ایوان کا تقدس پامال کرنیوالے ارکان کیخلاف مقدمہ ہو گا ‘ اسپیکر سندھ اسمبلی

75

کراچی(اسٹاف رپورٹر)اسپیکرسندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے سینیٹ الیکشن سے ایک روز قبل سندھ اسمبلی میں پیش آنے والے واقعے پر انتہائی افسوس اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تمام ارکان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ کسی کو بھی ایوان کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔جمعہ کو ایوان کی کارروائی کے دوران انہوں نے کہا کہ میںارکان کو وارننگ دیتے ہوئے ان سے یہ درخواست کرتا رہا ہوں کہ آئندہ ایسی صورتحال ہر گز برداشت نہیں کی جائے گی،یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ یہاں ایسے واقعات ہوئے،یہاں پر قواعد کے برخلاف وڈیوز بنائی گئیں،اسمبلی کا تقدس خراب ہوتا جارہا ہے ،میں30سال سے اس اسمبلی کا رکن ہوںکبھی ایسی صورت حال اسمبلی میں نہیں دیکھی،ایسا لگتاہے کہ یہاں فلم بندی ہورہی ہے۔انہوں نے اس بات پر سخت برہمی کا اظہار کیا کہ کچھ ارکان نے اسمبلی اسٹاف کو دھمکیاں دیں،اگر دھمکی دینی ہے تو مجھے دیں ،بہت ہوچکا اب صرف ایکشن ہوگا۔آغاسراج درانی کہا کہ میرے لیے بہت دکھ کی بات ہے کہ آپ کی حفاظت کرنے والے سیکورٹی گارڈ کو دھمکیاں دی جائیں، ان غریبوں کو کیا دھمکیاں دیتے ہیں ۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر آئندہ کسی سیکورٹی گارڈ کو دھمکی دی گئی تو میں آپ کے خلاف مقدمہ کرائوںگا۔انہوں نے کہا کہ یہ صحیح طریقہ نہیں ہے، کسی کو شوق ہے تومیں اکیلا باہر آتا ہوں مجھے دھمکی دے۔اسپیکر نے کہا کہ میں ایوان کا محافظ ہوں جو کہنا ہے مجھے کہیں۔جی ڈی اے کے رکن عارف جتوئی نے کہا کہ اسپیکرنے جو کچھ کہا اس کی مکمل تائید کرتا ہوں۔قبل ازیں گزشتہ روزسندھ اسمبلی کااجلاس 2 گھنٹے تاخیرسے اسپیکرآغاسراج درانی کی زیر صدارت شروع ہوا۔ایوان میں ارکان کی تعداد بہت کم تھی اور بیشترحکومتی اور اپوزیشن کی بینچز خالی نظر آرہی تھیں۔کارروائی کے آغاز میںپاکستان کی بقااورسلامتی کے لیے دعا کی گئی۔معروف نعت خواں الحاج سعید ہاشمی کے انتقال پر ان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔جی ڈی اے کی رکن نصرت سحر عباسی نے کرکٹر جاوید میاں داد کی ہمشیرہ کے لیے دعا کی استدعا کی اور کہا کہ جن لوگوں کے ضمیر مر گئے ہیں ان کے لیے بھی دعا کی درخواست ہے۔نصرت سحر عباسی کی دعا کی درخواست پر ایوان میں شورشرابہ ہوگیا۔مزید برآںکارروائی کے دوران وزیر زراعت اسماعیل راہو کی قرارداد پر دوبارہ بحث کا آغاز ہوا ۔ انہوں نے یہ قرارداد 2 مارچ کو پیش کی تھی مگرقرارداد پر بحث کے دوران ایوان میں جھگڑا ہو گیا اور اس پر بحث نہ ہوسکی۔قرارداد زرعی قرضوں کی معافی سے متعلق تھی۔ایوان نے وزیر زراعت کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی،جس کے بعد اسپیکر نے اجلاس پیر کی صبح 11 بجے تک ملتوی کردیا ۔