حلیم عادل کے لاک اپ میں سانپ برآمدپر تحقیقاتی کمیٹی قائم

31

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر اور پی ٹی آئی کے رہنماحلیم عادل شیخ کے لاک اپ میں مبینہ طور پر سانپ برآمد ہونے کی تحقیقات کے لیے ڈی آئی جی سی آئی اے کی سربراہی میں 3رکنی کمیٹی قائم کر دی گئی۔ کمیٹی میں ایس ایس پی فیصل عبد اللہ چاچڑ اور ایس ایس پی سرفراز نواز شامل ہیں،کمیٹی کو2 دن میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ تحقیقاتی کمیٹی سی آئی اے سینٹر صدر کا دورہ کرے گی، لاک اپ اور اطراف کا جائزہ لے گی۔ایس آئی یو ذرائع کے مطابق حلیم عادل شیخ نے صبح ساڑے 7بجے کے قریب سانپ کی موجودگی سے متعلق بتایا۔ مبینہ طور پر حلیم عادل شیخ کو سانپ لاک اپ نہیں، واش روم جاتے ہوئے بالکونی سے ملا۔حلیم عادل شیخ کو جس کمر ے میں رکھا گیا، وہاں کوئی کھڑکی یا سوراخ نہیں ہے،20 اہلکار حلیم عادل شیخ کی نگرانی پر مامور تھے، حلیم عادل کے ہاتھوں مارے گئے سانپ کا کیمیکل ایگزامن کرانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔پولیس حکام کے مطابق حلیم عادل شیخ کمرے میں سانپ مار رہے تھے، ڈیوٹی پر تعینات اہلکاروں نے ان کا شور سنا اور نہ ہی اپوزیشن لیڈر نے مدد کے لیے کسی کو آواز دی۔تحقیقاتی کمیٹی کے مطابق ایس آئی یو سینٹرپر نصب سی سی ٹی وی کے تمام کیمروں کا ریکارڈ حاصل کر کے تحقیقات کا دائرہ بڑھایا جارہا ہے۔علاوہ ازیںسی آئی اے سینٹرمیں قید سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کے کمرے میں زہریلا سانپ نکلنے کے بعد پولیس نے حلیم عادل کوسینٹرل جیل کے بجائے فیروز آباد تھانے منتقل کردیا،انہیں راہداری پر اے ٹی سی ملیر سے فیروز آباد تھانے منتقل کیا گیا ہے۔