انجانا خوف

434

آج کل حکومتی حلقوں اور میڈیا میں رونق افروز لبرلز کو ایک انجانا خوف لاحق ہے کہ مدارس کے طلبہ مولانا فضل الرحمن کی آئندہ کسی تحریک کا حصہ بن جائیں گے اور ان کی ریلی اور ممکنہ دھرنے میں شریک ہوں گے۔ سوال یہ ہے کہ انہوں نے یہ کیسے قیاس کرلیا، کیا اُن کے پاس کوئی سروے ہے کہ مولانا کے گزشتہ دھرنے میں پاکستان بھر کے مدارس کے طلبہ شریک تھے۔ ہمارے نیٹ ورک تنظیم المدارس اہلسنّت پاکستان کا تو شاید ایک بھی طالب علم شریک نہ ہوا ہو۔ اسی طرح مولانا کے ہم مسلک وفاق المدارس سے ملحق بیش تر شہری مدارس میں ہماری معلومات کے مطابق گزشتہ ریلی اور دھرنے کے دوران بھی تعلیم کا سلسلہ معمول کے مطابق جاری تھا۔ وفاق المدارس الشیعہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، رابطۃ المدارس جماعتِ اسلامی کا نیٹ ورک ہے اور آج کل جماعت اسلامی کسی سیاسی اتحاد کا حصہ نہیں ہے۔ وفاق المدارس سے ملحق بعض مدارس کے طلبہ ممکن ہے جزوی طور پر شریک ہوئے ہوں، تاہم یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ مدارس بند نہیں ہوئے۔ سو یہ ایک انجانا خوف ہے جو بعض حلقوں کو لاحق ہے، حتیٰ کہ کسی چینل پر یہ ٹِکر نظر آیا: ’’اسلام آباد کے ایک سو آٹھ مدارس کے طلبہ کو کنٹرول کرنے کی مہم وزیر داخلہ شیخ رشید احمد کے ذمے لگادی گئی ہے‘‘۔ ائمہ مساجد کو حکومت کی طرف سے دس ہزار روپے ماہانہ اعزازیے کی بشارت بھی سنائی گئی ہے، خیبر پختون خوا میں پی ٹی آئی کے گزشتہ دورِ حکومت میں بھی ایسی ہی بشارت سنائی گئی تھی، لیکن پھر بیل منڈھے نہ چڑھ سکی۔
ایک اہم سوال یہ ہے کہ دینی مدارس کے طلبہ کے بارے میں ہمارے لبرلز کا نظریہ کیا ہے، کیا یہ پاکستان کے آزاد شہری نہیں ہیں یا یہ دوسرے اور تیسرے درجے کے شہری ہیں یا ان کا تعلق کسی خاندانِ غلاماں سے ہے، جیسے کبھی جنوبی افریقا اور امریکا میں سیاہ فام باشندے دوسرے یا تیسرے درجے کے شہری قرار پاتے تھے، امریکا میں انہیں African American کہا جاتا ہے، کیا اس ملک میں اُن کے انسانی اور سیاسی حقوق نہیں ہیں، کیا یونیورسٹیوں کے طلبہ وطالبات پر سیاست میں حصہ لینے یا ووٹ ڈالنے یا کسی جلسے اور ریلی میں شریک ہونے پر پابندی ہے، تو دینی مدارس کے طلبہ کے بارے میں اتنا واویلا اور دہائی کیوں۔ ہمیں مولانا فضل الرحمن یا پی ڈی ایم کی تحریک یا جلسوں، ریلیوں اور دھرنوں سے کچھ واسطہ نہیں ہے، لیکن اصولی بات کرنا ہمارا حق ہے۔ ایک خدشہ یہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مولانا فضل الرحمن وفاق المدارس کے صدر بن کر اُس سے ملحق مدارس کی افرادی قوت کو اپنی سیاست کے لیے استعمال کریں گے، اس حقیقت کے باوجود کہ مولانا کا اثر دیوبندی مدارس میں بہت زیادہ ہے، لیکن میرا غالب گمان یہ ہے کہ ایسا نہیں ہوگا، صدر کسی ایسی علمی شخصیت کو بنایا جائے گا جو سب کے لیے قابلِ احترام اور غیر متنازع ہو، واللہ اعلم بالصّواب۔
یہ غلط فہمی ذہن سے نکال دیجیے کہ دینی مدارس وجامعات کے طلبہ کو کوئی چیز قبول یا ردّ کرنے پر مجبور کیا جاسکتا ہے، یہ سوشل میڈیا کا دور ہے، ہر طالب علم کے پاس اسمارٹ فون ہے اور وہ اس کا استعمال بھی ہم سے بہتر جانتے ہیں۔ اس کا ایک حل تویہ ہے کہ قانون بنالیا جائے کہ کوئی ڈاڑھی والا نہ سیاست میں حصہ لے سکتا ہے، نہ ووٹ ڈال سکتا ہے، نہ اپنی ترجیح کے مطابق کسی سیاسی جماعت کی حمایت کرسکتا ہے، نہ کسی جلسے جلوس اور ریلی میں شریک ہوسکتا ہے۔ اب تک ایسی پابندی تو امریکا اور یورپ میں بھی نہیں لگی، لگے ہاتھوں یہیں سے آغاز کردیا جائے تاکہ ہمارے لبرل کرم فرمائوں کو ذہنی سکون ملے۔ جانبداری کا تاثر دینے والے ایسے ہی رویوں سے نظام کے بارے میں لوگوں میں مایوسی پیدا ہوتی ہے، جب کسی کو یہ تاثر ملے کہ اُسے کم تر سمجھا جارہا ہے تو اس کے ذہن میں منفی جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ اس سے یہ تاثر بھی پیدا ہوتا ہے کہ دینی مدارس وجامعات میں تعلیم پانے والے طلبہ وطالبات پاکستان کے وفادار اور ذمے دار شہری نہیں بن سکتے، بتایا جائے کہ آخر حب الوطنی کا معیار کیا ہے، اس کو جانچنے اور ماپنے کے لیے گیج کس کے پاس ہے، کیا کسی کو صرف اس لیے لوگوں کی حب الوطنی کا فیصلہ کرنے کا حق دیا جائے کہ وہ صاحبِ اختیار واقتدار ہے یا ٹیلی ویژن اسٹوڈیوز کے ’’شیشے کے گھر‘‘ میں رونق افروز ہے۔
امریکا میں کووڈ کی وجہ سے نیویارک اسٹیٹ میں مذہبی عبادت گاہوں کو بند کرنے کے احکام جاری ہوئے، یہود نے اس کے خلاف پہلے نیویارک اسٹیٹ کی عدالت عظمیٰ میں اپیل دائر کی، وہاں سے فیصلہ حکومت کے حق میں آیا، پھر انہوں نے امریکا کی فیڈرل عدالت عظمیٰ میں اپیل کی، عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ کسی کے مذہبی حقوق پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی، امریکا کی فیڈرل عدالت عظمیٰ کی طرف سے یہ براہِ راست ریلیف تویہود کے لیے تھا، لیکن اس کا فائدہ تمام مذاہب وادیان کے لوگوں کو پہنچے گا۔
وزیرِ داخلہ شیخ رشید احمد عوامی آدمی ہیں، وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے لیے جب وقف ایکٹ پاس ہوا، توبیوروکریسی متحرک ہوئی اور مدارس میں بعض اداروں کے اہلکاروں کی آمد ورفت شروع ہوئی تو اسلام آباد کے علماء نے اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان سے رابطہ کیا، میں نے اُن سے کہا: ’’آپ لوگ راولپنڈی؍ اسلام آباد سے تعلق رکھتے ہیں اور وزیرِ داخلہ کا تعلق بھی انہی جڑواں شہروں سے ہے، اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کے مقامی نمائندوں پر مشتمل وفد بنائیں، وزیرِ داخلہ سے جاکر ملیں اور ان کے سامنے اپنے مسائل پیش کریں، چنانچہ وہ جاکر ملے اور شیخ رشید احمد نے اُنہیں مطمئن کردیا، سیاست دان اور بیوروکریٹ میں یہی فرق ہوتا ہے، شیخ صاحب کا اپنی اسٹوڈنٹس لیڈر شپ اور عملی سیاست کے ابتدائی دور میں علماء سے رابطہ رہا ہے، کسی شاعر نے کہا ہے:
ما و مجنوں ہم سبق بُودیم در دیوانِ عشق
اُو بصحرا رفت و ما در کوچہ ہا رُسوا شدیم
ترجمہ: ’’ہم اور مجنوں مکتبِ عشق میں ہم سبق تھے، پھر وہ صحرا کی طرف نکل گیا اور ہم کوچہ وبازار (یعنی عملی زندگی میں) رسوائیوں کا سامنا کرتے رہے‘‘ اور کسی نے اس شعر کو اس طرح نقل کیا ہے:
ما و مجنوں ہم سفر بودیم در دشتِ جنوں
اُو بہ منزل ہا رسید و ما ہنوز آوارہ ایم
ترجمہ: ’’دشتِ جنوں میں ہم اور مجنوں ہم سفر تھے، پھر وہ اپنی رفعت کی منزلوں تک جا پہنچا اور ہم بدستور منزل کی تلاش میں سرگرداں رہے‘‘، الغرض شیخ رشید احمد سیاست کے کوچوں سے گزرتے ہوئے منزلِ اقتدار میں رونق افروز ہوتے رہے ہیں اور اب وہ علماء کی نگرانی اور فہمائش پر مامور ہیں، وقت وقت کی بات ہے۔
علماء اور دینی مدارس وجامعات کے ذمے داران کو کسی بھی حکومتِ وقت کے ساتھ محاذ آرائی کا کوئی شوق نہیں ہے، سوائے اس کے کہ ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہوں کہ مکالمے اور تفہیم وتفہّم سے مسائل کے حل کا راستہ بند ہو جائے۔ ہم بارہا حکومت کے ذمے داران کو بتاچکے ہیں کہ اتحادِ تنظیماتِ مدارس پاکستان کا کوئی سیاسی ایجنڈا نہیں ہے، یہ اکیڈمک ادارے ہیں، ان کی جائز خواہش ہے کہ آئین وقانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کام کریں، نہ ان کے کام میں رکاوٹ ڈالی جائے اور نہ بلا سبب انہیں پریشان کیا جائے۔ خرابی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ میڈیا میں بیٹھے ہوئے ہمارے لبرل مہربان وقتاً فوقتاً حکومتِ وقت کو اکساتے رہتے ہیں، یہ اُن کے ایجنڈے کا مستقل حصہ ہے۔
3نومبر 2020ء کے بعد امریکا میں داخلی طور پر محاذ آرائی جاری تھی، ساری دنیا اُس طرف متوجہ تھی، سب کو خدشات لاحق تھے کہ آیا وہاں پرامن انتقالِ اقتدار ہوپائے گا یا نہیں، کیونکہ ٹرمپ بائیڈن کی فتح کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھے، الیکشن میں دھاندلی کے الزامات لگارہے تھے، حتیٰ کہ ایسے وقت میں جب صدارتی انتخابی نتائج یعنی الیکٹورل ووٹوں کی توثیق کے لیے کانگریس کا اجلاس ہورہا تھا، بلوائیوں نے کیپٹل ہل پر ایک منظم حملہ کیا، بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کی، پانچ افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوگئے، اس واقعہ نے امریکا اور مغربی دنیا کو ہلاکر رکھ دیا، اس پر میں تفصیلی کالم لکھ چکا ہوں۔
مگر ایسے ماحول میں وائس آف امریکا کے اردو اور پشتو شعبے کے نمائندگان پاکستان کے دینی مدارس وجامعات کے بارے میں ہم سے معلومات حاصل کرنے کے لیے رابطہ کر رہے تھے،
میں نے اُن سے کہا: ’’ابھی تو امریکا مشکل میں گرفتار ہے، پہلے امریکا کے داخلی مسائل حل کرلیجیے، اُس کے بعد پاکستان کے دینی مدارس کی فکر کیجیے گا‘‘۔ اس سے ہمارے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ پاکستان کے دینی مدارس وجامعات کو کنٹرول میں لانا عالمی ایجنڈے کا حصہ ہے اور ایف اے ٹی ایف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے جو قوانین بنائے گئے، اُن میں بھی وقف ایکٹ کا مقصد مدارس ومساجد ہی کو نشانہ بنانا تھا۔
ہم نے بارہا حکومت کے ذمے داران سے گزارش کی ہے کہ جب دینی مدارس وجامعات محکمۂ تعلیم کے ساتھ رجسٹریشن کے ایک مرحلے میں داخل ہوجائیں گے اور ایک مرکزی ڈیٹا خود حکومت کے پاس آجائے گا، تو پھر آپ اس بات کی گارنٹی دیجیے کہ آئے دن مختلف ایجنسیوں کے افراد طرح طرح کے پروفارمے لے کر مدارس کا رخ نہیں کریں گے۔ اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کسی بھی ایجنسی کا کوئی فرد پروفارمے لے کر نہیں آتا۔ یونیورسٹیوں اور انٹرمیڈیٹ و سیکنڈری تعلیمی بورڈوں کے ساتھ اداروں کے الحاق کا ایک نظم موجود ہے، مگر کوئی اتھارٹی بھی اس بات کی گارنٹی دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حکومت کی خواہش ہے کہ دینی مدارس وجامعات کا نظام شفاف ہو اور ہم اس کی تحسین کرتے ہیں، اس کے لیے مناسب طریقہ یہ ہے کہ شیڈول بینکوں میں دینی مدارس وجامعات کے اکائونٹس آسانی سے کھولے جائیں اور پہلے سے کھلے ہوئے اکائونٹس کو نہ بند کیا جائے اور نہ اُن کو آپریٹ کرنے میں رکاوٹیں ڈالی جائیں۔ ہم سے وعدہ کیا جاتا ہے کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا، لیکن عملاً وہی طرزِ عمل جاری وساری رہتا ہے۔ واضح رہے کہ تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان کے دستور میں یہ شق شامل ہے کہ کسی سیاسی جماعت کا عہدیدار تنظیم المدارس کا مرکزی عہدیدار یعنی صدر یا ناظمِ اعلیٰ نہیں بن سکتا، خواہ وہ سیاسی جماعت ہم مسلک ہی ہو۔