شدید سردی میں مگرمچھ خود کو کیسے محفوظ رکھتے ہیں؟

247

واشنگٹن: پاکستان میں سردی کی شدت اب کم ہونے لگی ہے مگر امریکا میں حالیہ دنوں کے دوران شدید برف باری اور طوفان نے جنوبی ریاستوں کو منجمد کردیا تھا جبکہ شدید برفانی طوفان کی زد میں آئے مگرمچھوں نے اپنی زندگیاں بچانے کا منفر طریقہ اپنایا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا کے مطابق متعدد امریکی ریاستوں میں برفانی طوفان نے تباہی مچائی اور ایسا ہی کچھ ریاست اوکلاہاما میں بھی دیکھنے میں آیا ہے جہاں شدید سردی نے چشموں تک کا پانی جما دیا ہے اور اسی سردی کا نشانہ مگرمچھ بن گیے ہیں۔

امریکا میں حالیہ دنوں کے دوران برفباری کی لہر نے ریاستوں کو منجمد کردیا ہے، شدید سردی نے چشموں تک کا پانی بھی جما دیا ہے اور اسی سردی کا نشانہ مگرمچھ بن رہے ہیں،  اوکلاہاما میں انتہائی شدید موسم کے نتیجے میں چشمے برف سے جم گئے اور مگرمچھوں کو خود کو بچانے کے لیے منفرد حکمت عملی اپنانا پڑی ہے۔

جی ہاں مگرمچھوں نے خود کو زندہ رکھنے کا انتہائی انوکھا طریقہ اپنا کر سب کو دنگ کردیا ہے، وہ کیسے؟  انہوں نے اپنی ناک برف کی سطح کے اوپر رکھی جبکہ باقی جسم پانی کے اندر رہا۔

خود کو بچانے کے لیے مگرمچھ اپنی ناک برف کی سطح کے اوپر جبکہ باقی جسم پانی کے اندر رکھ رہے ہیں تاکہ سانس کی روانی بحال رہے اور اس طریقے کو اسنورکلنگ کے نام سے جانا جاتا ہے جبکہ  ماہرین کے مطابق مگرمچھ سرد خون والے جانداروں میں شامل ہیں۔

https://www.facebook.com/photo.php?fbid=3670665179676764&set=a.358505354226113&type=3

اوکلا ہاما ڈیپارٹمنٹ آف وائلڈ لائف کنزروریشن نے ایک عہدیدار ڈیوڈ آربر نے فیس بک پر جنوبی اوکلاہاما کے ریڈ سلوچ وائلڈ لائف منیجمنت ایریا کے منجمد پانیوں میں موجود مگرمچھوں کی تصاویر پوسٹ کیں ہیں۔

وائلڈ لائف کے مطابق جب اس ریاست میں درجہ حرارت تیزی سے گرا تو تالاب سے بھاگنے کی بجائے ان مگرمچھوں نے فوری طور پر اپنی ناک پانی کی سطح سے باہر نکال دی تاکہ پانی منجمد ہوجانے پر بھی وہ سانس لینا جاری رکھ سکیں۔

خیال رہے مگرمچھ سرد خون والے جانداروں میں شامل ہیں اور شدید موسم میں ان کے لیے اپنے جسم کے درجہ حرارت کو ریگولیٹ کرنا ممکن نہیں ہوتا،  یہی وجہ ہے کہ جب موسم بہت سرد ہوتا ہے تو وہ اپنے جسم کو پانی میں ڈبو دیتے ہیں اور منہ آسمان کی طرف کرلیتے ہیں تاکہ سانس لیتے رہیں۔

واضح رہے اپنے جسم کو پانی میں ڈبو کر اور منہ آسمان کی طرف کرلینے  کے بعد خوابیدگی کی کیفیت میں چلے جاتے ہیں اور جب درجہ حرارت بہتر ہوتا ہے تو ان کی حالت معمول پر آجاتی ہے۔