مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی جہازوں پر کورونا پھیل گیا

135
برلن: جرمن وزیر صحت پارلیمان کے ایوان زیریں میں کورونا وائرس کے تیز پھیلاؤ سے متعلق تفصیلات بتا رہے ہیں

واشنگٹن (انٹرنیشنل ڈیسک) امریکا نے مشرقِ وسطیٰ میں تعینات اپنے 2 جنگی جہازوں میں کورونا وائرس پھیلنے کے بعد انہیں بحرین سے طلب کر لیاگیا۔ امریکی جہاز یو ایس ایس سان ڈیاگو ایک عسکری کارگو جہاز ہے اور اس کے عملے میں شامل درجنوں افراد کے کورونا ٹیسٹ مثبت آئے ہیں۔ ان جہازوں کا تعلق ہانچویں امریکی بیڑے سے ہے ،جس کا ہیڈکوارٹر خلیج فارس کی ریاست بحرین میں قائم ہے ۔ فوجی ترجمان کمانڈر ربیکا ریبیرش نے بتایا کہ جہازپر وائرس کی تشخیص ہونے کے بعد عملے سمیت واپس بلا لیا گیا ہے ۔ دوسرا جہاز یو ایس ایس فلپائن سی گائیڈڈ کروز میزائلوں سے لیس ہے اور اس کے عملے میں بھی کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی ہے۔ کمانڈر ربیکا کا کہنا ہے کہ وائرس کی تشخیص کے بعد تمام متاثرین کو دیگر عملے سے علاحدہ کر دیا گیا ہے ۔ اس صورت حال میں بحرین کے طبی عملے کے تعاون اور امداد کے ذریعے حالات کنٹرول میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ادھر بحرین کی وزارتِ صحت نے جہازوں میں ہر قسم کی طبی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ دوسری جانب جرمنی میں 4ماہ سے جاری سخت لاک ڈاؤن کے باوجود کورونا وائرس کے کیسوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ کئی ریاستوں میں دکانیں، کیفے اور ریستوران بند ہیں، لیکن کھانے پینے کی اشیا لے جانے کی اجازت کے بعد لوگوں کی لمبی قطاریں ہوتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق جرمنی میں شہریوں کی اکثریت نے سماجی فاصلے سے متعلق پابندیوں پر عمل کیا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے منفی نفسیاتی، سماجی اور معاشی اثرات سامنے آرہے ہیں اور لوگ یہ سوچنے پرمجبور ہیں کہ ایسے کب تک چلے گا؟ لاک ڈاؤن جتنا طویل عرصہ چلے گا، اس کی مخالفت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ ایک سروے کے مطابق 27 فیصد جرمن شہریوں کا خیال ہے کہ پابندیاں زیادہ سخت اور غیرضروری ہیں۔ اس کے علاوہ شہریوں کی ایک بڑی تعداد ویکسین لگوانے والے افراد کے لیے کورونا پاسپورٹ کے اجرا کی حامی ہے۔ اس پاسپورٹ سے ویکسین لینے والے افراد کو سفر کرنے اورکھیلوں کی تقریبات میں جانے کی اجازت حاصل ہو سکے گی۔