بزنس کمیونٹی کو بینک خوف زدہ کررہے ہیں,سلیم الدین

81
سلیم الدین قریشی

نئے نئے طریقہ کار میں اُلجھایا جارہا ہے، سلیم الدین قریشی

حیدرآباد

حیدرآباد چیمبر آف اسمال ٹریڈرز اینڈ اسمال انڈسٹری کے صدر سلیم الدین قریشی اور سب کمیٹی برائے بینکنگ اَمور کے کنونیئر شیخ شان الٰہی سہگل نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ بزنس کمیونٹی سے متعلق اکاﺅنٹس ہولڈرز کو بینک انتظامیہ خوف زدہ کررہی ہے اور نئے نئے طریقہ کار میں ا‘لجھایا جاتا ہے۔ پہلے اکاﺅنٹ ہولڈر اگر پیسے بینک اکاﺅنٹ میں جمع کرانے جاتا تھا

اُس کا کوئی ملازم جاتا تھا تو اُس سے قومی شناختی کارڈ طلب کیا جاتا تھا۔ جبکہ اکاﺅنٹ ہولڈر کے تمام کوائف بینک کے ریکارڈ میں موجود ہوتے ہیں اور تصدیق آن لائن ہوسکتی ہے جس میں اکاﺅنٹ ہولڈر کا فوٹو اور شناختی کارڈ نمبر سب موجود ہوتے ہیں۔ لہٰذا اکاﺅنٹ ہولڈر سے قومی شناختی کارڈ طلب کرنا جبکہ کریڈٹ سلپ پر اُس کے خود کے دستخط موجود ہوں کسی طرح بھی قرین انصاف نہیں ہے۔ لیکن اَب بعض بینکوں میں نئی اختراع شروع کی گئی ہے کہ اگر بزنس کمیونٹی سے متعلق اکاﺅنٹ ہولڈر کسی ملازم یا منیجر کو اکاﺅنٹ میں رقم جمع کرانے یا یوٹیلیٹی بلز بھرنے کے لئے روانہ کرتا ہے تو اُس کے شناختی کارڈ کے ساتھ ساتھ اَب ایک فارم بھی بھروایا جاتا ہے

جس میں تمام کوائف اور کاروبار کا بھی درج کرایا جارہا ہے۔ اِن نئے نئے روز بروز بڑھتے ہوئے مطالبات کر کے پریشان کیا جارہا ہے۔ اُنہوں نے گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رِضا باقر اور تمام شیڈولڈ ملکی بینکوں کے سربراہان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اِس سلسلے میں واضح پالیسی مرتب کر کے اُس کی بڑے پیمانے پر پبلسٹی کرائی جائے تاکہ اکاﺅنٹ ہولڈر کو پتہ چل سکے۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بزنس کمیونٹی کا بینکوں پر سے اعتماد اُٹھ جائے گا اور بینکنگ سروسز کو نقصان پہنچے گا جو ایک سازش معلوم ہوتی ہے۔