکالرشپس دی جائیں گی۔ طلبا کو سالانہ 50 ہزار اسکالرشپس دیں گے جب کہ آئندہ پانچ سالوں میں 2 لاکھ اسکالرشپس دی جائیں گی۔

شفقت محمود نے کہا کہ اس پروگرام میں 50 فیصد اسکالرشپس خواتین کے لیے مختص کی ہیں۔