سیاسی اخلاقیات کاجنازہ نکل چکا، سینیٹ الیکشن میں ارکان غیر سنجیدہ تھے، سراج الحق

271
لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق منصورہ میں مرکزی ذمے داران کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں

لاہور(نمائندہ جسارت) امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک کی کشتی بھنور میں ہے، آدھی مدت اقتدار گزارنے کے باوجود پی ٹی آئی کی حکومت بے سمت ،سب دعوے وعدے کاغذی ثابت ہوئے۔ اسمبلیاں اکھاڑوں کا منظر پیش کررہی ہیں ، سیاسی اخلاقیات کا جنازہ نکل چکا۔ عوامی نمائندوں کا سینیٹ الیکشن کے دوران طرز عمل غیر سنجیدہ رہا، خدارا جمہوریت اور جمہوری اداروں کو تماشا نہ بنایا جائے۔ مفادات اور مک مکاؤ کی سیاست میں نقصان ملک اور قوم کا ہی ہورہا ہے۔ غریب روٹی کے لقمے کے لیے ترس رہا ہے۔ تبدیلی حکومت نے عوام کو سب سے زیادہ دھوکا دیا۔ نوجوان مایوس ، کسان پریشان اور مزدور بے حال ہیں۔ وزیراعظم کو بتانا چاہتا ہوں کہ ایک کروڑ نوکریاں اور 50 لاکھ گھر تعمیر کرنے کاوعدہ پورا کرنے کے لیے ان کے پاس وقت نہیں رہا۔ مزید یوٹرنز لینے کا بھی وقت گزر چکا ، قوم جواب مانگ رہی ہے۔ گزشتہ7 دہائیوں میں ملک کے ریسورسز کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ عوام جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کو مزید برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ ملک میں بلدیاتی الیکشن ہوئے نہ ہی الیکٹوریل ریفارمز ہو سکیں۔ مہنگائی، بے روزگاری، غربت ، ناخواندگی، غیر ملکی قرضے پی ٹی آئی کی حکومت کے اب تک کے تحائف ہیں جو عوام میں وافر مقدار میں تقسیم کیے گئے۔ آزمائے ہوئے وڈیروں اور استعمار کے نمائندوں کا وقت گزر چکا، جماعت اسلامی ملک کی تقدیر سنوارے گی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو منصورہ میں مرکزی نظم کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔8 گھنٹے کی طویل نشست میں مرکزی قائدین نے ملک کی سیاسی صورتحال، داخلی اور خارجی سطح پر درپیش چیلنجز، لوکل گورنمنٹ الیکشنز ، جماعت اسلامی کی تنظیمی صورتحال اور تیاریوں پر بحث و مباحثہ کیا اور مستقبل کا لائحہ عمل تیار کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جماعت اسلامی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف جاری تحریک میں آنے والے دنوں میں مزید تیزی لائے گی اور مختلف شہروں میں بھرپور جلسے اور ریلیاں منعقد ہوں گی۔ امیر جماعت نے مرکزی قائدین کو ہدایات جاری کیں کہ وہ ہر سطح پر عوام سے رابطے بڑھائیں اور ملک بھر میں جماعت اسلامی کے کارکنان اور سپورٹرز کو متحرک کریں۔ آنے والا وقت جماعت اسلامی کا ہے کیونکہ سالہاسال سے عوام کی گردنوں پر سوار اشرافیہ نے قوم کو سوائے دھوکے اور فراڈ کے اور کچھ نہیں دیا۔ قائدین جماعت سے گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے بار بار کے مطالبات کے باوجود ملک میں انتخابی اصلاحات کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں ہوئی۔ بلدیاتی الیکشن نہ ہونے کی وجہ سے نچلی سطح پر مسائل کا انبار منہ کھولے کھڑا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں موجود اشرافیہ عوام سے لاتعلق اور غیر سنجیدہ سیاست میں الجھی ہوئی ہے۔ معیشت تباہی کے دہانے پر ہے۔ ملک کی نظریاتی اساس پر حملے ہو رہے ہیں۔ کشمیر کا سودا ہوچکا ہے اور بلوچستان اورسابق فاٹا کے علاقوں میں دشمن کی سازشیں جاری ہیں۔ اس کلی صورتحال میں حکمران پی ٹی آئی یا تو اپنے ہی ارکان کی بغاوت کو کچلنے میں مصروف ہیں ۔ دوسری جانب پی ڈی ایم کے نام سے قائم اپوزیشن اتحاد بھی عوامی مسائل سے بالکل غافل ہے۔سراج الحق نے کہاکہ قوم نے سب کو آزما لیا اور بدلے میں غربت و بے روزگاری دیکھی ۔ لاکھوں لوگ فٹ پاتھ پر سوتے ہیں ۔ عوام میں آٹا چینی گھی خریدنے کی سکت نہیں رہی ۔ بچے ہوٹلوں اور فیکٹریوں میں مزدوری کررہے ہیں ۔ سرکاری اسکولوں میں تعلیم ناقص اور پرائیویٹ اداروں میں پہنچ سے باہر ہے ۔ صحت کے شعبہ میں بہتری نہیں آئی ۔ حکومت عوامی فلاح کا کوئی پروگرام متعارف نہیں کراسکی ۔ قرضوں کے سہارے معیشت کب تک چلے گی ۔ ملک کا دیوالیہ نکل چکاہے ۔ پاکستان کو صالح اور ایماندار قیادت کی ضرورت ہے ۔ جماعت اسلامی واحد آپشن ہے ۔