سو برس بیت گئے

362

آخری حصہ
مسلمان اقتصادی، مادی، تیکنیکی اور فوجی لحاظ سے کمزور ہیں۔ اس کے باوجود موجودہ عالمی نظام کا اگر کوئی پیچھا کررہا ہے تو وہ اسلام ہے۔ اسلامی نظام یا خلافت کا احیا ماضی کی واپسی نہیں ہے بلکہ یہ اصل کی طرف واپسی ہے۔ بنیادی منبع کی طرف واپسی ایسی بنیاد پرستی نہیں ہے جو وقت کے ساتھ چلنے میں رکاوٹ ہو بلکہ یہ زاویہ نظر کی تازگی، ایک نئی لگن، تحرک اور مغرب کی غلامانہ نقالی اور الجھائو سے دوری ہے۔ 1857کی جنگ آزادی میں شکست اور انگریزوں کے بدترین مظالم سہنے کے باوجود برصغیر کے مسلمانوں نے انگریزی اقتدار کے خاتمے کے ساتھ ساتھ خلافت عثمانیہ سے اپنے تعلق کی شدت بیان کرنے اور اس کے انہدام کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ یہ ایک روشن تاریخ ہے۔
5جولائی 1919ء کو رائے عامہ منظم کرنے اور متفقہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے بمبئی میں آل انڈیا خلافت کمیٹی قائم کی گئی۔ اس کے تین بڑے مقاصد تھے۔ اول: خلافت عثمانیہ برقرار رکھی جائے۔ دوم: مقامات مقدسہ (مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ) عثمانی خلافت کی تحویل میں رہیں۔ سوم: سلطنت عثمانیہ کو تقسیم نہ کیا جائے۔ تحریک خلافت کے تحت یورپی ممالک خصوصاً برطانیہ وفود بھیجے گئے اور مسلم رائے عامہ کے جذبات سے آگاہ کیا گیا۔ ڈاکٹروں اور نرسوں کے گروپ عثمانی مجاہدین کو میڈیکل ایڈ مہیا کرنے کے لیے بھیجے گئے۔ مسلمانوں نے کثیر دولت، کرنسی، سونے اور چاندی کی صورت میں جمع کرکے عثمانی حکومت کی مالی امداد کے لیے روانہ کی۔ برصغیر کے چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں بڑے بڑے جلوس نکالے گئے، جلسے منظم کیے گئے ہڑتالیں کی گئیں، مسلمانوں کی بڑی تعداد نے گرفتاریاں پیش کیں۔ تحریک کے لیڈروں کو جیلوں میں بند کردیا گیا لیکن تحریک کی آب وتاب اور مسلمانوں کے جوش جذبے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ فروری 1920ء میں بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبہ صدارت میں مسئلہ خلافت کی شرعی حیثیت پر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔ ’’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہیے۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لیے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں۔ اس لیے ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے‘‘۔ تحریک کے رہنمائوں میں اصل روح مولانا محمد علی جوہر تھے۔ وہ شعلہ جوالہ بنے گائوں گائوں قصبہ قصبہ پھر کر خلافت کی عظمت تازہ کررہے تھے۔
برطانوی فوج میں موجود اکثر ہندوستانی مسلمانوں نے خلافت عثمانیہ کے خلاف لڑنے سے انکار کردیا تھا۔ بمبئی میں 10ویں کور کے جوانوں نے جنہیں خلافت کے خلاف لڑنے کے لیے باہر بھیجا جارہا تھا انہوں نے آٹھ برطانوی افسروں پر گولی چلادی۔ جنوری 1915ء میں رنگون میں 130ویں بلوچ رجمنٹ نے مقدونیہ میں خلافت عثمانیہ کے خلاف لڑنے سے انکار کردیا۔ سنگاپور میں تعینات 5ویں ہلکی پیادہ فوج کے مسلمانوں نے آٹھ برطانوی افسروں کو گولی ماردی اور برطانیہ کے خلاف لڑنا شروع کردیا۔ 1916ء کے آغاز میں15ویں نیزہ بردار فوج کے آفریدی یونٹ نے بصرہ میں خلافت عثمانیہ کے خلاف مارچ سے انکار کردیا اور برطانیہ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے۔
تحریک ریشمی رومال وہ تحریک تھی کہ جب انگریزوں کو اس تحریک کا علم ہوا تو ان میں ہلچل مچ گئی۔ قونصل جنرل برطانیہ نے پولیٹیکل ڈپارٹمنٹ کو اس تحریک کے بارے میں ان الفاظ کے ذریعے آگاہ کیا تھا ’’زیر نظر کیس کو ہم اپنی آسانی کے لیے ’’ریشمی خطوط کا کیس‘‘ اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس بارے میں ہمیں گہری اور مکمل واقفیت اگست1916ء میں ریشمی کپڑے پر لکھے ہوئے ’’تین خطوط‘‘ کے پکڑے جانے سے حاصل ہوئی‘‘۔ دوسری جنگ عظیم سے کچھ پہلے شیخ الہند نے ایک پروگرام ترتیب دیا تھا کہ جرمنی، ترکی، افغانستان اور آزاد قبائل کے ذریعے انگریزوں پر ایک بڑا حملہ کیا جائے گا اور ایک منظم جنگ کے ذریعے انہیں ہندوستان سے نکلنے پر مجبور کیا جائے گا۔ 1914ء میں پہلی عالمی جنگ چھڑ جانے کے بعد شیخ الہند مولانا محمود حسن نے محسوس کیا کہ وقت قریب آگیا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے لیے جنگ شروع کی جاسکتی ہے۔ شیخ الہند جانتے تھے کہ ہندوستانی عوام اور مشرقِ وسطی کے ممالک خصوصاً افغانستان، ایران اور خلافت عثمانیہ کو متحد کیے بغیر برطانوی حکومت سے ایشیاء کو آزاد نہیں کرایا جاسکتا ہے۔ اس وقت خلافت عثمانیہ مشرقی وسطیٰ کے وقار کی محافظ سمجھی جاتی تھی، اور ترکی ہی برطانیہ، اٹلی، فرانس، یونان اور روس کے مقابلہ میں ڈٹا ہوا تھا؛ اس لیے آپ نے مولانا عبیداللہ سندھی کو افغانستان جانے کا حکم دیا اور خود خلافت عثمانیہ کی حمایت کے حصول کے لیے حجاز کا سفر کیا۔ لیکن منصوبہ راز نہ رہا اور قائدین مالٹا میں اسیر کردیے گئے۔
21ستمبر 1919ء کو لکھنو میں بلائی گئی ایک کانفرنس میں مسلمانوں نے اعلان کیا ’’ترکی کی زیر غور تقسیم اور سلطنت ترکی کے اہم حصوں کو قصداً چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا کر غیر مسلموں کے ماتحت کرنا خلافت کے معاملات میں ناقابل برداشت مداخلت ہے جو مسلم دنیا میں مستقل بے قراری کا بیج بوئے گا‘‘ اس موقع پر 17اکتوبر 1919 کو یوم خلافت قرار دیا گیا۔ خلافت کمیٹیاں قائم کی گئیں، خلافت کانفرنسیں بلائی گئیں، خلافت کو بچانے کے لیے فنڈز اکٹھے کیے گئے، قرآنی آیات کے ترجمے سے مزین ’’خلافت روپیہ‘‘ کا اجرا کیا گیا۔ ایک خلافت مجلہ شائع کیا گیا۔ ایک فتویٰ جاری کیا گیا جس میں برطانوی فوج میں ملازمت اسلام کی رو سے حرام قراردی گئی۔
جب برطانوی ایجنٹ مصطفی کمال نے تباہ کن ضرب لگاتے ہوئے 3مارچ 1924کو خلافت کا خاتمہ کردیا تو برصغیر کے مسلمان غم اور الم سے چور ہوگئے 9مارچ کو مسلمانوں نے اس اقدام کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔ ایک ٹیلی گرام وارننگ جاری کی گئی کہ خلافت کا خاتمہ ضرر رساں عزائم کا دروازہ کھول دے گا۔ ایک پیغام جاری کیا گیا کہ معزول خلیفہ عبدالحمید کا نام جمعہ کے اجتماعات میں لازماً پکارا جائے گا۔
خلافت کے خاتمے کے بعد مغربی استعماری ممالک نے مسلم علاقوں کو چیر پھاڑ کرکے 55ممالک میں تقسیم کردیا۔ ہر ملک میں ان کا ایجنٹ بطور حکمران بیٹھا ہے جو ہر معاملے میں ان کے احکامات کی تعمیل کرتا ہے خواہ وہ امت مسلمہ اور خود ان ممالک کے لیے کتنے ہی تباہ کن کیوں نہ ہوں۔ مغربی استعمار ہی آج مسلمان ممالک کے لیے پالیسیاں وضع کرتے ہیں اور حکمرانوں کا کردار متعین کرتے ہیں جس کا سر فہرست ایجنڈا اپنے اپنے ممالک میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اٹھنے والی ہر تحریک کو کچلنا ہے۔
ایک بھیڑنے بھیڑیے سے بچنے کے لیے دلدل میں چھلانگ لگادی۔ بھیڑیا بھی اس کے پیچھے پیچھے دلدل میں آگرا اور لگا اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہاتھ پائوں مارنے۔ جب کہ بھیڑ آرام سے دلدل میں پڑی رہی۔ بھیڑیے نے حیرت سے بھیڑ کی طرف دیکھا۔ اطمینان کی وجہ پو چھی تو بھیڑ نے کہا ’’میرا ایک مالک اور رکھوالا ہے۔ جیسے ہی وہ محسوس کرے گا کہ ایک بھیڑ کم ہے تو وہ میری تلاش میں نکل آئے گا اور مجھے دلدل سے نکا ل لے گا‘‘۔ اس ماہ رجب 1442ہجری سو برس بیت گئے اس محافظ اور رکھوالے کا ہاتھ امت مسلمہ پر سے اٹھا لیا گیا۔ امت دلدل میں اترتی چلی جارہی ہے، کوئی نہیں جو اسے بچانے آئے۔ لیکن نہیں اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی قدرت ایک مرتبہ پھر بروئے کار آئے گی اور اسلام کا وہ نظام پھر دنیا میں نافذ ہوگا جس کے امن وعدل اور خیر وبرکت پر مومن اور منکر دونوں کی شہادت موجود ہے۔