دل کی بات (آخری حصہ)

237

یعنی مدار اس پر ہوتا ہے کہ اقتدار سے رخصتی کے وقت کسی کی مقبولیت کا عالم کیا ہے، اگر انجامِ کار وہ لوگوں کی نظروں سے گر چکا ہوتو عروج اور مقبولیت کے زمانے کو لوگ بھول جاتے ہیں، اسی لیے رسول اللہؐ تعلیمِ امت کے لیے حُسنِ عاقبت کی یہ دعا فرمایا کرتے تھے: ’’اے اللہ! تمام امور میں ہمارے انجام کو بہترین فرمادے اور ہمیں دنیا کی رسوائی اور آخرت کے عذاب سے پناہ عطا فرما، (مسند امام احمد)‘‘، شعارِ حکمرانی میں اس کی عملی مثال یہ ہے:
’’سیدنا حسن بن علی روایت کرتے ہیں: جب سیدنا ابوبکر صدیق کے وصال کا وقت قریب آیا تو انہوں نے ام المومنین عائشہ صدیقہ سے فرمایا: وہ اونٹنی جس کا ہم دودھ پیتے تھے اور وہ پیالہ جس میں ہم خورو نوش کرتے تھے اور وہ چادر جس کو ہم اوڑھتے تھے، لے آئو، کیونکہ ہم ان سے نفع اٹھانے کے اُس وقت تک حق دار تھے، جب ہم مسلمانوں کے امورِ خلافت انجام دینے میں مشغول تھے، پس جب میری وفات ہوجائے تو (بیت المال کی) یہ چیزیں سیدنا عمر کو لوٹا دینا، (سیدہ عائشہ بیان کرتی ہیں:) پھر جب ابوبکرؓ نے وصال فرمالیا تو میں نے یہ چیزیں (خلیفۂ ثانی) سیدنا عمرؓ کی خدمت میں بھیج دیں، ان چیزوں کو دیکھ کر سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اے ابوبکر! اللہ آپ سے راضی ہوا، آپ نے اپنے جانشینوں کے لیے خلافت کے معاملے کو دشوار بنادیا، (اَلْمُعْجَمُ الْکَبِیْر لِلطَّبَرَانِی)‘‘، یعنی دیانت وامانت اور بیت المال کی حفاظت کے اس معیار پر پورا اترنا ہرکسی کے بس کی بات نہیں ہے، یہ تھا نبوی منہاج پر خلافت کا معیار واعتبار۔
وزیر عظم کو اپوزیشن بارہا یہ پیش کش کرچکی ہے کہ اتفاقِ رائے سے ایک ’’میثاقِ معیشت‘‘ تیار کیا جائے، یہ میثاق دس بیس سال پر بھی محیط ہوسکتا ہے، اس کو آئین میں تحفظ دیا جاسکتا ہے کہ آئندہ حکومت کوئی بھی آئے، اُسے اس سے انحراف کی اجازت نہ ہو۔ نیز آمریت اور جمہوریت میں فرق یہی ہے کہ جمہوریت میں ایک دوسرے کی ترجیحات کے لیے گنجائش رکھنی پڑتی ہے۔ ہماری دعا ہے کہ ہمارے اہلِ اقتدار جب ایوانِ اقتدار سے رخصت ہوں، تو لوگ انہیں محبت سے یاد کریں، وہ قوم کے ہر فرد کے لیے ماں باپ کی طرح سائبان بن کر رہیں اور ان کی رخصت کے وقت لوگ کہیں: ’’ہم یتیم ہوگئے‘‘۔ سابق وزیرِ اعظم جونیجو نے قومی اور صوبائی اسمبلی کے ارکان کے لیے ترقیاتی فنڈ کا سلسلہ شروع کیا تھا، یہ بعد کے ادوار میں بھی جاری رہا، اس سے اپوزیشن کے ارکانِ اسمبلی بھی مستفید ہوتے رہے، لیکن وزیر اعظم یہ سہولت صرف اپنی جماعت کے ارکانِ اسمبلی کو دینا چاہتے ہیں، اس سے اُن حلقوں کے عوام کی حق تلفی ہوگی، جہاں سے اپوزیشن کے لوگ منتخب ہوئے ہیں، گویا انہیں اپوزیشن کو ووٹ دینے کی سزا دی جارہی ہو، مالی وسائل پارٹی کے نہیں ہوتے، قومی خزانے پر پوری قوم کا حق ہوتا ہے، اس لیے انصاف برتنا چاہیے۔
پس نوشت: ’’امریکی سماج کی شکست وریخت‘‘ کے عنوان سے ہمارے گزشتہ دو کالم طبع ہوئے تو امریکا سے ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ دوست نے ہمارے موقف سے اتفاق کرتے ہوئے ایک مکتوب میں ایک مقامی اخبار ’’برسٹل ہیرلڈ کورئیر‘‘ کی اس خبر کا حوالہ دیا ہے: ’’کیپٹل ہل پر بلوے میں ’’ٹامس کولڈویل‘‘ نامی ایک شخص پکڑا گیا جو ایف بی آئی میں ملازم تھا، وہ انتہائی دائیں بازو کی ایک جماعت اور ’’حلف یافتگان ‘‘ کے حربی گروپ کا سربراہ بھی ہے، اس نے ایک جماعت تیار کی، پھر کیپٹل ہل پر بلوے کی قیادت کی، اسے کئی دہائیوں سے حکومت کے انتہائی نازک خفیہ رازوں تک بھی رسائی حاصل تھی، وہ 2009 سے 2010 تک ریاستی رازداری کے ایک شعبے کا سربراہ بھی رہ چکا ہے، حکام کا خیال ہے کہ وہ انتہا پسند گروہ کا لیڈر ہے‘‘۔ وہ مزید لکھتے ہیں: ’’خطرے کی بات یہ ہے کہ امریکا میں شدید اختلافِ رائے کے نتیجے میں اب سیاسی شکست وریخت کا عمل فوج، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پہنچ چکا ہے، الغرض نسلی عصبیت کی جڑیں بہت گہری ہوچکی ہیں‘‘۔ ایوانِ نمائندگان کی اسیپکر نینسی پلوسی نے کہا: ’’ہم کیپٹل ہل پر حملہ آور Oath Keepers کی انکوائری کے لیے نائن الیون کی طرزپر کمیشن بنائیں گے‘‘۔