فوج پر تنقید کو جرم قراردینا مضحکہ خیز ہے( شیریں مزاری اور فواد چودھری کی بھی مخالفت)

34

اسلام آباد(نمائندہ جسارت)وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چودھری اور انسانی حقوق کی وفاقی وزیرشیریں مزاری نے فوج پر تنقید کرنے والوں کوقید اور جرمانے کی مخالفت کردی ۔ فوادچودھری نے کہاہے کہ تنقید کو جرم قرار دینا ’’بالکل مضحکہ خیز خیال‘‘ ہے،عزت کمائی جاتی ہے، مسلط نہیں کی جاتی،ایسی قانون سازی سے قوانین کے غلط استعمال کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ شیریں مزاری نے کہاکہ وہ فوادچودھری کی بات سے کلی اتفاق کرتی ہیں اور اس سے زیادہ وضاحت سے یہ بات نہیں کی جا سکتی کہ (ایسی قانون سازی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔)ادھر پاکستان بار کونسل نے بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے بل واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔پاکستان بار کونسل سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ بل سیاسی حریفوں کو ہراساں کرنے کے لیے بطور آلہ استعمال کیا جائے گا ،اگر حکومت نے مجوزہ واپس بل واپس نہیں لیا اور پارلیمنٹ سے منظور کرایا تو مجاز عدالتی فورم پر اسے چیلنج کیا جائے گا۔علاوہ ازیں پیپلزپارٹی نے بھی نئے قانون پر تشویش کا اظہارکیا ہے۔ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما فرحت اللہ بابرنے کہا کہ پہلے ہی نیشنل سیکورٹی کے نام پر آزادی اظہار رائے کو دبایا ، لوگوں کو غائب کیا جاتا رہا ،قومی وسائل کو غلط طریقے سے خرچ کیا جاتا ہے، حراستی مراکز بنائے جاتے ہیں۔ادھر سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے بھی اس بل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ٹویٹرصارف سمبل نقی کہتی ہیں کہ یہ بل سیاسی حریفوں اور عام شہریوں کے خلاف استعمال ہو سکتا ہے۔عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما اور محقق عمار رشید نے کہا ہے کہ پاکستان کے کئی قومی اداروں کی سربراہی حاضر سروس یا سابق فوجی افسران کر رہے ہیں اور اس بل کی وجہ سے کسی بھی قومی ادارے پر تنقید کرنا غیر قانونی ہو جائے گا۔صحافی اور کالم نگار وجاہت مسعود نے بھی اس بل کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ’میں نیا قانون بننے کے بعد فوج کی توہین کر کے 2 سال قید یا 5لاکھ جرمانہ ادا نہیں کر سکتا۔ ابھی سے اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے طنزاً کہا کہ ایوب خان نے 56 کا آئین نہیں توڑا۔ یحییٰ خان نے پاکستان نہیں توڑا۔ ضیا الحق نے 11 برس کا وعدہ کر کے 90 دن میں انتخاب کروا دیا۔ پرویزمشرف نے دو بار آئین شکنی نہیں کی۔